طالبان اور افغانستان کا امن
26 اگست 2020 (23:57) 2020-08-26

ملّا عبدالغنی برادر کی قیادت میں طالبان کے دوحا میں مقیم سینئر سیاسی نمائندوں پر مشتمل وفد نے اسلام آباد پہنچ کر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، سیکرٹری وزارت خارجہ سہیل محمود اور وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے افغانستان اور سفیر جناب محمد صادق کے ساتھ مذاکرات مکمل کر لئے ہیں… وزیر خارجہ شاہ محمود نے امید کا اظہار کیا ہے ان مذاکرات کے نتیجے میں مختلف افغان گروہوں کے مابین مفاہمت کی راہ ہموار ہو جائے گی… گزشتہ ماہ فروری کے دوران میں دوحا میں طالبان کی قیادت، امریکی نمائندوں اور کابل کی اشرف غنی حکومت کے درمیان قیام امن کے لئے سمجھوتہ ہوا تھا اس کے تحت کابل انتظامیہ کو طالبان کے پانچ ہزار قیدی آزاد کر کے اپنے ایک ہزار فوجیوں کی رہائی عمل میں لانا تھی… لیکن تین سو بیس طالبان قیدیوں کی رہائی رکاوٹ بنی ہوئی ہے… جس کی وجہ سے سمجھوتے پر پوری طرح عمل نہیں ہو پا رہا… آخرکار گزشتہ ماہ کے دوران اشرف غنی انتظامیہ کے زیراہتمام لویا جرگہ نے ان طالبان قیدیوں کو آزاد کرنے کی بھی منظوری دے دی لیکن تاحال اس پر عمل نہیں ہوا… معاملہ لٹکا ہوا ہے… پاکستان کے دفتر خارجہ میں ہونے والے گزشتہ دو روز کے مذاکرات کے بعد سمجھوتے پر پیش رفت کے بارے میں توقع کا اظہار تو کیا گیا ہے… لیکن طالبان رہنمائوں اور کابل انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا کہ اس رکاوٹ کو کب اور کیسے دور کیا جائے گا… نہ اس بارے میں قطعی آگاہی مل پائی ہے کہ اشرف غنی حکومت تمام تر وعدے اور اپنے نمائندہ جرگے کی اجازت کے باوجود طالبان کے تین سو بیس قیدیوں کی عملاً رہائی پر آمادہ کیوں نہیں ہو رہی… افغانستان میں امریکہ بلاشبہ جنگ ہار چکا ہے… اشرف غنی انتظامیہ امریکی فوجوں کی ہمہ وقت سرپرستی اور حفاظت کے بغیر طالبان کی یلغار کے آگے ٹھہر نہیں سکتی… امریکی صدر ٹرمپ بھی آئندہ ماہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوسری بار اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر انیس سالہ افغان جنگ کے خاتمے اور وہاں پر اپنے فوجیوں کی واپسی کے سخت متمنی ہیں… پاکستان بھی جو ملک افغاناں کا سب سے بااثر ہمسایہ ملک ہے اپنی شمال سرحد پر مستقل امن کے قیام اور بالآخر افغان مہاجرین کی واپسی کی شدید خواہش رکھتا ہے… طالبان اس گھڑی کے انتظار میں برسرپیکار ہیں کہ ارض وطن پر دوبارہ غلبہ حاصل کر لیں گے اور مرضی کی حکومت قائم کریں گے… لیکن اس کے باوجود سمجھوتہ امن ہے کہ ٹھوس پیش رفت نہیں دکھا رہا… تین سو بیس قیدیوں کی رہائی پر رکا ہوا ہے… اصل سبب یہ ہے کابل انتظامیہ کی جان کو لالے پڑے ہوئے ہیں… وہ طالبان سے ٹھوس یقین دہانیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد جو بھی حکومت وجود میں آئے اس میں انہیں مرضی کی نمائندگی حاصل ہو… اقتدار میں حصہ ملے اور طالبان انہیں ہر قسم کی حفاظت کی ضمانت دیں… اسی کی خاطر تمام طاقتور یا سیاسی لحاظ سے اہم افغان فریقین کے درمیان مذاکرات (INTRA AFGHAN DIALOGUE) کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں… لیکن کابل انتظامیہ یا اشرف غنی حکومت غالباً ان مذاکرات کے انعقاد سے پہلے ہی اپنے تحفظ کی خاطر ٹھوس یقین دہانیاں حاصل کرنا چاہتی ہے… طالبان کے تین سو سے زائد قیدیوں کو امکاناً اسی سبب کی بنا پر یرغمالی بنا کر رکھا گیا ہے… اب جو اس موضوع پر طالبان کے سینئر سیاسی نمائندوں اور پاکستان کے وزیر خارجہ سمیت ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں تو کیا پاکستان کابل انتظامیہ اور طالبان قیادت دونوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے سمجھوتے کو ممکن بنانے کی کوشش کرے گا… اس بارے میں جب تک کوئی قطعی اور واضح بات سامنے نہیں آ جاتی قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے…

