سرحدیں، کشمیر اور ہم
26 فروری 2020 2020-02-26

پاکستان تو بن گیا مگر سات دہائیوں میں ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ خون کے رشتوں اور ہمسایوں میں مرضی ہوتی ہے اور نہ ہی چننے کا اختیار ہوتا ہے۔ چاہے دونوں ہمسایہ ممالک لڑ تے جھگڑ تے دنیا کے لیے تماشہ بنے رہیں یاپھر پیار و محبت یا مصلحت سے اپنے باہمی مسائل کا حل نکالیں کسی بھی صورت میں نہ تو ہمسایہ تبدیل ہوں گے اور نہ ہی کوئی تیسرا فریق ہمارے باہمی جھگڑوں کو نبٹا سکتا ہے۔

1947 کی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے جو سرحدی لکیریں کھنچی تھیں ان میں موجود محصورات اور ابھارات دنیاکے نقشے پر ایک انوکھی چیز ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی اونچ نیچ ان ٹیڑھی سرحدی لکیروں میں دہائیوں سے حقیقت کا رنگ بھر رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 3230 کلومیٹر کی سرحدی لکیر ہے جس میں 730 کلومیٹر کی لائن آف کنڑول بھی شامل ہے اور اس ساری سرحد پر باڑ لگی ہوئی ہے جس میںبرقی رو دوڑتی ہے جو رات کو رن وے کا منظر پیش کرتی ہے۔ افغانستان کی سرحد پر جاری باڑ لگانے کے عمل سے ہم دنیا کے سب سے زیادہ باڑ ذدہ ملک ہونے کے درجے کو ہمیشہ کے لئے امر کر دیں گے۔

مغرب اور ترقی یافتہ ملکوں نے اپنی سرحدی لکیریں نہ صرف سیدھی رکھیں بلکہ انھیں مدہم کر کے اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہت بلند کردیا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری مشرقی سرحدی لکیروں اور رویوں میں تو کرنٹ دوڑتا ہے اور ہم باڑ کے دونوں طرف بیٹھ کر یلغاری گولہ باری بھی کرتے رہتے ہیں۔ دونوں کو پتہ ہے کہ اس گولہ باری سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا مگر عوام کے جذبات کو اجاگر کرنے اور اپنے آپ کو سیاسی اور عسکری طور پر مربوط رکھنے کے لیے یہ مشق دہائیوں سے جاری ہے۔ دونوں ممالک اب تک ساڑھے تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ حجم سے مبرادونوں ممالک ایٹمی طاقتیں بھی ہیں۔

کیا دونوں ایٹمی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کے لئے ایک روایتی جنگ لڑنے کی ضرورت ہے یا لڑ سکتی ہیں؟ کیا اس جنگ کے نتیجے میں کشمیر کو آزادی مل جائے گی؟ دونوں سوالوں کا جواب منفی ہے۔ حقیقت میں ایک ایٹمی طاقت بننے کے بعد اور پڑوسی ہونے کے ناطے روایتی جنگ جیسے کسی حل کے بارے میں سوچنا بھی کسی حماقت سے کم نہیں ہو گا۔ تاہم جنرل کیانی کے وقت سے لے کر آج تک دونوں ملکوں نے ‘‘کولڈ سٹارٹ’’ کے نام پر کافی چورن عوام میںبیچا ہے۔ ہمیں ابھی تک یہ یقین نہیں ہے کہ ہم دنیا کی سات میں سے ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد کسی بھی روایتی جنگ کے ممکنات سے ہی خاکی وردی کی ضرورت اور افادیت منسلک ہے۔ لہٰذا جنگی ممکنات

کو اجاگر رکھنا ایک مجبوری ہے اور مسئلہ کشمیر اس کی ایک بنیادی اور شاید واحد کڑی ہے۔

درحقیقت مسئلہ کشمیر میں سب سے اہم اور بنیادی فریق تو کشمیری عوام ہیں۔ چاہے پاکستانی اور کشمیری عوام سوچ اور عمل میں ایک ہوں یا ہیں پھر بھی جب تک کشمیر کا بین الاقوامی سطح پر کوئی قابل قبول حل نہیں نکلتااس وقت تک ہمیں دونوں آوازوں میں اخلاقی، جذباتی، حقیقی اور سفارتی تفریق کرنی چاہئے۔ مان لیا کہ پاکستان اور اس کے عوام کی آواز کشمیری عوام اور ا س کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستانی اور کشمیری عوام کے جذبات کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم ’’جیسے ہیں‘‘ کو مقدر اور مجبوری سمجھ کر سرحدی لکیریں مان لیں اور مسئلہ کشمیر کو مصلحت کا کفن پہنا کر دفن کر دیں۔ یہ کم ازکم جذباتی اور اخلاقی طور پر غداری کے زمرے میں آتا ہے جس پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہو سکتا ہے۔

