نواز شریف سیاست کا محور کیوں ہیں ؟
26 اگست 2020 (23:57) 2020-08-26

ایسے ماحول میں جب حکومت اپنی سب سے بڑی حریف مریم نواز کے متحرک ہونے سے پریشان ہے وہاں اب سابق وزیر اعظم نے علاج کے ساتھ ساتھ لند ن کے پوش ایریا میں اپنے بیٹے کے دفتر میں جانا شروع کر دیا ہے اور سیاسی سرگرمیاں بھی شروع کر دی ہیں۔ جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ نواز شریف نے مسلم لیگ کی قیادت کی زمام کار خود سنبھال لی ہے۔ قومی اسمبلی میں سپیکر قومی اسمبلی کی کاوش سے مفاہمت کا جو ماحول بنا تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے۔حکومت ملک کی دو بڑی جماعتوں کے ساتھ احتساب میں جو سلوک رکھ رہی ہے۔ اس کو عدالت عظمیٰ پولٹیکل انجنیر کا اشارہ دے چکی ہے۔ اپوزیشن نے قومی مفاد میں قومی اسمبلی کے جو بل پاس کیے تھے۔ان میں نیب کے بارے میں اٹھنے والے عدالتی فیصلے ، پورپین یونین کے تحفطات اور دوسرے عالمی اداروں کی طرف سے احتساب اور نیب پرجو سوالات اٹھے تھے۔اس کو دیکھتے ہوئے نیب قانون میں ترمیم کرنے کے لیے سپیکر قومی اسمبلی نے جو کیمٹی بنائی تھی اس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی تعداد برابر تھی۔جس میں نیب کے ادارے کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے جو ترامیم اپوزیشن نے پیش کی تھی۔جن کو مستر کرنا حکومت کا حق تھا سو اس نے ایسا کر دیا مگر اب تو حکومت نے اپوزیشن سے محاذ آرائی کا ماحول بنا دیا ہے کہ اپوزیشن کے ارکان جو کمیٹی کا حصہ تھے انہوں نے این آر او مانگا اور ان کی لسٹ جاری کردی کہ یہ ہیں وہ لوگ جو این آر او مانگ رہے ہیں افسوس کی بات تو وزیر اطلاعات شبلی فراز کی ہے ان کے والد ساری زندگی جن ہتھکنڈوں کی مخالفت کرتے رہے اب وہ سب کچھ کر رہے ہیں اپوزیشن کب تک احمد فراز کا لحاظ کرے گی جواب تو ان کو دے گی۔ خود وزیر اعظم نے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چار ٹویٹس میں کہا ہے " ’حزب اختلاف نے آج ایوانِ بالا میں فنانس ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق 2 اہم قانونی مسودہ جات انسدادِ منی لانڈرنگ اور آئی سی ٹی وقف بلز کی منظوری رکوائی۔ ۔'ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ اپوزیشن ’جمہوریت کے لبادے میں چھپنے کی کوشش کررہی ہے۔ این آر او کے حصول کے لیے یہ نیب کو کمزور کر رہے ہیں۔

تباہی تو خان صاحب نے خوب پھیلا دی ہے گردشی قرضے جو خاقان عباسی چھوڑ کر گیا تھا وہ بارہ سو ارب تھے اب یہ چوبیس سو ارب ہو چکے ہیں ۔ اندرونی و بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے دو سالوں میں گیارہ ہزار ارب سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ قومی معیشت کو سنبھالنے میں حکومت اعداد شمار سے جو تا ثر دے رہی ہے اس میں جھول ہے۔ عام آدمی سے پو چھو کہ ان کے شب و روز کس اذیت میں گزر رہے ہیں۔ ناکامی کا تا ثر پھیل چکا ہے۔ پوری کابینہ اپنا کام چھوڑ کر نواز شریف کے پیچھے ہے۔ بے شک وہ تا حیات نا اہل ہے مگر ان پر کرشن کے الزام پر عوام نواز شریف سے محبت کرتے ہیں۔ کابینہ کی حالیہ میٹنگ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ سال العزیزیہ ریفرنس کیس میں 29 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت ملی اور 16 

نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ نواز شریف کے حوالے سے حکومت عدالت سے رائے ضرور لے گی ہو سکتا ہے ایک دو دن میں وہ عدالت میں چلی جائے۔ لیکن نواز شریف اس بار بھی عدالت کا حکم مانے گا اور وہ اپنا علاج چھوڑ کر پاکستان آسکتا ہے۔ مگر نواز شریف عدالت سے یہ پوچھتا رہے گا کہ مجھے کیوں نکا تھا؟ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں" منصف اعلیٰ 

