عہد اور عہد شکنی
26 فروری 2020 2020-02-26

صد شکر! توبہ کے معاملے میں انسان کا معاملہ کسی انسان سے طے نہیں پاتا۔ توبہ ایک عہد ہے اور یہ عہد براہِ راست انسان کا اُس کے خدا کے ساتھ ہے۔ توبہ اُن امور سے ہوتی ہے‘ جن کی ناپسندیدگی خدا نے خود ظاہر کردی ہے، شریعتِ محمدیؐ میں درج اَوامر و نواہی   Do's & Dont'sکا پروٹوکول ہمیں مکمل آگاہی دیتا ہے کہ اعمال و افکار میں کیا چیز اللہ مالک الملک کے حضور پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور کون سے امور ایسے ہیں‘ جنہیں ناپسند کیا جاتا ہے۔ ملکی قوانین توڑنا جرم ہے اور قوانین ِ الٰہی کی پامالی گناہ ہے۔ انسانوں کی دنیا میں جرم کی سزا طے ہے۔ انسانوں کے ہاں جب تک جرم کا گواہ میسر نہ آئے‘ سزا نہیں ملتی۔ اگر گواہ میسر نہ ہوں تو عین ممکن ہے کہ انسان جرم کے ارتکاب کے باوجود سزا سے بچ نکلے، اگر گواہان مل جائیں تو مجرم کی تمام تر ندامت اُسے سزا سے نہیں بچا سکتی۔

سلطنت ِ خداوندی میں لازم نہیں کہ ہر گناہ اپنے منطقی انجام یعنی سزا کو پہنچے۔ انسان ہر چند کہ ُاس کا عکس ہے لیکن انسان کے بنائے ہوئے ضابطے اُس کے قوانین کے برعکس ہیں۔ انسان جب چاہے ‘ پلٹ کر اطاعت کی عافیت میں واپس آسکتا ہے۔ انسان جب چاہے‘ ندامت کے دو آنسو گرا کر نئے سرے سے باوضو ہو سکتا ہے۔ اس نہج پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قولِ بلاغت ہے کہ توبہ روح کا غسل ہے، جتنی بار بھی کرو گے‘ روح ترو تازہ ہو جائے گی۔ احادیث میں ندامت کو توبہ کی شاخ بتایا گیا ہے۔ جو شخص اپنے کیے پر نادم نہیں ہوتا‘ وہ توبہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹا سکے گا۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ گناہ انسان کو برباد نہیں کرتا بلکہ گناہ پر اصرار سے لوگ ہلاک ہوتے ہیں، یعنی جب تک توبہ کی ڈھال موجود ہے ‘گناہ انسان کی روح کو گھائل نہیں کر سکتا۔

جرم انسان کو باہر سے پکڑتا ہے اور گناہ اندر سے گرفت کرتا ہے۔ گناہ انسان سے آئینے میں خود کو دیکھنے کی جرات چھین لیتا ہے۔ اپنی نگاہ سے اپنے چہرے کو دیکھنا ایک باطنی عمل ہے۔ دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھنا یا کیمرے کی آنکھ سے اپنا چہرہ عکس بند کروانے کا منظر کچھ اور ہے۔

گناہ ہر وہ عمل ہے جس سے اللہ اوراُس کے رسولؐ نے منع فرمایا ہے۔ یہ وہ مرض ہے جس کی ابتدا باطن سے ہوتی ہے، اس لیے یہ سب سے پہلے روح کو زخمی کرتا ہے۔ توبہ نہ کی جائے تو اِس کے اثرات بدن اور چہرے پر مرتسم ہونے لگتے ہیں۔ گناہ سب سے پہلے نیت سے شروع ہوتا ہے، اور اس کے مٹانے کی تدبیر بھی سب سے پہلے نیت کے جہان میں کی جاتی ہے۔ گناہ ایک ایسا فساد ہے جو انفس کے جہاں میں نمودار ہوتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بحر و برّ میں پھیل جاتا ہے۔ گناہ چھوڑنے کی تدبیر میں یکلخت یوٹرن لینا ہی انتہائی مناسب تدبیر ہوتی ہے۔ گناہ

