”کینہ اور کمینہ“
26 دسمبر 2018 2018-12-26

قارئین! ہم اکثر جرائد میں اپنی ذہانت کو جانچنے کے لئے ماہرین کے مرتب کردہ سوالات کے جوابات دے کر اپنی عقلمندی کا جائزہ لینے کے لئے وقت صرف کرتے ہیں۔

آج میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم میں سے کون کینہ پرور ہے، اور کون کمینہ ہے؟ گو دونوں الفاظ کے معنی اور مطالب تو ایک ہی جیسے ہیں، مگر کم و بیش ایک جیسے ہونے کے باوجود بھی بولتے وقت، ذہن میں بظاہر کمینہ زیادہ بدتر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ دونوں کم ظرف اوچھا نیچ کے معنوں میں جانے جاتے ہیں۔

آپ ذرا غور کریں اور میں بھی تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کر کے سوچتا ہوں، کہ کیا میں اپنے گھر والوں اور ملازمین کے لئے اتنی گنجائش رکھتا ہوں کہ اگر ان سے کوئی غلطی ہو جائے تو میں انہیں معاف کر دیتا ہوں اور انہیں برابھلا کہتا یا گالی گلوچ پر تو نہیں اتر آتا؟

اور کیا آپ بھی ایسا ہی کرتے ہیں، یا ایک آدھا تھپڑ جڑ دیتے ہیں یا ہجوم میں اکٹھے جاتے ہوئے یا اکٹھے سیڑھی چڑھتے ہوئے کسی کو ”کہنی“ تو نہیں مار دیتے؟ اور کیا

آپ کینہ پرور ہیں یا بندہ پرور ہیں، کینہ پرور ہیں تو پھر آپ لڑکپن بچپن یا جوانی میں کہی گئی کسی بھی شخص، خواہ وہ رشتہ دار ہو، دوست ہو یا حکمران اور سیاستدان ہو کینہ پرور کی ایک سب سے بڑی نشانی تو یہ ہے، کہ اگر آپ بھلکڑ ہیں یا پھر اتنے لاپروا ہیں کہ انٹرویو کے لئے تیار کردہ اپنے جملہ کوائف ڈگریاں اور ڈپلومے نادانستگی میں لفافے میں اس طرح سے پکڑتے ہیں کہ اس کا بند حصہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور انٹرویو کے دوران آپ سے کاغذات دکھانے کے لئے کہا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ لفافے کا بند حصہ آپ کے ہاتھ میں کھلے کا کھلا رہ گیاتھا جیسے آج کل کے منصفان کا منہ احد چیمہ کی تنخواہ کا سن کر کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے اب دور ماضی کے ”بونتر“ اور بھلکڑ کی مثال کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ ان کے محلے کا ایک شخص مویشی منڈی جو شہر سے کچھ فاصلے پر ایک گاﺅں میں لگتی تھی ایک گائے لینے کے لئے گئے چونکہ ان دنوں ہر شہر میں لوگ اپنے دودھ کے حصول کے لئے کہ وہ گھر میں استعمال کر سکیں یا بیچ سکیں تو گھر میں گائے بھینس یا بکری رکھ سکتے ہیں اسی مقصد کے لئے وہ صاحب منڈی میں جا کر ایک بڑی اچھی اور مہنگی گائے خرید کر کے گھر لائے، گائے کے گلے میں بندھی رسی پکڑی، اور آخرکار گھر کے دروازے پر بھی پہنچ گئے گھر میں سے جاتے وقت وہ صحن میں گائے کے باندھنے کے لئے ”کلہ“ بھی ٹھونک کر گئے تھے۔ جب وہ گھر پہنچے اور اس گائے کو جسے مہنگے داموں خرید کر لائے تھے باندھنے لگے چونکہ رسی ان کے ہاتھ میں تھی بچوں نے شور مچایا کہ دادا آپ خالی رسی کو باندھ رہے ہیں گائے کہاں ہے؟ تو بھلکڑ اور حواس باختہ دادا بولا ہا، ہائے اور چھوٹی سی روزمرہ کی گالی دے کر بولے یہ کس.... نے کھول لی ہے؟

قارئین آپ شاید حیران ہوں کہ ایسے لوگ نماز پڑھنا بھی بعض اوقات بھول جاتے ہیں ان کا پیشہ یا عہدہ اور منصب کیا ہے وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں، وہ اپنے گھر کا پتہ بھی بھول جاتے ہیں، ایک دوسرے سے کیا گیا وعدہ بھی بھول جاتے ہیں، جیسے ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب نے بیس بائیس سال سے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ کیا جائے گا، ایک وزیراعظم اور ایک کلرک کا بچہ ایک ہی سلیبس کے مطابق نئے پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں گے لیکن ابھی تک عوام نے اور میں نے اس معجزے کا نظارہ نہیں کیا، بلکہ اگلی دفعہ میں اپنے بچوں کی تعلیم اور ان کی فیس کے فرق کے بارے میں ان شاءاللہ آپ کو بتاﺅں گا۔

میں آپ کو بتا رہا تھا کہ متذکرہ بالا حواس باختہ اخلاق باختہ لوگ اپنی مرضی اور خواہش کی چیز بالکل نہیں بھولتے، اگر ان کا اپنا مفاد ہو تو وہ بالکل ٹھیک وقت پر آپ سے رابطے بھی کرلیتے ہیں فون بھی کر لیتے ہیں یا پھر آپ کے گھر بھی پہنچ جاتے ہیں، بقول شاعر:

اختر وفا میں ضبط سخن بھی ہے لازمی

کیسے کہیں کہ یار نے برباد کر دیا!

