نواز شریف کو سزا کے بعد ۔۔
26 دسمبر 2018 2018-12-26

جس وقت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کو سزا سنائی جا رہی تھی، میں اس وقت اس جماعت کے گڑھ سمجھے جانے والے شہر اور صوبائی دارالحکومت میں ان کے دفتر میں تھا جہاں مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی کی کچھ تعداد بھی کچھ سو کارکنوں کے ساتھ موجود تھی۔ تاثر یہ رہاکہ مسلم لیگ ن لاہور میں اب مکمل طور پر جناب پرویز ملک کی فیملی پر انحصار کر رہی ہے۔ میں پرویز ملک کو طویل عرصے سے جانتا ہوں ، وہ مشکل ترین وقت میں بھی اپنی جماعت اورقیادت کے ساتھ ڈٹے رہنے کی تاریخ رکھتے ہیں ۔ مجھے مسلم لیگ نون کے دفتر میں وہ نظر آ رہے تھے، ان کی اہلیہ محترمہ شائستہ پرویز ملک تھیں، ان کے بیٹے علی پرویز ملک تھے، لارڈ مئیر لاہور کرنل ریٹائرڈمبشر جاوید تھے، نواز شریف کے روایتی حلقہ انتخاب سے منتخب ہونے والے وحید عالم خان تھے، جاتی امرا کے علاقے سے منتخب ایم پی اے میاں جاوید تھے اور بہت سارے کارکن تھے لیکن اگر ہم حاضری کے مقابلے میں غیر حاضری لگانے پر آجائیں تو ناموں کی تعداد بہت ہے۔

نواز لیگ کو میاںنواز شریف کی سزا سے پہلے صوبے میں ایک اور مشکل کا سامنا کرنا پڑاکہ چودہ اضلاع کے مئیروں نے لاہور ائیرپورٹ پر وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے گلے میں پی ٹی آئی کے پرچم ڈال لئے۔ اگر یہ سوال ہے کہ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے جانے سے نواز لیگ بھی ان ضلعوں میں ختم ہوجائے گی تواس کے دو جواب ہیں، پہلا یہ کہ ان کے جانے سے پیدا ہونے والے فرق سے انکا رنہیں کیا جا سکتا کہ بلدیاتی اداروں کے سربراہ گراس روٹ لیول پر اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ تال میل کے بعد تمام نواز لیگ کو آسانی سے کچلا جا سکے گا ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ رائے عامہ کی ہمواری کے اس دور میں ہر فرد اپنی مستحکم سیاسی رائے رکھتا ہے مگر پولیٹیکل مینجمنٹ وہاں نظر آجاتی ہے جہاں ہم ایک مضبوط صوبائی حلقے میں عتاب کا شکار مسلم لیگ نون کو ایک صوبائی سیٹ بیس ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیتنے کے بعد ضمنی انتخابات میں ہارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

مسلم لیگ نون لاہور کے صدر کہتے ہیں کہ نواز شریف کو سزا ہونے کے بعد پارٹی کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہو گی جو بظاہر غیر منطقی لگتا ہے تاہم ان کی یہ بات درست ہے کہ جب عدالتی فیصلوں کے بارے پہلے سے ہی یقین کا اظہار ہونے لگے کہ ان کی بنیاد مقدمہ، ثبوت اور دلائل نہ ہوں تو وہ فائر بیک کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسے عدالتی فیصلے گذشتہ ساٹھ، ستر برسوں سے ہوتے چلے آ رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کی سیاسی ساخت پر اہم اثرات مرتب کئے ہیں۔ نواز شریف کو سزاکسی کرپشن، کک بیک اور کمیشن کی بنیاد پر نہیں دی گئی، یہ ایک ایسا ہی کمزور فیصلہ ہے جیسا اس سے پہلے ہائی کورٹ میں اپناقانونی جواز، مقام اور افادیت کھو چکا ہے ،اس کے ذریعے ایک پیغام اور تاثر کا اعادہ ہوا ہے کہ مسلم لیگ نون بااختیارفیصلہ سازوں کے لئے ابھی تک ناقابل قبول ہے۔