سرزمین افغانستان پر جاری موجودہ جنگ اور پچھلے تیس سال کی تاریخ مزاحمت پر نگاہ ڈالی جائے تو اس ملک اور اس کی آبادی کو درپیش یہی مسئلہ افغان جہاد کی کامیابی سے لے کر امریکہ کے خلاف موجودہ انیس سالہ گوریلا جنگ تک چلا آ رہا ہے… طالبان وہاں کی سب سے بڑی، مؤثر اور کامیاب مزاحمتی طاقت ہونے کے باوجود نسلی لحاظ سے پشتون ہیں جو  کل آبادی انچاس فیصد ہیں… یعنی واضح اور قطعی اکثریت سے ذرا کم لیکن بہرصورت سب سے بڑی عوامی لڑاکا قوت ہیں… لیکن تمام کی تمام افغان آبادیوں کی نمائندگی بہرصورت نہیں کرتے… یہی 

امر اس ملک کے داخلی اختلافات کی بنیاد بنا ہوا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا… طالبان مجاہدین یا گوریلائوں کی بھاری اکثریت جیسا کہ اوپر کہا گیا تمام تر اسلامی اور جہادی جذبے کے باوجود پشتون ہے… مقابلے میں شمالی افغانستان کی ازبک اور تاجک آبادیاں ہیں جو ملا کر پینتالیس فیصد سے زائد ہیں… بقیہ چھوٹی چھوٹی آبادیاں مثلاً ہزارے (شیعہ) اور دیگر لوگ ہیں… جب اسّی کی دہائی میں سوویت فوجی قبضے کے خلاف افغان جہاد اپنے عروج پر تھا اور طالبان کا کوئی وجود نہیں تھا… اس عہد میں بھی جو تنظیمیں جہادی کارروائیوں میں پیش پیش تھیں اور سوویت افواج قاہرہ کے چھکے چھڑا رہی تھیں ان میں پشتونوں کی سب سے بڑی گوریلا تنظیم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی تھی جبکہ ازبک اور تاجکوں کی جانب سے جہادی کامیابیاں حاصل کرنے والی جماعت پروفیسر برہان الدین ربانی اور ان کے لیجنڈری بھتیج داماد احمد شاہ مسعود کی جمیعۃ اسلامی تھی… سوویت یونین دونوں سے خائف تھا… لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا تھا … گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے مابین سخت رقابت تھی… دونوں کے مابین کئی سمجھوتے ہوئے یا کرائے گئے لیکن کوئی بھی بارآور ثابت نہ ہوا… رقابت بڑھتی چلی گئی اس نے دشمنی کی حدوں کو چھونا شروع کر دیا… سوویت افواج واپس چلی گئیں… جہاد کو اس حد تک کامیابی ملی… لیکن انہی رقابتوں کی بنا پر اندرون افغانستان امن قائم نہ ہو سکا… نتیجہ سخت قسم کی اور تباہ کن خانہ جنگی کی صورت میں سامنے آیا…

نوّے کی دہائی کے آغاز کے سالوں میں طالبان نے اسی خانہ جنگی کی آغوش سے جنم لیا اور چھاتے چلے گئے… ابتدا میں انہیں امریکہ کی آشیرباد حاصل تھی… پاکستان کی ایجنسیوں نے بھی جہادی تنظیموں سے اعراض کر کے طالبان کی تیزی کے ساتھ ابھرتی ہوئی قوت سے امیدیں وابستہ کر لی تھیں… قصہ مختصر 1996ء تک ان کی یلغار اس حد تک بڑھ گئی کہ مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں پاتا تھا… لیکن طالبان کے ساتھ بھی وہی مسئلہ تھا… جیسا کہ عرض کیا گیا ان کا زیادہ تر تعلق پشتون آبادی سے ہے… ازبک اور تاجک باوجود سنّی اور حنفی عقیدہ کے حامل ہونے کے انہیں نسلی لحاظ سے بیگانہ سمجھتے تھے… انہوں نے مقابلے میں اپنی شناخت اور لڑاکا حیثیت برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی… ایک تیسرا فریق بھی تھا جو جہاد افغانستان کے زمانے میں تو دب کر رہ گیا… لیکن ختم کبھی نہ ہوا… بعض میں امریکہ اور بھارت وغیرہ کی مدد سے اپنی پرانی حیثیت منوا لی… یہ ہے شاہ افغانستان کے زمانے کی اشرافیہ… اس دور کی بیوروکریسی کے باقی ماندان مغربی تعلیم یافتہ اور بڑے بڑے تاجر ان میں سے کئی اہم لوگ کنبوں سمیت باہر چلے گئے… لیکن خانہ جنگی کے ماہ و سال میں واپس آنا شروع ہو گئے… مشہور افغان مذہبی پیشوا اور جہادی رہنما پیر صبغت اللہ مجددی (حضرت صاحب)جن کا خاندان شاہ کے دور میں مرجع عقیدت تھا… حضرت صاحب سوویت افواج کے انخلا کے بعد جو پہلی عبوری حکومت بنی اس کے صدر بھی قرار پائے… اگرچہ عملاً اقتدار نہ حاصل کر پا سکے… اس اشرافیہ کے سرپرست اور روحانی قائد تھے… اشرف غنی اور ان سے قبل کابل انتظامیہ کے سابق صدر حامد کرزئی کا تعلق اسی اشرافیہ سے ہے… جنگی نقطہ نظر سے کمزور فریق ہونے کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا… بظاہر برسراقتدار ہے… امریکی افواج کی سرپرستی اور تحفظ بھی اسے حاصل ہے… طالبان کے ساتھ مرضی کے سمجھوتے کی خاطر ان تین سو بیس جنگی قیدیوں کو تمام تر وعدے کے باوجود یرغمالی بنائے ہوئے ہے… اس ساری کہانی سے یہ بات الم نشرح ہو جاتی ہے جب تک طالبان، ازبک اور تاجک آبادیوں کے حقیقی نمائندوں (جنہیں چند برس پہلے تک شمالی اتحاد کا نام دیا جاتا تھا) اور بادشاہ کے زمانے کی اشرافیہ (جس کے اس وقت نمائندے اشرف غنی ہیں) کے مابین پائیدار اور ٹھوس بنیادوں پر قابل عمل سمجھوتہ نہیں ہو جاتا… افغانستان میں امن کا قیام ممکن نہیں… امریکی فوجیں اس سرزمین پر رہیں یا نہ رہیں… 

