انڈیا کیخلاف حکومت اور اپوزیشن متحد ہو گئے
26 فروری 2019 (21:55) 2019-02-26

اسلام آباد :قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن جماعتیں نے بھارتی دراندازی کے واقعے پر یکجا ہو گئیں ۔

ان خیالات کا اظہار سید خورشید شاہ، خواجہ آصف، ایاز صادق، سید فخر امام، اسعد محمود، علی محمد خان، مراد سعید، زرتاج گل، امیر حیدر ہوتی، و دیگر حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان نے کیا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے بھارتی دراندازی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت اور پاک فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو اسکی کی زبان میں دوٹوک جواب دیا جائے،پارلیمنٹ اور قومی پاک فوج کیساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح شانہ بشانہ کھڑی ہے، بھارت40کلومیٹر اندر آیا ہے تو ہمیں 80کلومیٹر بھارت کے اندر جانا چاہیے، آج پاکستان کے مستقبل ،سالمیت اور خود مختاری کا مسئلہ ہے، بھارت نے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کو چیلنج کیا ، بھارت کی تاریخ میں آج تک اتنا تنگ نظر لیڈر نہیں گزرا جتنا نریندر مودی ہے، بھارت نے رات کے اندھیرے میں سرحد کی خلاف ورزی کی ، بھارت کو سرپرائز پاکستان سے ملے گا، مودی جنگی جنون پھیلا رہا ہے، یہ نفسیاتی جنگ ہے، پاکستان کو دانشمندانہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے، افواج کے ساتھ قوم ہر طرح کی قربانی کیلئے تیار ہے، ملک کے دفاع کیلئے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،بھارت آگ سے کھیل رہا ہے جس کا انجام اسے بھگتنا ہو گا۔

سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اس اہم گھڑی میں پاکستان کی پوری پارلیمنٹ ،بلا امتیاز سیاسی ،ذاتی ونظریاتی اختلاف اپنی بہادر اور غیور افواج کے جوانوں کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ واشگاف الفاظ میں واضح کر دینا چاہتی ہے کہ مادر وطن کے چپے چپے کا آخری سانس تک دفاع کیا جائے گا ۔حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اسلامی تعاون تنظیم (آو آئی سی)کی جانب سے بھارت کو آمدہ اجلاس میں اعزازی مہمان کے طور پر بلانے کی مذمت کی اور اسے پاکستان کی سفارتی سطح پر ناکامی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اگر او آئی سی بھارت کا دعوت نامہ منسوخ نہ کرے تو پاکستان اجلاس کا بائیکاٹ کرے،او آئی سی میں سشما سوراج کو بلایا جانا پاکستان کی توہین ہے ،سفارتی سطح پرہماری ناکامی ہے ، ہمیں اس معاملے پر او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔


ای پیپر