کرپٹ لوگوں کیلئے سال 2020خطرناک سال ہو گا:وزیر اعظم
26 دسمبر 2019 (18:42) 2019-12-26

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت اپنے داخلی مسائل اور صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر میں کوئی واردات کرسکتا ہے،مودی ہندوستان میں وہ کر رہا ہے جو جرمنی میں ہٹلر نے کیا تھا،2020 کا سال پرانے کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کےلئے مشکل سال ثابت ہو گا ،مافیا کو ڈر ہے اگر حکومت کامیاب ہو گئی تو یہ جیل میں جائیں گے،کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، ملک کو اوپر لے جانا چاہتے ہیں،کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ کرپشن ختم نہیں کرتا ،میانوالی کا پورا علاقہ ریگستان تھا نہر آئی تو پورا علاقہ بدل گیا جبکہ جلال پور نہر پورے علاقے کو بدل دے گی۔

پنڈ دادن خان میں جلال پور نہر کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ مقامی افراد کو کس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر پانی نمکین ہے تاہم اس نہر سے جہلم، پنڈ دادن خان اور خوشاب سمیت سب علاقوں کی تقدیر بدل جائے گی جس پر میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔انہوں نے اس منصوبے کو شروع کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ 120سال پہلے شروع ہونا تھا اور بالآخر عثمان بزدار نے اس منصوبے کو شروع کیا کیونکہ اس طرح کے منصوبوں سے لوگوں کی تقدیریں بدلتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میانوالی کا سارا علاقہ ریگستان تھا لیکن نہرے آتے ہی وہ پورا علاقہ بدل گیا اور انشااللہ جلال پور نہر اس سارے علاقے کو بدلے گی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ یہاں پینے کے پانی کا بہت مسئلہ ہے، یہاں میٹھا پانی نہیں ہے لیکن یہ نہر میٹھا پانی بھی دے گی اور اور پونے2لاکھ ایکڑ زمین کو زرخیز کرے گی۔ وزیر اعظم نے لائن آف کنٹرول پر آج شہید ہونے والے نوجوان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پر جو ہو رہا ہے وہ ایسے ہی نہیں ہو رہا اور خدشہ ظاہر کی کہ بھارت اپنے داخلی مسائل سے دینا کی توجہ ہٹانے کے لیے کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ نریندر مودی نے کشمیر پر واردات کر کے 80لاکھ کشمیری عوام کو جیل میں ڈال کر بند کردیا اور اب اس بات کو 5ماہ ہونے والے ہیں اور میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ نریندر مودی کی آر ایس ایس کی حکومت کشمیر اور اپنے ملک میں مسلمانوں کے حوالے سے منظور کیے گئے قانون سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ آزاد کشمیر پر ضرور کوئی واردات کرےگا۔انہوں نے کہا کہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی اس خدشے آگاہ کر چکا ہوں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ تیار ہیں اور پاکستان مکمل طور پر تیار ہے۔عمران خان نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ اب ہندوستان کے لوگ اب نریندر مودی کے خلاف کھڑے ہوں گے اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو، سکھ اور عیسائی سمیت سب کھڑے ہوں گے۔انہوںنے کہاکہ نریندر مودی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے، پہلے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل کروایا اور پھر کشمیر میں جس طرح کا انہوں نے اسلحہ استعمال کیا اس کے نتیجے میں بچوں کی آنکھیں ضائع ہوئیں، پوری کشمیری قیادت کو نظربند کردیا اور پھر اس کے بعد دو قوانین منظور کر کے بھارت میں موجود 20کروڑ مسلمانوں کے ساتھ واردات کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے عوام جانتے ہیں کہ مودی وہی ظلم مسلمانوں سے کرنے جا رہا ہے جو 70-80سال پہلے جرمنی نے ایڈولف ہٹلر نے یہودیوں پر کیا تھا اور 1982 میں اسی طرح کا قانون میانمار میں شہریوں کی رجسٹریشن کے نام پر ایک قانون لایا گیا تھا جس کے بعد میانمار میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہوا۔عمران خان نے کہا کہ یہ ظلم کا نظام اندر سے ہی ہندوستان کے لوگ ختم کریں اور پاکستان کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔اس موقع پر انہوں نے ملک کو درپیش مالی مشکلات اور بحران پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے سال جو ٹیکس لیا تو اس میں سے آدھا تو گزشتہ حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرض پر سود دینے میں چلا گیا اور ملک چلانے کے لیے ہمارے پاس آدھا پیسہ بچا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا کو جو چیزیں بیچ رہا تھا اور جو چیزیں خرید رہا تھا اس میں تین گنا خسارہ تھا کیونکہ ہم 20ارب ڈالر کی چیزیں بیچ رہے تھے اور دنیا سے 60ارب ڈالر کی چیزیں خرید رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری لیڈرشپ ملک سے پیسہ کر خرچ کر کے ڈالر باہر بھیج رہے تھی جس کے نتیجے میں 30فیصد روپیہ کمزور ہوا اور باہر سے منگوائی جانے والی چیزیں مہنگی ہو گئیں اور اس کی وجہ سے مہنگائی ہوئی۔انہوںنے کہاکہ اللہ کا شکر ہے کہ اب ہمارا روپیہ گرنا رک گیا ہے اور روپے کی قدر بہتر ہو رہی ہے اور پاکستان میں آنے والی ترسیلات زر بڑھ رہی ہے، 2019 میں ہم نے ملک کو مستحکم کیا اور انشااللہ 2020 کا سال ترقی اور نوکریاں دینے کا سال ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2020 کا سال پرانے کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے مشکل سال ثابت ہو گا اور ان لوگوں کے لیے برا وقت آنے والا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ کرپشن ختم نہیں کرتا کیونکہ اسکولوں، نہروں، ہسپتالوں پر خرچ ہونے والا پیسہ لوگوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ چین اس وقت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن انہوں نے ساڑھے400 وزرا کو جیل بھیجا جبکہ امریکا میں بھی کرپٹ لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ جب تک معاشرے میں کرپشن ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک کوئی معاشرہ اوپر نہیں جا سکتا۔


ای پیپر