پاک سعودی تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد
26 دسمبر 2019 2019-12-26

ملائیشیا سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر مختلف حلقوں کی جانب سے پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ عمران خان نے انتخابات سے قبل اپنی خارجی پالیسی کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تمام مسلم ممالک کے ساتھ اسلامی اخوت و اتحاداور برادری کے رشتے مزید مضبوط و مستحکم کریں گے۔ جب سے شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے ولی عہد نامزد ہوئے ہیں تب سے وہ سعودی عرب کا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ مکمل طور پر بدل دینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں جن سے توضیح جھلکتی ہے نہ کہ گریز اور ان کی ان پالیسیوں سے معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں جن کی ساری دنیا میں پذیرائی بھی کی جا رہی ہے۔ محمد بن سلمان چاہتے ہیں جہاں کھل کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہاں کھل کر بہت کچھ کر لیا جائے تا کہ کسی کے ذہن میں کوئی ابہام نہ رہے۔ محمد بن سلمان اپنے ملک کو غیر مستحکم یا غیر متوازن کئے بغیر خطے، اسلامی ممالک اور دنیا کی سیاست میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ مسلم امہ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے، کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان کا مٔوقف ہے کہ اہم مسلم ممالک کے خدشات دور کرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے اور مسلم امہ کو اپنے اختلافات پر غور کر کے متحد ہونا ہو گا ورنہ اسے مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بیشتر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل خاص طور پر امتِ مسلمہ کے معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے امتِ مسلمہ سے یکساں تعلقات کا داعی رہا ہے، چنانچہ پاکستان کسی قضیے کا کبھی حصہ نہیں بنا۔ اب بھی اس کا یہی مؤقف ہے کہ مسلم ممالک کے سربراہوں کو محتاط رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے، غیر ضروری محاذ کھول کر پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے اسلامی ملک کے لئے مزید مشکلات کھڑی نہیں کی جانی چاہئیں۔ مسلم امہ کے مابین تصادم بڑھانے کی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔

سعودی عرب پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن کا مرکز و منبع ہے۔ حرمین و شریفین نے اس سر زمین کو تقدس اور احترام کے اعلیٰ منصب پر سرفراز کر رکھا ہے۔ سعودی عرب سے آنے والی ہواؤں پر گمان گزرتا ہے کہ ان میں تقدس کی لافانی خوشبو اور مہک رچی بسی ہوئی ہے۔ آبِ زمزم کی مٹھاس سے مسلمان ابد تک فیض یاب ہوتے رہیں گے۔ملتِ اسلامیہ کے لئے خانہ کعبہ کی اہمیت کس قدر ہے یہ بات ہر کوئی جانتا ہے، اس اہمیت کے کتنے دشمن ہیں جو اس کی آڑ میں سازشیں سر گرم کئے رکھے ہوئے ہیں اور ان سازشوں کے پسِ پردہ کیا عوامل ہیں ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور ان سے بچنا بھی اتنا ہی افادیت کا حامل ہے۔پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات کا اپنا پس منظر ہے۔ دونوں ملک اس قدر قریب ہیں کہ ایک ساتھ سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ ہماری ہر مصیبت میں سعودی حکومت سب سے پہلے دست و تعاون دراز کرتی ہے۔ پاکستان کے دفاعی مسائل ہوں، معیشت کی زبوں حالی ہو، ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ سعودی عرب کو پاکستان کا مفاد مقدم ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے قلعے کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے اور اسلامی امہ کو پاکستان کے استحکام سے حوصلہ ملتا ہے۔ سعودی عرب کی یہ ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ پاکستان کے استحکام، اس کی آزادی اور خود مختاری پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔

حالیہ دنوں میں ملیشیا سمٹ میں پاکستان کے نہ شرکت کرنے کے حوالے سے پاکستانی رائے عامہ اور میڈیا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور شرکت کے عدم فیصلے کو سعودی دباؤ کا پیش خیمہ قرار دیا جاتا رہا جس کی خود سعودی سفارت خانے نے بھی تردید کی کہا کہ پاک سعودی تعلقات دو طرفہ احترام کی بنیادوں پر قائم ہیں اور دونوں ملک اسلامی صفوں میں اتحاد اور اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات گہرے تزویراتی، اعتماد ، افہام و تفہیم اور باہمی احترام پر قائم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بیشتر علاقائی، عالمی اور بطور خاص امتِ مسلمہ کے معاملات میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو فاصلے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں کامیابی نہیں ہو گی اور باہمی اختلافات اور دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں ناکامی کا سامنا کریں گی۔ اسلامی دنیا ایک درد ناک صورتحال سے گزر رہی ہے، اسلامی ممالک بڑے مشکلات میں ہیں ایسے میں مزید تفرقے ڈالنا کسی صورت بھی مسلم امہ کے لئے مفید نہیں ثابت ہو گا۔ آپس کے اختلافات نے آج امتِ مسلمہ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔


ای پیپر