خلیل الرحمن قدم بڑھائو، سب مرد تمہارے ساتھ ہیں
26 فروری 2020 2020-02-26

خلیل الرحمن قمر ایشیا کے سب کے بڑے ڈرامہ نگار ہیں۔ نجی ٹی وی پران کے تحریر کردہ ایک ڈرامے نے ریٹنگ میٹر توڑ کرمقبولیت کی آخری حدوں کو چھوا ہے ۔بقول شخصیات یہ ڈرامہ شہرہ آفاق ’’گیمز آف تھرون‘‘ سے بھی بڑھ کر ہے۔ پوری دنیا میں عورت کی بے وفائی پر فلمیں ٗ ڈرامے بنتے ہیں ٗ ناول لکھے جاتے ہیںاورپاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری توکھڑی ہی عورت کے موضوع پر ہے ۔یہاں ہر ڈرامے میں عورت ہی عورت کا گھر توڑتی نظر آتی ہے ٗ ساس بہو کی لڑائیاں ٗ لڑکیوں کی شادیوں کے مسائل ٗ اچھی لڑکی ٗ بری لڑکی ۔پاکستانی عوام ادب کی کتنی دلدادہ ہے اور ان کے اندر فن کتنا رچا بسا ہے اس کا اندازہ ایک بار پھر اس ڈرامے کی مقبولیت سے ہوا جس کے ڈائیلاگز میں نثری جاشنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایک مکالمے میں ڈرامے کا معصوم اور وفا دار مرد اپنی خوبصورت آوارہ بیوی اڑا لے جانے والے ارب پتی بزنس مین کی کاروباری صلاحیتوں کو چیلنج کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتا ہے کہ’’ اس دو ٹکے کی لڑکی کیلئے آپ مجھے 50ملین دے رہے تھے‘‘۔

ایک جمہوری ملک میں قانون کے اندر رہتے ہوئے جس کا جو دل چاہے وہ لکھ اور بول سکتا ہے اور یہی سمجھ کر ہم نے اس ڈرامے پر کچھ بھی لکھنے یا تبصرہ کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ایک ڈرامہ ہے ۔چینل پر کوئی نیا ڈرامہ ’’ہو گا ‘‘ تو لوگوں کی توجہ بھی بدل جائیگی۔ میرا یہ اندازہ خام ثابت ہوا کیونکہ اس ڈرامہ کے بعد خواتین اور مردوں کے درمیان حقوق کے توازن کو لیکر ملک بھر میں ایک طوفان بپا ہو چکا ہے۔ ’’ مرد مجاد‘‘ خلیل الرحمن قمر نے پاکستان میں مردوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والی عورتوں کیخلاف اعلانیہ جنگ کا اعلان کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ صحافتی بددیانتی ہو گی اگر اس موقع پر اپنے پیٹی بھائی کی مدد کو نہ نکلا جائے جنہوں نے عورتوں کے اس معاشرے میں مظلوم مرد کیلئے آواز بلند کی ہے ۔ خلیل صاحب کو ڈرامہ لکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ پاکستان میں عورتوں اور مردوں کے درمیان حقوق کے توازن کی ایک جنگ جاری ہے۔مختلف انٹرویوز میں سے چند سنہری جملے ملاحظہ کیجئے اور سر دھنئے۔

’’جب 35,36عورتیں اٹھیں تو مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے(مردوں) اور ان (عورتوں) کے درمیان کوئی مسئلہ بھی ہے ۔اگر ہم قربانی کی بات کریں تو مجھ پر یقین کریں مرد پہلے نمبر پر آتا ہے اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ عورت دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ آپ مرد کو بتا رہے ہیں میرا جسم میری مرضی ٗ یہ کوئی موسم کا حال ہے کہ آج آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کے جسم کی کیا مرضی ہے؟۔ عورت جب شک کرتی ہے تو مجھے ہنسی آتی ہے ٗ مرد جب شک کرتا ہے تو مجھے رونا آتا ہے۔اگر مرد سے کبھی بے وقوفی ہو جاتی ہے اس کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے تو رات کو جب صلح ہو جائے تو اس سے پوچھو کہ ’’یہ تھپڑ جو تم نے مجھے اس غلطی پر مارا ہے ایسی ہی غلطی تم کرو اور میں تھپڑ ماروں تو کھا لو گے ؟ اور اگر وہ کہے کہ میں کھالوں گا تو اس سے کھا لو تھپڑ ٗ پھر کوئی مسئلہ نہیں۔اچھی عورت کے پاس انکار کی طاقت ہے اور اچھا ٗ برا کوئی بھی مرد ہو اس کے پاس انکار کی صلاحیت نہیں ہوتی ٗ گناہ مرد کی فطرت ہے ۔ عورت فطرتاً با وفا ہوتی ہے اور مرد فطرتاً بے وفا ہوتا ہے‘‘۔

