جوانی کدھر گئی؟
26 فروری 2021 2021-02-26

قارئین محترم، آپ ہروقت، وقت کو نہ کوسا کریں، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے، کہ وقت کو برا نہ کہا کرو، جو قومیں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں اور مستقبل سے مراد، مستقبل قریب نہیں بلکہ مستقبل بعید کو بھی ملکی مفادات کے منصوبوں کیلئے ناکافی سمجھتے ہیں، ان کی نظر شاید امریکی یا برطانوی منصوبہ جات پر ہے، مگر اپنے برصغیر پاک وہند کے حکمرانوں بادشاہ بابر اور شیر شاہ سوری کو بھول جاتے ہیں، جن کی بنائی ہوئی ہندوستان سے خیبرتک بچھائی ہوئی جرنیلی سڑک ابھی تک قائم ودائم ہے، اور موٹروے کے باوجود، وہ نقل وحمل کا بہترین ذریعہ ہے، آپ کو یاد ہوگا، کچھ عرصہ قبل جب روس نے اپنی اندھی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر لشکر کشی کی تھی۔ تو اس وقت روس کے اپنے حالات کتنے دگرگوں تھے، یا پھر ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں اتنے برے طریقے سے غلط فہمی کا شکار تھے، یہ تو محض اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، لیکن اس وقت پوری دنیا جو جانتی تھی، وہ یہ ہے کہ روس ناقابل شکست ہے، حتیٰ کہ امریکہ بھی اس سے کسی قدر خوف زدہ رہتا تھا، کیونکہ امریکی سی آئی اے خفیہ ایجنسی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے باوجود روس کے اندرونی یخ بستہ راز معلوم کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی تھی، کیونکہ ماضی بعید میں روسی حکمران اس قماش کے تھے، کہ وہ ہمیشہ امریکہ کے خلاف انتہائی تندوتیز بلکہ آگ لگانے والے بیانات دیتے رہتے تھے بلکہ بوقت ضرورت میز پہ مکہ مارنے کے بجائے اقوام متحدہ میں جوتے ماردیتے تھے، ذرا اندازہ کیجئے کہ جوش اور غصے میں جو شخص جوتے ماررہا ہو تو آس پاس کے لوگوں کا بدکنا تو قدرتی امر ہے کہ کہیں جوتے کا شکار قریب بیٹھا ہوا شخص کسی دوسرے ملک کا صدر ہی نہ ہو، اخلاق سے گری ہوئی یہ حرکت سابق روسی صدر خردشیف نے کی تھی، اور ماشاءاللہ اخلاق کا یہ شاندار مظاہرہ اس دور موجود میں عمران خان کے یار باوقار فیصل واوڈابھی ٹی وی پروگرام میں اپنے بوٹ میز پر رکھ کر کروڑوں سامعین کی تضحیک کرچکے ہیں۔ 