جہاں تک کشمیری عوام کا تعلق ہے 72 سال سے وابستہ کشمیری عوامی امیدیں اب توقعات میں بدل چکی ہیں۔ تا ہم آج کے حالات میں بھارت کے اندر سوچ اور عمل کا ایک خطرناک سلسلہ چل رہا ہے جہاں پاکستان کی مخالفت نہ صرف انتخابی ایجنڈا کا حصہ تھی بلکہ یہ سوچ عمل کا حصہ بھی ہے جو کشمیر میں جاری کرفیو اور متنازع شہریت بل کی صورت میں کروڑوں بھارتی مسلمانوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ مسلمان جس خوف کی فضا میں آج بھارت میں جی رہے ہیں وہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس خوف نے نہ صرف دو قومی نظریے کو ثابت کیا ہے بلکہ بھارت کا وہ چہرہ بے نقاب کیا ہے جو کئی دہائیوں سے ہمارے ہمسائے میں پنپ رہا تھا۔ بھارت کے موجودہ اندرونی حالات اور ماحول کے مدنظر اس سے کسی قسم کی بات چیت ممکن نظر نہیں آتی ہے۔ جنگ دونوں ملکوں کے مفادمیں نہیں اور نا ہی کسی طرع کشمیر کا حل اس سے منسلک ہے۔ ‘‘سٹیٹس کو’’ عوامی جذبات سے مطابقت نہیںرکھتا یعنی آج کے حالات میں ‘‘جہاں ہیں’’ کی بنیاد پر کوئی سمجھوتا کشمیری عوام کی امنگوں کے برعکس ہو گا۔ لہٰذا حقیقت میں ایسے حالات جنہیں سازگار قرار دیا جاسکے وہ بھارت میں اگلے 5 سال تک بدلنے والے نہیں ہیں۔ تب تک دونوں ممالک اپنے عوامی اور عسکری جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے ایک دوسرے کو زچ کرنے، نقصان پہنچانے اورعسکری و سفارتی گولہ باری کرنے کے کسی موقع کو ضائع نہیں کریں گے۔ دوسری طرف پاکستان کے جمہوری منظرنامے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمیں بھی پانچ سال چاہیے تاکہ نہ صرف ہماری معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائے بلکہ جمہوری ادارہ اس پختگی اور بلوغت کی سطح پر آ جائے جہاں فیصلے کا اختیار کشمیری عوام اورپاکستانی جمہوریت قیادت کے ہاتھ میں آجائے تب ہی یہ مسئلہ ایک دیرپا حل کی طرف بڑھے گا۔

میری ذاتی رائے میں مقبوضہ کشمیر اگر لینا ہے تو آزاد کشمیر دینا ہوگا۔ اس اصطلاح پر چل کر ہی مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ ہمیں کشمیری عوام کی آواز دنیا کو سنانا ہوگی۔ جنگ کئے بغیر کشمیر کے مسئلے کاحل ایک بہت ہی کٹھن راستہ ہے۔ جب پاکستان کی جمہوریت اور اسکے اداروں میں طاقت کا توازن صحیح رنگ پکڑے گا اور کشمیری عوام کی آواز دنیا تک جائے گی تبھی مسئلہ کشمیر کے حل کی امید حقیقت کے رنگ میں ڈھلے گی۔

فی الحال ہمیں آزاد کشمیر کو بھارت کی طرز پر اپنا ایک صوبہ بنا دینا چاہیے۔ تاہم طریقہ کار بھارت سے مختلف ہونا چاہئے۔ میری ذاتی رائے میں دنیا کے لیے ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی عوام کے لئے بھی ایک آزاد ریفرنڈم کرا کرجمہوری سوچ کا بین الاقوامی مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا پاکستان ایک مثبت سوچ کے ساتھ ایسا قدم اٹھا سکتا ہے جو ایک طرف مسئلہ کشمیر کو اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر ہمارے حق میں اور مضبوط کر دے اور دوسری طرف بھارت پر بھی دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو بھی اپنے فیصلے کا حق دے۔


ای پیپر