اس کا تلخ تجربہ پہلے بھی ہو چکا ہے… فروری 1997ء میں جب میاں نوازشریف دوسری بار منتخب ہو کر وزیراعظم بنے… تب طالبان پوری ارض افغانستان پر غالب آ چکے تھے… انہوں نے تمام مخالفین کو زیر کر کے اپنی حکومت بھی قائم کر لی تھی… سعودی عرب اور اس کے معاً بعد متحدہ عرب امارات نے اس حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر لیا تھا… تب امریکہ کو بھی بظاہر ان اقدامات پر کوئی اعتراض نہ تھا… نوازشریف حکومت نے بھی اسے تسلیم کر لیا… اسی سال غالباً اپریل کے مہینے کی بات ہے وزیراعظم نے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد سے کچھ صحافیوں کو ناشتے کی دعوت پر بلایا… ہر ایک سے پوچھا گزشتہ دو ماہ کے دوران ان کی حکومت کا آغاز کیسا رہا ہے اور انہیں کیا مشورہ دیا جا سکتا ہے… ہر ایک نے باری باری اپنی رائے دی… مجھے موقع ملا تو برملا کہا میاں صاحب آپ نے طالبان حکومت کو تسلیم کر کے جلدبازی سے کام لیا ہے… وہ اگرچہ بہت طاقتور دکھائی دیتے ہیں لیکن اندر سے کمزور ہیں اس لئے کہ نصف سے کم آبادی کے حامل ازبک اور تاجک یعنی شمالی اتحاد والے آج بھی ان کے مخالف ہیں کسی وقت بھی خانہ جنگی دوبارہ چھڑ سکتی ہے… اس کے ساتھ میں یہ بھی کہہ گزرا اپنی افغان پالیسی اپنے ہاتھ میں لیجئے… وزیراعظم نے پوچھا کیوں میرے ہاتھ میں کیسے نہیں ہے… میں نے جواب دیا یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں… بات ختم ہو گئی… 1999ء میں جنرل مشرف نے نواز کی جمہوری حکومت پر شب خون مارا… ستمبر 2001ء کو نائن الیون ہو گیا… مشرف نے وہائٹ ہائوس سے ایک کال پر یوٹرن لے لیا… یک دم طالبان کا دشمن بن گیا… پاکستان کے تمام وسائل واحد سپر طاقت کے قدموں ڈھیر کر دیئے… حکم کا بندہ بننے کی وجہ سے سابق الاوّلون کی مانند اس کی اپنی آمریت کو اگرچہ دوام ملا… لیکن امریکی ڈرون حملوں نے پاکستان کے کئی خطوں کو ہوائی دہشت گردی اور بربریت کی نذر کر دیا… دوسری جانب شمالی اتحاد والوں نے بھی امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے کمر کس لی… طالبان تمام تر قوت، طاقت اور اسلحہ کے ذخائر اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کے باوجود اکیلے رہ گئے… پھر جو کچھ ہوا پاکستان اس کے زخم آج تک چاٹ رہا ہے …انیس برس کی تحریک مزاحمت کی بدولت… طالبان ایک مرتبہ پھر فاتح نظر آتے ہیں لیکن اکیلے حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں ہرگز نہیں… لازم ہے انہیں غالب فریق سمجھ کر یقیہ گروہوں کو بھی برضا و رغبت ساتھ ملایا جائے…


ای پیپر