اخلاقیات سے عاری، پاکستان کی تاریخ کے ہمارے بلکہ دنیا کے پہلے ”سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر“ کی مثال اتنی چھوٹی نہیں ہے کیونکہ مجھے لکھتے ہوئے شرم آتی ہے، کہ قذافی اسٹیڈیم میں لاکھوں کے بھرے مجمعے میں بہن کی گالی دینا، گالی ہی نہیں سمجھتے تھے، اور انہوں نے ایک موقعے پر جوش خطابت سے مگر سوچے سمجھے، منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کی 1971کی پاک بھارت جنگ کے خاتمے کی قرارداد پھاڑ ڈالی تھی، تاکہ جنگ جاری رہے، اس طرح سے ہمارے مداری حکمران نے اقوام عالم کے مہذب ملکوں کے سامنے ایسا شعبدہ دکھایا کہ تمام دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، کیونکہ جادوگر نے کہا تھا کہ میں قرارداد کے کاغذ کے ٹکڑے تمہارے سامنے پھاڑوں گا میرے اس عمل سے جنگ نہ رکنے سے ایک کی بجائے دو ملک بن جائیں گے، اسی لیے تو وہ شیخ مجیب الرحمن کو کہتے تھے، ادھر مشرقی پاکستان میں تم ادھر ہم مگر ہمارے تو سارے سیاستدان شعبدہ باز ہیں اور اس کی تربیت کے لیے کبھی امریکہ چلے جاتے ہیں، اور کبھی برطانیہ ۔ پاکستان آنے سے پہلے عمران خان بھی امریکہ گئے تھے خیر بڑے لوگوں کی باتیں چھوڑیں‘”لبوں کی شان پان شاپ“ پہ کھڑا شیداٹلی، جس نے پنڈی اسلام آباد کی یخ بستہ ہواﺅں میں، خود کوابھی تو میں جوان ہوں ثابت کرنے کے لیے ململ کا لال کرتی ،میں لال کرتا پہنا ہوتا ہے، سردی سے کانپنے کے باوجود کہتا ہے، فضلو کے پوچھنے پہ مانتا نہیں کہ سردی لگ رہی ہے کہتا ہے پاگل ہوگئے ہو ”جاڑا“ تھوڑی لگ رہا ہے بس کپکپی لگ رہی ہے، کہو تو تمہارے لیے کشمیری چائے منگواﺅں۔ اگر اس نے دوکان پہ پان کا آرڈر دیا ہوتا ہے، تو فوراً دوکاندار کو کہتا ہے، کہ مہمان آگیا ہے بھئی ایک پان کے دو کردو.... مطلب یہ کہ ایک ملک کے دو ملک کردینے والے سیاستدان، مہمان آجانے پہ ایک پان کے بھی دو کردیتے ہیں، اس کے باوجود مگر قوم اس حکمران کے کردار وعمل کو بھی نہ بھولے کہ جس کے سامنے امریکی بھی بھیگی بلی اور مہذب بنے بیٹھے تھے، اور یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ جب تک روس کا وجود رہا، امریکہ اپنی اوقات میں رہا۔ 

