کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس کا سراب
26 اگست 2020 2020-08-26

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئیٹ کی ہے، ”پاکستان کی معیشت ماشاءاللہ درست راہ پر گامزن ہے۔ جولائی 2019 میں613 ملین ڈالرز اور جون 2020 میں 100 ملین ڈالرز کے خسارے کے بعد صورتحال سنبھل گئی ہے چنانچہ جولائی 2020 میں کرنٹ اکاو¿نٹ میں 424 ملین ڈالرز اضافی (سرپلس) جمع ہو چکے ہیں“۔ ملکی معیشت کے بارے میں ہر اشاریہ اہم ہے اور جہاں سے بھی بہتری آئے اس کو خوش آمدید کہنا چاہئے مگر کیا یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ اشاریہ اپنی اہمیت میں کس درجے پر ہے اور اس کے ساتھ باقی اشاریے کیا ظاہر کر رہے ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک ہوتا ہے جھوٹ، دوسرا ہوتا ہے سفید جھوٹ، اسی جھوٹ کا اگلا درجہ اعداد وشمار کہلاتا ہے۔

سب سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس کیا ہوتاہے۔ کسی بھی ملک کی درآمدات اور برآمدات کا فرق اس ملک کا کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس تخلیق کرتا ہے، ایک ملتی جلتی تعریف کے مطابق بالکل اسی طرح جیسے کسی ایک شخص کی کمائی اور خرچ کا اکاو¿نٹ۔ اگر آپ زیادہ وصول کر رہے ہیں اور کم خرچ کر رہے ہیں تو یہ ایک اچھی علامت ہے مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ زیادہ کیسے وصول کر رہے ہیں اور کم کیسے خرچ کر رہے ہیں۔واضح کر لیجئے کہ کرنٹ اکاو¿نٹ کا سرپلس ہونا صرف ترقی یافتہ ممالک کے لئے اہم ہے، غریب اور ترقی پذیر ممالک اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ بسا اوقات نقصان اٹھاتے ہیں جس کے بارے اس وقت اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سادہ مثال یوں لیجئے کہ آپ اپنے رہنے کے لئے گھر بنا رہے ہیں، بنک سے قرض لے کر اپنا کاروبار بنا رہے ہیں، کوئی کارخانہ لگا رہے ہیں تو آپ کاکرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس یقینی طور پر نفی میں ہوگا کیونکہ آپ خرچ کر رہے ہیں۔ یہی حال ممالک کا ہے کہ جب وہ بجلی کے کارخانے لگاتے ہیں، ایسی موٹرویز بناتے ہیں جو دور دراز کے علاقوں میں ایسے زندگی بھر دیتی ہیں جیسے لہو کی رگیں، آپ فیکٹریاں لگاتے ہیں تو اس کے لئے مشینری امپورٹ ہوتی ہے، آپ سی پیک جیسے منصوبے بناتے ہیں تواس کے بھاری انفراسٹرکچر کی مد میں ادائیگیاں ہوتی ہیں تو ایسے میں آپ یقینی طور پر خسارے میں چلے جاتے ہیں مگر اکاو¿نٹ کا یہ خسارہ ایک آنے والے بہترین کل کی ضمانت دے رہا ہوتا ہے جب آپ اسی بجلی سے اپنے کارخانوں کے پہئے چلاتے ہیں، اس سے مال بناتے ہیں، ان میں روزگار دیتے ہیں اور یوں آپ فرد کی ہی نہیں بلکہ پوری ریاست کی ترقی میں بھی حصے دار بن جاتے ہیں۔

ہمارا کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس سرپلس ہونے کی تین بڑی وجوہات ہیں، پہلی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے امپورٹس پر بہت زیادہ سختی کر دی ہے جس کی مثال امپورٹڈ گاڑیوں کو لانا تقریباً ناممکن بنا دینا ہے ۔ اس کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ شہری ان مینوفیکچررز کے ہاتھوں یرغمال بن گئے ہیں جو یہاں صرف گاڑی اسمبل کرتے ہیںیوں تین ،چار برس پہلے جو گاڑی بارہ لاکھ کی تھی وہ اب بیس لاکھ کی ہوچکی ہے کیونکہ قیمتیں اور معیار کنٹرول کئے بغیر صارف کو غیر معیار گاڑیاں خریدنے پرمجبور کر دیا گیا ہے۔ حال یہ ہے کہ جو ہزار سی سی چھوٹی کار انڈیا میں گیارہ سے بارہ لاکھ پاکستانی روپوں میں مل جاتی ہے وہ یہاںا ٹھارہ سے انیس لاکھ کی ہے۔ یہاں حکومت نے شہریوں کا ہی نہیں بلکہ امپورٹ ڈیوٹی کی مد میں اپنا بھی بڑا نقصان کیا ہے ۔ بات صرف کاروں کی نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی امپورٹ رک گئی ہے یعنی کسی بھی طرح کی مشینری نہیں آ رہی اور جب آنہیں رہی تو لگ بھی نہیں رہی۔ آ بادی بڑھتی جا رہی ہے اور اگر ہماری انڈسٹری آگے نہیں بڑھتی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزگار نہیںملے گا اور جس ساٹھ فیصد یوتھ کو ہم اپنا سرمایہ کہہ رہے ہیں یہ سب سے بڑا بوجھ اور سب سے بڑا ڈائنامائیٹ بن جائے گی۔ ہم نے بے روزگار نوجوانوں کو جرائم اور دہشت گردی کی طرف جاتے دیکھا ہے۔