چھوڑنے کے باب میں’’بتدریج چھوڑنے‘‘والی ترکیب عام طور پر ناکام ہو جاتی ہے، کیونکہ’’بتدریج‘‘ والے انداز میں کئی مصلحتیں غالب آ جاتی ہیں۔ سب سے بڑی مصلحت کچھ دیر کیلئے نفس کی ہمراہی ہے۔ جب ہم راستہ بھول جاتے ہیں تویاد آنے پر فوراً یوٹرن لیتے ہیں ، ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا کہ ہم چلتے رہیں اور سوچیں کہ بتدریج واپس مڑ جائیں گے۔ توبہ بھی ایک یوٹرن ہے … یعنی پلٹ کر واپس آنا۔ اگر آگ کے انگارے دامن کو جھلسانے لگیں تو ہم فوراً شور مچاتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں، شعلوں سے دوستی نہیں کرتے۔ گناہ کوئی اسٹیرائیڈ نہیں کہ اسے off taper (بتدریج کم) کرنا پڑے۔ گناہ کی دنیا میں داخل ہونا اور گناہ سے ہٹنا انسان کا ذاتی فیصلہ ہے… اسے اس کے اپنے ارادے سے کوئی اور نہیں ہٹا سکتا۔ اجتماعی احکامات نافذ کرنے کی تدبیر البتہ اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے… یہاں تدریج کارگر ہوتی ہے۔

صرف توبہ کے بارے میں ہی کہا جا سکتا ہے کہ it is never too late to mend … اور یہ بھی توبہ ہی کے متعلق درست معلوم ہوتا ہے، A stich in time saves nine۔ یعنی توبہ کا بروقت ٹانکا لباس اور چمڑی دونوں کے مکمل ادھڑ جانے سے بچا سکتا ہے۔

توبہ میں تاخیر انسان کو مزید گنہگار کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ صاحبِ کشف المحجوب حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے مطابق توبہ راہِ سلوک کا پہلا باب ہے۔ گویا توبہ ہی طالبینِ حق کے طلب کے کشکول کو صاف کرنے کا طریقہ ہے۔ صاحبانِ طریقت اس طریق سے کبھی غافل نہیں ہوتے۔

پیدا کرنے والی ذات جانتی ہے کہ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے، شہ رگ سے بھی اقرب ذات جانتی ہے کہ انسان کہاں مجبور ہے اور کہاں آزاد، وہ کہاں لاعلم ہے اور کہاں بدعلمی کی قید میں ہے۔ اس لئے غلطی کے سرزد ہو جانے پر وہ اُسے اپنی خلافت کے منصب کیلئے نااہل نہیں کرتی۔ معصیت ایک مصیبت ہے… اور یہ مصیبت توبہ کی کرشماتی چھڑی سے چھٹ جاتی ہے۔ اِنسان معاف نہیں کرتا، اللہ معاف کر دیتا ہے… اور بار بار معاف کرتا ہے۔ انسان کا ظرف اس کی عقل کی طرح محدود ہے۔ وہ ذات جو لامحدود ہے‘ اُس کا ظرف بھی لامحدود ہے، اُس کا حوصلہ بھی لامحدود ہے… وہ بار بار کی توبہ شکنی پر بھی جزبجز نہیں ہوتی۔ توبہ قبول کرنے کا رجسٹر اگر کسی انسان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ بار بار کی عہد شکنی دیکھ کر توبہ کرنے والے کے منہ پر دے مارتا… کہ یہ کیا مذاق ہے…توبہ ہے کہ مذاقِ توبہ! صد شکر کہ توبہ کا معاملہ انسان اور اس کے خالق و مالک رب کے پاس ہے… اُس کا مذاق بہت ارفع ہے۔ وہ ذات توبہ قبول کرنے کے معاملے انتہائی فراخ ہے کہ بے مثال ہے۔ جب تک زندگی کی مہلت ختم نہیں ہوتی ‘وہ توبہ کی مہلت ختم نہیں کرتا۔