 ہمارے اس حکمران نے روس کی افغانستان پہ یلغار پہ شدید ترین احتجاج کرکے اور روس کو کھری کھری دھمکی آمیز بیان دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا، اور اپنی دھمکی کو عملی شکل دے کر روس کو حصوں بخروں میں تقسیم ہو جانے پر مجبور کردیا تھا، روس نے بزور شمشیر جن ملحقہ مسلمان ریاستوں کو اپنے ملک میں شامل کرلیا تھا۔ جن پر نماز پڑھنے قرآن پاک کی تلاوت کرنے، اور مذہبی کتابیں (حدیث )رکھنے پر پابندی تھی، بلکہ ان کی سزاموت مقرر کی ہوئی تھی، الحمد للہ مسلمان بھی اپنے معمولات مسلمانی اپنا کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز ہوگئے اب ہمارے اس صدر کے اس عمل کو نہ تو کوئی جیالا مانتا ہے، اور نہ کوئی کمالا بلکہ وہ تو کہتے ہیں، کہ صدرضیاءالحق کا یہ عمل بہت قابل مذمت ہے، کیونکہ اب تک تو سب حکمرانوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے ملک کو توڑا جائے چاہے کبھی صوبائیت کے نام پہ کبھی لسانیت کے نام پہ، کبھی مذہبی تفاوت پہ کبھی مسلکی بغض وعناد پہ کبھی شخصیت پرستی پہ کبھی کسی کے بہانے پہ ، کبھی کسی کے طعنے پہ کبھی روٹھے ہوﺅں کے منانے پہ، کبھی کسی کے کسی کے ملک سے باہر جانے پہ کبھی رعایا کو مہنگائی کرکے ستانے پہ، کبھی نیب کے صرف ن لیگ کے سیاستدانوں کو بار بار بلانے پہ، کبھی مرے ہوئے کو جیئے کہنے پہ کبھی مسئلہ کشمیر پہ بہانے بنانے پہ کبھی سپہ سالار کو ٹرمپ سے رابطہ کرانے پہ کبھی دوسروں کو پرکھنے کیلئے اپنے پیمانے پہ کبھی بلتستان (بلوچستان) پہ گیارہ افراد کے ایک ساتھ مر جانے پہ ، کبھی رعایا کا دھیان ، بجلی، گیس،ہٹانے پہ کبھی سہولت کاروں کی ہرجائز ناجائز بات مان جانے پہ، کبھی مریم نواز، یا بلاول بھٹو کی تقریر مولانا فضل الرحمان پہلے کرانے پہ، کبھی کالا باغ ڈیم بنانے کے بہانے پہ مگر اس حکمران نے تو بجائے اپنے ملک کو توڑنے کے، حقوق ہمسائیگی کے طریقوں کو فراموش کرکے ہمسایے ملک کو توڑ دیا، حالانکہ ہمسایہ تو اشتراکیت کی رو سے ہرفرد کے حقوق برابر کرنے چلا تھا۔ قدامت پسند اس وقت کے صدر کو ولی خان قوم کو سمجھا سمجھا کر تھک گئے لیکن قوم تھی کہ ٹس سے مس نہیں ہوئی، اب جبکہ افغانستان کے حالات بدل رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کے حالات ویسے کے ویسے ہی نہیں، افغانستان بھی ترقی میں ہم سے آگے ہوگیا ہے، بھوکے اور بنگلہ دیش کے بنگالی بھی اس صورت حال میں بجائے ہماری سوچ تعمیری ہوتی ہم اپنی غلطیاں دوسروں کے سرتھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، وقت ہے کہ تیزی سے گزرتا جارہا ہے جس سرعت سے ماہ وسال گزرتے جارہے ہیں، اسی تیزی سے ملکی تاریخ بھی حرکت پذیر ہے مو¿رخ جب بھی تاریخ لکھے گا، تو کسی بھی صورت میں یہ فقرہ لکھنے سے باز نہیں آئے گا کہ ایسی قوم کہ جس کے جذبوں کو پون صدی میں ، 1965ءاور جہاد افغانستان میں پرکھا جاچکا ہے، کہ اچھی لیڈرشپ کے تحت اس قوم کے ایسے ایسے جوہر کھلے، کہ بظاہر جو ناقابل یقین تھے بھارت کو شکست دی، تو اسی قوم نے روس کوپامال کیا تو اسی قوم اور اسی ملک نے لیکن قوم کا قیمتی وقت برباد ہوا ، تو خود غرض حکمرانوں کے ہاتھوں، کہ جواپنے ذاتی مفادات کے تحت زیرتابع رہ کر قوم کو متحد ومتفق نہ رکھ سکے، اور اس طرح سے وطن عزیز کے قیمتی، بلکہ انمول پچھتر سال گزرنے کے باوجود ہم وہیں کے وہیں ہیں۔ 

قارئین ، اب آپ کو پتہ چل گیا ہوگا، کہ میں آپ سے اپنی جوانی کے بارے میں نہیں پوچھ رہا تھا، کیونکہ مجھے اپنی جوانی کے حساب کتاب اور روز وشب کا بخوبی علم ہے، میری طرح میرے ہم وطنوں کا تو ایک ہی روگ ہے، کہ صدی گزر جانے کے باوجود ہم وہیں کے وہیں ہیں اور صدی گزرے ایسے لگا جیسے لمحوں میں گزر گئی کروڑوں عوام کی ”شام غریباں“ اس وجہ سے ہے کہ پاکستان پہ تو کبھی جوانی آئی ہی نہیں، اس پہ یکدم لاغری اور بڑھاپا کیوں آگیا ؟ بقول قمر جلالوی ، 

پیری سے خم نہیں ہے کمر میں میری قمر 

میں جھک کے دیکھتا ہوں جوانی کدھر گئی


ای پیپر