U.S, snow storm, Texas, power outage, reality
26 فروری 2021 (11:33) 2021-02-26

ٹیکساس میں اس ہفتے ہونے والی بجلی کی بندش، جس کی وجہ سے متعدد افراد ہلاک اور لاکھوں بجلی یا پینے کے پانی کے بغیر رہے بلکہ بعض مقامات پر کئی دن تک مسائل کا سامنا رہا، کے بارے میں بہت سی بکواس لکھی اور بولی جا رہی ہے۔بکثرت بُرا بھلا کہنے والوں میں ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ بھی شامل تھے، جس نے ہوا کی طاقت اور دیگر قابل تجدید ایندھنوں سے بننے والی بجلی کو مورد الزام ٹھہرایا، اور انتباہ کیا کہ ’’گرین نیو ڈیل‘‘ جیسی تجاویز جو کوئلہ کے استعمال کو روکتی ہیں، دنیا کی ترقی کے خاتمہ کا کم و بیش سبب ثابت ہوں گی۔ ریاست کے ایک سابق گورنر رِک پیری بھی تھے، جن کا کہنا تھا کہ زیادہ قابل تجدید ذرائع کا استعمال آپ کو سوشلزم کی طرف لے جائے گا، اور نمائندہ ڈین کرینشا، جس نے اس تمام حادثے پر لبرلز کے قلعے، جو کیلیفورنیا کے نام سے جانا جاتا ہے، کو مورد الزام ٹھہرایا۔ مسٹر کرینشا نے ٹویٹر پر لکھا، ’’ٹیکساس کی سب سے بڑی غلطی کیلیفورنیا سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع سیکھنا تھا۔‘‘یہ بیانات ترقی پسندوں کے لئے خوش کن تھے، جنہوں نے بنیادی طور پر ریاست کے آزادانہ توانائی کے نظام کو مورد الزام ٹھہرایا، جس کے متعلق ان کا دعویٰ تھا کہ حفاظتی اصولوں کی قیمت پر بجلی کے نرخ کم رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سیاستدانوں میں سے کسی نے بھی اس قسم کی فضول اور احمقانہ گفتگو کے علاوہ ٹیکساس کے ان بیسیوں شہریوں کی کوئی مدد نہیں کی جنہوں نے رگوں میں برف جما دینے والی سردی میں کئی گھنٹے یا دن گزارے۔ انہوں نے بیان بازی سے بجلی کی بندش کی اصل وجوہات کو بھی مبہم کر دیا ہے اور ایک اہم بات سے توجہ ہٹائی ہے: یہ کہ ملک کے توانائی کی فراہمی و ترسیل کے نظام کو، نا صرف ٹیکساس بلکہ امریکا بھر میں، اگر مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچانا ہے تو اس میں بنیادی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ صدر بائیڈن کو یقینا ماحولیاتی تبدیلی کے اس 

سلسلہ کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

دونوں فریقوں نے ٹیکساس کی تاریخ کے ایک مخصوص حصے کو مد نظر رکھا ہے۔ ٹیکساس میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی ابتدا ایک ریپبلک جارج ڈبلیو بش نے کی تھی۔ بطور گورنر، 1999 میں، مسٹر بش نے ریاست کی بجلی کی منڈی کو کھلا چھوڑنے کے ایک قانون پر دستخط کیے، جس کے بعد ٹیکساس میں ونڈ ٹربائنیں لگنا شروع ہوئیں۔ ہوا اب ریاست کی توانائی کی ضروریات کا ایک چوتھائی حصہ فراہم کرتی ہے، قدرتی گیس کا حصہ اس سے دوگنا ہے۔ ٹیکساس اس وقت ملک میں وائنڈ انرجی کا سب سے بڑا جبکہ دنیا کے اہم ترین سب سے فراہم کنندگان میں سے ایک ہے۔