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ اگر امپورٹس پر پابندی کے نتیجے میں ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے تو یہ اچھا اقدام ہے مگر کیا واقعی صورتحال ایسی ہے۔ جناب عمران خان اپنے ٹوئیٹ کے اگلے حصے میں کہتے ہیں، ” صورتحال میں یہ ٹھوس بہتری برآمدات جو جون 2020 کی نسبت 20 فیصد زیادہ رہیں، کی مسلسل بحالی ریکارڈ ترسیلات زر کا نتیجہ ہے“۔ میں پھر کہوں گا کہ بعض اوقات اعدادوشمار کھلا دھوکا دیتے ہیں جیسے ہم یہ کہیں کہ ہماری معیشت نے گذشتہ مہینے میں دوگنا بلکہ چار گنارفتار سے ترقی کی اور یہ نہ بتائیں کہ ہمارا گروتھ ریٹ جو 5.8 تھا وہ منفی0.4 تک پہنچ گیا اور جب سنبھلا تو واپس 1.8 تک پہنچا۔ بات تو درست ہے کہ گرنے کے بعد اٹھنے میں تیز ترقی ہوئی مگر اصل میں کہاں تھے اور کہاں پہنچے، یہ بات سمجھنے والی ہے۔ یہ اعداد و شمار اسی طرح ہیں جیسے آپ کو یہ کہا جائے کہ آپ کا ایک پاو¿ں برف کی سل پر اور دوسرا آگ کے گولے پر ہے تو اوسطاً آپ مزے میں ہیں۔ بار بار کہہ رہا ہوں کہ یہ سمجھیے کہ کیا تمام اعداد و شمار ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں یا کسی ایک ذریعے کوئی غلط تصویر دکھائی جا رہی ہے۔ جناب عمران خان کا دعویٰ درست ہوتا اگر ہماری قومی پیداوار بھی بڑھ رہی ہوتی تو ہم برآمدات کے اضافے کا جشن مناتے ۔ کسی بھی ملک کی برآمدات اس کی لارج سکیل پروڈکشن کا نتیجہ ہوتی ہیں اور پاکستان میں اس کی صورتحال تشویشناک ہے۔ گزشتہ دس برس کا جائزہ لیجئے، 2011-12 میں لارج سکیل پروڈکشن 1.17 فیصد تھی جو 2016-17 میں اپنے عروج یعنی 5.68 پر پہنچی۔ موجودہ حکومت کے قائم ہونے کے ایک برس کے بعد یہ مائنس سے بھی نیچے گئی اورمنفی 2.28 ہو گئی اور تبدیلی کے دوسرے برس یہ تبدیل ہوتی ہوئی پیداواری تاریخ کی اتھاہ گہرائیوں میں مائنس10.17 فیصد پر پہنچ چکی ہے یعنی کم و بیش چھ سے سات گنا کم، تو ایسے میں برآمدات کیسے بڑھیں، اس کے بارے میں جناب عمران خان ہی اپنی اکنامکس سے کچھ بتا سکتے ہیں۔

کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس سرپلس ہونے کی تیسری وجہ بہت خوفناک ہے اور آنے والے دنوں کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہوا کچھ یوں ہے کہ ایک طرف ہماری حکومت کی ایسی خارجہ پالیسی ہے جس نے سب کو ہی ناراض کرنے کا کمال کیا ہے تو دوسری طرف کرونا ہے جس نے ہزاروں نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار اور کاروبار چھین لیا ہے۔ اب وہ خلیجی ممالک سمیت دیگر جگہوں سے جوق در جوق واپس آ رہے ہیں مگر یہ وہ واپسی نہیں ہے جس کے بارے میں عمران خان نے اپنی کنٹینر کی تقریروں میں دعویٰ کیا تھا۔ یہ مجبوری کی واپسی ہے۔ وہ فلائٹس کھلنے کے بعد اپنے زندگی بھر کے سرمائے کے ساتھ واپس آ رہے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے مہینوںمیں پاکستان کو بیرون ملک پاکستانیوں سے ملنے والے زرمبادلہ سے ہاتھ دھونے پڑ یں گے یعنی یہ وقتی کامیابی ہے۔ اسی طرح کی کامیابی جیسے کوئی اپنا چلتا ہوا کاروبار بیچ کر کہے کہ اس نے بہت کمائی کر لی ہے۔

سمجھ لیجئے کہ ملکی معیشت اور عام شہریوں کے لئے کرنٹ اکاو¿نٹ بیلنس کا سرپلس ہونا اسی صورت میں فائدہ مند ہے جب جی ڈی پی بڑھ رہی ہو، جب لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہو رہا ہو، جب گروتھ ریٹ بھی ساتھ ہی اوپر جا رہا ہواور سب سے بڑھ کر عام شہریوں کی فی کس آمدن میں بڑھوتری ہو تو اس کامیابی کو خوش آمدید کہنا چاہئے اور اگر یہ سب اس کو سپورٹ نہ کررہے ہوں توجان لیجئے کہ یہ ایک بڑا سراب ہے۔ آپ سراب بارے جانتے ہیں کہ صحرا میں بھٹکتے شخص کو یہ نظرآتاہے کہ سامنے ریت پر بہت سارا ٹھنڈا میٹھا پانی چمک رہاہے۔ وہ پیاس سے بلکتا وہاں پہنچتا تو وہاں صرف تپتی ریت ہوتی ہے۔ صحراو¿ں کے رہنے والے بتاتے ہیں کہ بہت سارے لوگ اسی سراب کے ہاتھوں بے کسی اوربے بسی کی موت مارے جاتے ہیں۔ آئیے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم پاکستانیوں پر اپنا کرم کریں۔


ای پیپر