"بابے رحمتے کا دورکس عنوان سے یاد کیا جائے گا۔ آج وہ اگر پاکستان میں ہوتے تو ان سے ضرور پوچھتے کہ ان کے عہد منصفی میں کچھ ایسے فیصلے ہوئے جن پر اب سوال اٹھ رہے ہیں۔ نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے لیے دو جگہ پر مقدمہ چلا ،ایک مقدمے کا فیصلہ میڈیا نے کیا۔ جب عدالت عظمیٰ میں نواز شریف کاٹرائل ہو رہا تھا تو میڈیا نواز شریف کو مقدمے میں روزانہ سزا سنا کر سوتا تھا۔ پھر عدالت عظمیٰ کے احاطے میں پی ٹی آئی کے لیڈروں کے ہاتھوں مقدمے کی سماعت کے دوران نواز شریف کی کردار کشی ہوتی رہی مگر بابا رحمتے نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ جس کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا وہ مقدمہ نچلی عدالت میں چلنا تھا، نواز شریف کو نااہل کرکے ان کے حق انصاف کو پامال کیا گیا۔ نہ وہ نچلی عدالت میں گئے اور نہ ہائی کورٹ ، توہین عدالت میں ایک جماعت کو ہی سزا ملی۔ نااہل ہونے کے بعد نواز شریف پوچھتے رہے" انہیں کیوں نکالا" ایک نعرہ بھی نواز شریف نے دیا تھا" ووٹ کو عزت دو" اس نعرے کو لے کر نواز شریف نے جی ٹی روڑ پر ایک پاور فل شو کیا۔ نواز شریف کی کردار کشی اور اقتدار سے نکالنے کے باوجود نواز شریف پاکستان کی سیاست سے نہیں نکل سکے اس کا احساس سب کو ہے ، نواز شریف پارٹی صدر نہ ہو وہ عوام میں مقبول ہے وہ ہی جماعت کا لیڈر ہے۔عدالت کے فیصلے سے نواز شریف وزیر اعظم کے عہدے سے تو ہٹ گیا مگر عدالتوں میں ان کا نام مقدمات کی صورت میں آج بھی گونج رہا ہے۔ مگر آج با با رحمتے پاکستان میں ہوتے تو ان سے ضرور پوچھتے ایک شخص کو آپ نے صادق اور امین کی سند عطا فرمائی تھی۔ آپ کے عہد میں وہ پاکستان کا وزیر اعظم بن گیا۔ ان کے اقتدار کے دو سنہری سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آپ کے عہد میں 2018کے انتخاب ہوئے۔ رزلٹ آنا شروع ہوئے پانسہ دوسری طرف پلٹ رہا تھا۔اچانک الیکشن کمشن کی طرف سے بنایا گیا جدید سسٹم بند ہوگیا۔یہ عمل اس وقت تک رکا رہا جب سب اچھا نہیں ہو گیا۔با با رحمتے صاحب آپ بھی اس دوران الیکشن کمشن کو تلاش کرتے رہے۔ وہ رزلٹ جاری کرنے کی بجائے کیا کر رہے تھے۔پولنگ ایجنٹوں کو بھگا دیا گیا۔اپوزشن نے شور مچایا۔الیکشن کمشن کے سامنے تمام اپوزیشن جماعتوں نے ایک زبان ہوکر تحفظات کا اظہار کیا۔ 

پاکستانی اور غیر ملکی عوامی رائے کے جائزوں کو دیکھا جائے تو مقبولیت میں تو نواز شریف آگے ہی نہیں بہت آگے ہے۔ نواز شریف لندن علاج کے لیے گئے۔ تو ان کی تصویروں اور لندن کی سڑکوں پر گھومنے اور کافی شاپ جانے پر جناب عمران خان خود اور ان کے ترجمان پریشان ہیں۔ جب نواز شریف کو لندن بھیجا جا رہا تھا تو اس وقت برطانیہ کے ادارے کی جانب سے پوچھا گیا تھا حضور بتائیے گا ایک سزا یافتہ شخص علاج کے لیے لندن کیوں آرہا ہے۔ نواز شریف کے بارے میں حکومت اس لیے پریشان ہے کہ اگر کوئی ڈیل تھی اس کا قصہ تمام ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے 24 اکتوبر 2019 کو دوپہر کے تین بجکر 25منٹ پر ٹویٹ کیا تحا جس کا متن تھا "سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔’’ مگر جب نواز شریف لندن جانے کے لیے ایمولینس پر سوار ہو رہے تھے نواز شریف کو سیڑھیوں پر اپنے قدموں پر سوار ہوتے ہوئے وزیراعظم پریشان ہو گئے۔ نواز شریف کے لندن پہنچنے کے موقع پر ان کے بیٹے حسین نواز نے اس بات کو دہرایا تھا کہ اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے کہ ان کے والد کے خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی کی وجہ زہر خورانی تو نہیں نواز شریف لندن میں تھے حکمران ایک لفظ نواز شریف کے بارے میں نہ بولے جس کے جواب میں نواز شریف اور مریم نے سیاسی معاملات پر خاموشی اختیار کر لی۔ اب نواز شریف کی خاموشی ختم ہو گئی ہے اور ان کی سزا کے خلاف ستمبر میں مقدمہ شروع ہونے والا ہے۔ ستمر کا مہینہ تو ویسے ستمگر ہوتا ہے۔


ای پیپر