میں پاکستان کے تمام مردوں کی طرف سے خلیل الرحمن قمر کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہوں اور انہوں نے مردوں کے حقوق کیلئے جو جنگ شروع کی ہے ہم دامے ٗ درمے سخنے ہر طرح سے ان کے ساتھ ہیں۔ پاکستان میں مردوں کی جو حالت ہے سو ہے ٗ معلوم سب کو ہے لیکن بولتا کوئی نہیں۔ کوئی بھی عورت ایک کمرے کا دفتر بنا کر بیٹھ جاتی ہے او ر سب سے پہلے کسی نوجوان ٗ خوبصورت لڑکے کیلئے سیکرٹری کی جاب کا اشتہار اخبار میں دے دیتی ہے۔ ان ایک کمروں کے دفاتر میں معصوم مردوں کا تھوڑی سی تنخواہ پر بدترین جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور کیونکہ خلیل صاحب کے بقول مرد میں انکار کی طاقت نہیں تو وہ ظلم کی اس چکی میں پستا رہتا ہے۔ مرد جب گھر سے نکلتا ہے تو اسے عورتوں کی چبھتی ہوئی نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورتیں شرم و حیا کے پیکر لڑکوں کو دیکھ کر سیٹیاں بجاتی ہیں ۔ ان کے جسموں کو ایکس رے کرنے والی نظروں سے دیکھتی ہیں ٗ سنسان گلی ہو تو کوئی کندھا مار کر نکل جاتی ہے اور بازاروں کے رش میں مردوں کے جسموں کو ٹٹولا جاتا ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے مرد کو جان بوجھ کر پان کھاتی یا سگریٹ پی کر ولگر پنجابی گانے سنتی ڈرائیور گئیر تبدیل کرنے کے بہانے ٹانگوں پر ہاتھ لگاتی ہے۔ کنڈیکٹر ٗ بوڑھے مردوں سے تلخ کلامی کرتی ہے اور اکثر روٹ پرمٹ سے زیادہ پیسے وصول کرتی ہے۔ رکشے والی اکثر اکیلے مردوں کو کمزور جان کر کرایہ طے ہوجانے کے بعد بھی بحث کرتی ہیں ۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں عورتوں نے دیواروں پر پیشاب کر کے گندگی پھیلا رکھی ہے۔ بو سے فٹ پاتھ پر مردوں کا چلنا دشوار ہو جاتا ہے اور اس پر طرفہ تماشا ہے کہ جب کبھی عورت کا دل کرے وہ مردوں کی موجودگی کا لحاظ کئے بغیر کھلی سڑک پر اپنا اٹیچ باتھ سمجھ کر دیوار کے ساتھ پیشاب کرنے بیٹھ جاتی ہے ۔ عورتوں کو ہمیشہ اس وقت خارش یاد آتی ہے جب سامنے کوئی مرد گزر رہا ہو۔

مردوں کیلئے اس معاشرے میں شادیاں اور دوستیاں بھی بڑی مشکل ہیں۔ کوئی خوبصورت مرد دیکھا نہیں کہ کئی لڑکیاں اس کی عاشق بن کر پیچھے پڑ جاتی ہیں۔ تعلیمی اداروں ٗ دفاتر اور خاندانی تقریبات میں معلوم نہیں کیسے خوبصورت مردوں کے نمبر آوارہ لڑکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں اور پھر ہر تین ماہ بعد رانگ کالز سے تنگ آکر بیچارے لڑکوں کو اپنا موبائل نمبر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اگر کہیں غلطی سے کوئی لڑکا کسی لڑکی کے جال میں آ بھی جائے تویہ لڑکی کی مرضی ہے کہ کب تک یہ تعلق چلنا ہے ۔اگر کبھی لڑکا اس رشتے کو ختم کرنے کی کوشش کرے تو تو لڑکیاں پرسنل لمحات کی تصویریں انٹرنیٹ پر شیئر کر دیتی ہیں۔ اس طرح کے کیسز میں اکثر لڑکوں کو خود کشی ہی کرنی پڑتی ہے۔ لڑکی چاہے جیسی بھی ’’عجوبہ‘‘ ہو لیکن اپنے گھر والوں کو وہ چاند ہی لگتی ہے اور جب دل چاہے ایک کال کر کے یہ لڑکے والوں کے گھر کھانے کھانا پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان کے ہر گھر میں بیٹھا کنوارہ لڑکا ناجائے کتنی بار رشتے دیکھنے کیلئے آنے والوں کے ہاتھوں حقارت کا شکار ہوتا ہے ٗ کتنے ہی لڑکے جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھے ہیں اور ان کی داڑھیوں میں چاندی اتر چکی ہے۔یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی لڑکے نے کسی لڑکی کو بھائو نہیں دیا تو اس نے اس کے منہ پر تیزاب پھینک دیا تاکہ اگر وہ اس کا نہیں ہو رہا تو پھر کسی اور کا بھی نہ ہو سکے۔ان تمام مسائل کی موجودگی میں سمجھ سے بالاتر ہے کیسے کوئی مردوں پر ہونے والی زیادتی سے صرف نظر کر سکتا ہے۔

پس تحریر : خلیل صاحب !کالم کیلئے الفاظ کی ایک حد مقرر ہوتی ہے اس لئے اختصار سے ہی مردوں کو درپیش مسائل لکھے ہیں۔ آپ نے موم بتی مافیا کی 35,36 آنٹیوں کیخلاف جو اعلان جنگ کیا اس میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سبق سکھا دیں ان کی عورتوں کو۔


ای پیپر