اس باب میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ یوں کلام کیا کرتے‘ بس یہ سمجھو کہ اللہ کو ایک بات سننے کا بہت شوق ہے، وہ بات کیا ہے؟’’ یااللہ! غلطی ہوگئی، معاف کر دے‘‘ آپؒ فرماتے کہ اگر بار بار گناہ کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہو رہی تو بار بار توبہ کرنے میں کیسی شرمندگی؟ سبحان اللہ! ایک عارف باللہ ہی اللہ کے مزاج کی خبر دے سکتا ہے۔ حضرت ابو سعید ابوالخیرؒ ایسے عارف باللہ کہتے ہیں… …اور اس کہنے کے بھی کیا کہنے… مایوسی کے گرداب سے نکال کر امید کے ساحل پر پہنچانے کا ہنر عارفِ حق خوب جانتا ہے۔

باز آ ،باز آ، آنچہ ہستی باز آ

گر کافر و گبر و بت پرستی‘ باز آ

این درگۂ‘ درگۂ نومیدی نیست

صد بار اگر توبہ شکستی‘ باز آ

’’واپس آ جاؤ، واپس آ جاؤ… تم جو بھی ہو، واپس آ جاؤ؛ تم چاہے کافر ہو، مجوسی ہو یا بت پرست ہو، واپس آجاؤ؛ یہ ہماری درگاہ ‘ناامیدی کی درگاہ نہیں ہے؛ اگر سو بار توبہ توڑ چکے ہو تو بھی واپس آ جاؤ‘‘

مفہومِ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ایک بندہ جب توبہ کرتا ہے تو رب تعالیٰ کو اتنی زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص جس کا تمام مال و اسباب اور کھانے پینے کا سامان اور پانی کی چھاگل اس کی سواری پر ہو، اور عین صحرا کے سفر میں اُس کی سواری گم ہو جائے، اور پھر اچانک اُس کی سواری کہیں سے چلتے ہوئے اُس کے پاس آجائے تو جتنی خوشی اُسے ہوگی ‘ تمہارے رب کو اُس سے کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔

بات واضح ہے، یہ کائنات ایک مکان ہے اور انسان اِس کا مکین ہے، اگر مکین متمکن نہ ہو سکے تو مکان کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ انسان جب اپنے رب سے غافل ہوتا ہے تو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ، اور اُس کی اِس غفلت سے رب کاینات کا اُس کیلئے تعمیرشدہ تخلیقی منصوبہ خطرے سے دو چار ہو جاتا ہے، غافل انسان جب توبہ کرتا ہے اور اپنے رب کے پاس پلٹ آتا ہے تو گویا اِس کائناتی منصوبے میں جان پڑ جاتی ہے۔ اِس لیے ربِ کائنات کا اپنے تائب بندے پر مہربان ہونا ایک قدرتی اَمر ہے۔ مقصدِ تخلیقِ کاینات‘ معرفت ِ رب ِ کائنات ہے… توبہ کرنے والا اس مقصد کی تکمیل میں معاون ہوتا ہے۔

رب العالمین اپنے حبیب رحمت اللعالمین ؐ کے صدقے میں ہمیں تائب بھی بنائے ، منیب بھی… اور آخر کار اوّاب بھی!! تائب‘ معصیت سے مغفرت کی طرف پلٹتا ہے… منیب ‘وحشت سے محبت کی طرف… اور اَوّاب ‘خود سے خدا کی طرف پلٹ آتا ہے…انا للہ وانا الیہ راجعون… نفس ِ مطمینہ اِسی درجے کی توبہ کرتا ہے۔


ای پیپر