لیکن ہوا، جو سردیوں کے موسم میں بجلی کا ایک محدود حصہ فراہم کرتی ہے، کا اس ہفتے کی تباہی سے بہت کم لینا دینا تھا۔ سیدھی سچی بات یہ ہے کہ ریاست برفانی حملہ کے لئے تیار نہیں تھی۔ برفانی ہواؤں کے باعث کچھ ٹربائنیں منجمد ہو گئیں لیکن وجہ قدرتی گیس سے چلائے جانے والے غیر محفوظ پاور پلانٹ بنے۔ شمالی ریاستوں میں، اس طرح کے پاور پلانٹ چار دیوار میں ہی بنائے جاتے ہیں۔ ٹیکساس میں، جیسا کہ دیگر جنوبی ریاستوں کی طرح، بوائلر اور ٹربائن کو ماحول سے لڑنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔

اس سارے حادثے سے ہمیں دو اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے ملک کے توانائی کے نظاموں میں سخت ترین ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی حدت نے کیلیفورنیا کے جنگلات کو ماچس میں تبدیل کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پچھلے موسم گرما میں جنگل میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اور شدید سردی کے مابین تعلق سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں ہے، لیکن یہ سمجھنا بھی بے وقوفی ہوگا کہ ایسا نہیں ہے۔ (غالب مفروضہ یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ نے ہوا کے دھارے کو کمزور کر دیا ہے جو قطبی بھنور اور اس کی جمتی ہواؤں کو روکتا رہتا تھا۔) جیسے پرنسٹن انرجی ماہر جیسی جینکنز نے حالیہ ٹائمز اوپ ایڈ میں مشاہدہ کیا ہے، ’’ہم جانتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی نے شدید گرمی کی لہروں کی فریکوئنسی میں اضافہ کیا ہے جس سے خشک سالی، جنگل کی آگ، تیز بارش اور ساحلی سیلاب عام ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان واقعات سے کس قدر نقصان ہو سکتا ہے۔ اس فہرست میں اب ہمیں گہرے انجماد کا اضافہ کر لینا چاہئے۔

اگر اس سلسلہ میں لچک پیدا کرنا لازمی امر ہو تو بھی مسٹر جوبائیڈن کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ امریکا کے پاور سسٹم، خاص طور پر گرڈ کے معیار کو اس حد تک لے جایا جائے کہ وہ ناصرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچ بلکہ ان کے خلاف لڑ سکے۔ مسٹر بائیڈن کا ہدف 2050 تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو زیرو اور 2035 تک بجلی کے شعبے سے کوئلہ کے بطور ایندھن استعمال کو ختم کرنا ہے۔ آسان ترین الفاظ میں، اس کا مطلب ایک بہت بڑی سطح پر متعدد اشیاء اور معاملات میں تبدیلی ہو گی جس پر گہری نظر رکھنا ہو گی: بیٹری سے چلنے والی کاروں میں بہت بڑا اضافہ اور ان کے لئے چارج اسٹیشنوں میں اضافہ؛ تیل اور گیس کے بجائے بجلی کے ہیٹروں سے گرم ہونے والے مکانات اور عمارتوں کی تعداد میں ناقابل یقین اضافہ اور خاص طور پر ایک ایسا گرڈ جو اس ساری بجلی کو ہوا اور شمسی جیسے صاف توانائی کے ذرائع سے فراہم کرے۔

اس کے لئے کانگریس کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے آنے والی آفات پر گہری نظر ڈالنے کی ضرورت ہو گی، کیلیفورنیا، کیریبین اور حال ہی میں ٹیکساس جن کا نشانہ بنے ہیں۔ ان آفات سے ہونے والے جانی، مادی اور معاشی نقصانات کا ایک ایماندارانہ تخمینہ لگانا ہو گا، اور آنے والے برسوں میں ایسی کسی بھی صورت حال کے دوبارہ درپیش آنے سے بچنے کی ضرورت ہو گی۔


ای پیپر