اس موضوع کی مزید دو شاخیں ہیں، اول ، یہ کہ کیا سیاسی جماعتیں مصنوعی طور پر پیدا کی جا سکتی ہیں تو اس کا جواب تاریخی اور سیاسی حقائق کی روشنی میں ہاں میں ہے مگر دوسرا سبجیکٹیہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتوں کو اس طرح ختم بھی کیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب بھی انہی حقائق کی بنیاد پر سو فیصد ناں میں ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بند گلی میں دھکیل کرختم نہیں کیا جا سکتابلکہ انتہائی الم ناک حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک اور ریاستیں ختم ہوجاتی ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اگر آل انڈیا مسلم لیگ کو راستہ دیا جاتا تو انیس صد سنتالیس میں برصغیر تقسیم نہ ہوتا، اس کا راستہ روکا گیا تو اس نے اپنا ایک الگ راستہ بنا لیا جس کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ جب عوامی لیگ کا آئینی اور جمہوری اقتدار کا راستہ روکا گیا تو اس نے بھی اپنا ایک الگ راستہ بنا یا جس نے بنگلہ دیش کے قیام کی راہ ہموار کی۔ مجھے مجیب الرحمان کے بعد آنے والے سیاستدانوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے کہ انہوں نے اکہتر کے سانحے سے سبق سیکھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ کو جب پھانسی پر لٹکایا گیا تو پارٹی میں دو طرح کے ردعمل سامنے آئے، ایک ردعمل مرتضی بھٹو کا تھا جس نے الذولفقار بنائی مگر دوسرا ردعمل بے نظیر بھٹو کا تھا جس نے سیاسی راستہ چنا۔ نواز شریف کو اقتدار سے الگ کرتے ہوئے پھانسی گھاٹ والا راستہ کھولا گیا تو نواز شریف لبوں کو سیتے ہوئے جلاوطنی اختیار کر گئے مگر انہوں نے مجیب الرحمان والے راستے پر نہیں چُنا۔ جب بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو جلتے ہوئے سندھ میں آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا جو پاکستان پر ایک بڑا احسان تھا ورنہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا ردعمل اتنا شدید تھا کہ بعض سرکاری ادارے آج بارہ برس کے بعد بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں کر پائے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدان کرپٹ ہوتے ہیں اور انہیں کرپشن کے مقدمات میں ہی سزائیں ملتی ہیں مگر مجھے بصد احترام صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ سزائیں صرف ایک مخصوص نکتہ نظر والوں کو ہی ملتی ہیں اور جیسے ہی ان چودہ ڈسٹرکٹ مئیرز کی طرح وفاداریاں تبدیل ہوتی ہیں سب کچھ اچھا ہوجاتا ہے۔ مجھے ان افراد پر کوئی اعتراض نہیں جو جناب عمران خان کی سوچ ، فکر اور جدوجہد پر یقین اور اعتماد رکھتے ہیں اور برسوں سے ان کے ساتھ ہیں مگر وہ لوگ جو اقتدار کے لئے ساتھ آتے ہیں اور کسی عقیدے، نظرئیے اور اصول کی بجائے مال، اقتدار اور طاقت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں تو ان کے بارے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان تو ایک طرف رہے، اگر ملک پر کوئی بیرونی طاقت قبضہ کرے تو یہ گلے میں اس کا پرچم بھی پہن لیں، اسے زمینی حقیقت ہی نہیں بلکہ عوامی مفاد بھی قرار دیں۔

ہمارا آج کا بنیادی سوال اچھائی اور برائی سے ہٹ کے علم سیاسیات اور تاریخ کے طالب علم کے طور پر بہت مختلف ہے کہ نواز شریف کو ملنے والی سزا کا ان کی جماعت کے مستقبل پر کیا اثر ہو گا ، وہ ستر برس کے ہونے والے ہیں اور اہلیہ کی وفات کے بعدطبی اور طبعی تقاضوں کے تحت ایک لمبی اننگزکھیلنا شائد ان کے لئے ممکن نہ رہے۔ شہباز شریف اس وقت بھی راستہ نکالنے کی کوشش میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا سیاسی کردار جیل میں ہونے کے باوجود تسلیم کر لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون بنیادی طورپر مزاحمت کرنے والی جماعت نہیں ہے مگر زرداری صاحب کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے مایوس کن کردار کے بعد اس وقت تمام جمہوریت پسندوں کی امیدوں کا مرکز ضرور بنی ہوئی ہے۔ مخصوص قومی سیاسی مزاج کے باعث نواز لیگ سے کسی انقلابی اور مزاحمتی تحریک کی امید نہیں رکھی جانی چاہئے مگر وہ ذہن سازی بہرحال کر رہی ہے۔ اسی کا دوسرا پہلو کمزور پہلو یہ ہے کہ یہ ذہن سازی تو ایوب خان کے دور سے محترمہ فاطمہ جناح کی مزاحمت سے ہو رہی ہے مگر ہم ابھی تک وہیں کھڑے ہیں۔

حاصل کلام یہی ہے کہ اگراکہتر کے انکار کے بعد عوامی لیگ ختم ہو گئی تھی، ضیا¾ الحق کے مارشل لاءنے پیپلزپارٹی کو ختم کر دیا تھا اورپرویز مشرف نے نواز لیگ کو فنا کر دیا تھا تو یہ جماعت بھی موجودہ دور میں ختم ہو سکتی ہے جسے وہ سول مارشل لا کا نام دے رہی ہے یعنی سیاست اور تاریخ کے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں اس وقت تک یہ ایک ناممکن سی بات ہے جب تک پوری شریف فیملی از خود رضاکارانہ طور پر سیاست سے دستبردار نہ ہوجائے۔ نواز شریف کی سزا نے نظریات کے درمیان لگی ہوئی لکیر کو مزید واضح کر دیا ہے اور پاکستان میں اس وقت سیاست کی نظریاتی تفریق ایک ہی ہے اور وہ اداروں کی سیاست میں مداخلت کی حمایت اور مخالفت ہے۔آخری فقرہ یہ ہے کہ ملک عزیز میں نظریاتی سیاست ایک فضول اور لاحاصل سی مشق ہے مگر کچھ لوگ ہیں کہ باز ہی نہیں آتے۔


ای پیپر