گومگو کی کیفیات میں کروڑوں عوام کو مبتلا کر دینا، اور متضاد بیانات جن کے ایک سے زیادہ مطالب نکلتے ہوں بجائے خود ہیجان خیزی بپا کر دینے والی بات ہے، ہمارے ملک میں چونکہ آجکل ریاست مدینہ کی تقلید والی حکومت ہے، اگر تو واقعی ایسا ہے توخدا کے لئے اس اسلامی ریاست میں خلافت کے بعد جب ملت پر ملوکیت کاغلبہ ہوا غالباً اس وقت سے ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت پر عمل پیرا نہیں ہیں، خاتون اول سے مشورہ کر کے خدارا وزیراعظم حضور کے اس فرمان پر عمل کرائیں، بقول حضرت ابوامامہؓ ایک دفعہ آپ عصا کے سہارے ہمارے پاس تشریف لائے، جب ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تعظیم کی خاطر کھڑے ہو گئے، اس پر آپ نے فرمایا کہ تم وہ کام نہ کرو جو اہل فارس اپنے سرداروں کے ساتھ کرتے ہیں، اس پر ہم نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ ہمارے لئے دعا فرمائیں توکتنا اچھا ہوتا آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرما، ہماری مغفرت فرما ہم سے راضی ہو جا ہمیں جنت میں داخل فرما، ہمیں جنت عطا فرما، اور ہمارے تمام معاملات کی اصلاح فرما میں وزیراعظم سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ایک سرکلر جاری فرمائیں کہ سنت پر عمل کرتے ہوئے دفتروں میں بلکہ ہر جگہ تعظیم کے لئے کھڑا ہونے کو ممنوع قرار دے دیں، تو آپ کا قد عوام میں بہت زیادہ ہو جائے گا، اور حضور کا دست مبارک آپ کی پشت پر ہو گا.... میرے سامنے میاں نوازشریف کی سزا کی خبر چل رہی ہے مجھے معلوم ہے کہ عمران خان ”سیدوں“ کی میری طرح بہت عزت کرتے ہیں کچھ عرصے سے میرے آئیڈیل لکھاری اور کالم نگار ریاض آحمد سید ہیں میں اپنی بجائے اللہ دی توکل پر ان کا تبصرہ کافی سمجھتا ہوں فرماتے ہیں میاں صاحبان کی مبینہ چوریوں، ڈکیتیوں، بدعنوانیوں سے میرا کچھ لینا دینا نہیں اگر یہ بہت کچھ واقعی ہوا تو وہ بھگت لیں گے مگر ایک سوال دنوں سے ذہن میں کلبلا رہا ہے، اور یہ کھلا راز بھی ہے کہ لاہور کے چند درجن بڑے مچھلی فروش سیزن کے دنوں اوسطاً پانچ چھ لاکھ کی دیہاڑی لگاتے ہیں بعض تو ملین کو بھی ٹچ کر لیتے ہیں یوں نو، دس کروڑ کا سیزن تو معمولی بات ہے، اور گرمیوں میں نئی نویلی کرولا میں معہ اہل و عیال اور گارڈز شمال کے تفریحی مقامات پر پائے جاتے ہیں، میاں صاحب کے والد محترم نے مع پانچ نفر بھائیوں کے 1935ءمیں لاہور میں زرعی اوزار بنانے والی فونڈری لگائی تھی پچاس برسوں میں کیا وہ اتنا بھی نہ کما سکے، کہ ان کی آل اولاد ایک باعزت زندگی گزار سکتی جبکہ ان کی پہلی فونڈری میں کام کرنے والے بعض مزدوروں کی اولاد کم و بیش میاں صاحبان جیسی زندگی گزار رہی ہے۔

راقم نے ان کو سیاست میں آنے سے پہلے سالگرہ اور شادی کی سلامی لاکھ روپے دیتے ہوئے دیکھا ہے جس کی تصدیق آپ کسی بھی باخبر سے کر سکتے ہیں، میری ان سے آخری دفعہ ملاقات ان کے بھانجے کی شادی پر سعودی عرب جانے سے پہلے ہوئی تھی جس کو بیس پچیس سال ہو گئے ہیں، شاید ہماری فیملی کا اس سے زیادہ تعلق تو نیازی صاحب سے ہے جن کے ثبوت بھی میرے پاس ہیں۔ (جاری ہے)


ای پیپر