ڈیجیٹل لائف اور ہمارا زوال
26 اگست 2020 2020-08-26

 خبرشائع ہوئی ہے کہ پب جی گیم کھیلنے سے منع کرنے اور موبائل نہ ملنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی۔ اس سے قبل بھی اسی طرح کے تین نوجوان خودکشی کرچکے ہیں۔ دیکھنے میں تو مصروفیت کا بہترین حل موبائل کا استعمال ہے مگر ہمارے ہاں تو ساری قوم ٹچ موبائل کے ساتھ منسلک ہوچکی ہے۔ آپ کسی کو فون کرنے کے لیے موبائل فون ہاتھ میں لیں تو سوشل میڈیا آپ کو فی الفور اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وٹس ایپ، ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب کی نئی تازہ دیکھنے کے لیے آپ ساری ایپلیکیشن سے چپک جائیں گے اور وقت کا احساس ہی نہ رہے گا گھنٹہ بھر کے بعد آپ کے ”اعصاب “ شل ہوجائیں گے تو آپ موبائل بند کرکے رکھ دیں گے اور آپ کی وہ ضروری” کال“ دھری کی دھری رہ جائے گی۔ 

اس موبائل کی مصروفیت نے محفلوں کو اجاڑ دیاہے۔ اب یارلوگ محافل میں بھی ایک دوسرے سے بات چیت کے بجائے اپنے اپنے موبائل میں گم رہنے لگے ہیں۔ اب تو کوئی بھی کام کیا جارہا ہے تو موبائل بھی ساتھ ساتھ دیکھا جارہا ہوتا ہے۔ موبائل کے بخار سے اب کوئی بھی شخص، بچہ بوڑھا نوجوان عورت مرد محفوظ نہیں ہے۔ خواتین ڈرامے دیکھتے ہوئے بھی موبائل میں بھی مصروف رہتی ہیں۔ اس کارلاحاصل میں وہ اس قدر منہمک ہوتی ہیں کہ انہیں اپنے چھوٹے بچوں کی بھی پروا نہیں ہوتی بلکہ بعض تو بچوں کے رونے پر یا انہیں الگ سے مصروف رکھنے کے لیے ایک موبائل ان کے ہاتھ میں بھی دے دیتی ہیں تاکہ بچہ ان کی مصروفیت میں مخل نہ ہو۔ 

نوجوان حضرات کو بھی ٹک ٹاک، یوٹیوب ، فیس بک ٹویٹر سے ایک لمحے کی فرصت نہیں۔ بیشتر مختلف گیمز میں ایسے چپکے ہوتے ہیں کہ اردگرد سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ انہیں آس پاس کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔ ترکی ڈرامے نے بھی بعض نوجوانوں کو بدحال کررکھا ہے وہ ایک روز میں کئی کئی اقساط دیکھتے ہیں جس سے ان کی آنکھیں اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں، کھانے پینے کی بے احتیاطی یعنی وقت پر خوراک نہ ملنے کے باعث ان کی صحت خراب ہورہی ہے۔ وہ دیکھنے میں مریضوں کی طرح لگتے ہیں۔ مسلسل سکرین سے چمٹے رہنے سے بصارت معدوم ہونے لگتی ہے۔ بھوک کم ہونے لگتی ہے۔ پھر فیس بک وغیرہ سے چونکہ ساری دنیا ایک بازار کی شکل میں ڈھل چکی ہے، وہ اپنے دوستوں اور ہم عمر افراد کے بارے میں یہ جان کر کہ وہ ترقی کر گئے ہیں، مزید ڈپریشن کا شکار ہورہے ہیں، ایک عجیب مردنی سے ہر چہرے پر دکھائی دیتی ہے۔ آن لائن شاپنگ کی بیماری سے بھی معاشرے میں ایک سہل پسندی اور بیزاری سی پھیل رہی ہے۔ بعض اوقات غیر ضروری اشیاءاور ادویات بھی منگوالی جاتی ہیں۔ آن لائن شاپنگ سے، ڈیلیوری گھر پر ہوتی ہے سواگر کوئی چیز خراب ہے یا کم تردرجے کی ہے تو اس کا ازالہ بھی نہیں ہوتا بہت کم کمپنیاں بہتر اشیاءکی ضمانت دیتی ہیں۔ 

فیس بک کے کمنٹس پر بھی دوست جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں، کیمرے نے بھی ہماری زندگی اجیرن کردی ہے اب ہرمنظر کو فلمبند کرنا ہم اپنااولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ ایک شخص اگر آگ میں جل رہا ہے تو اسے بچانے کے بجائے لوگ اس کی عکس بندی میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ اپنی تصاویر اپ لوڈ کرنے میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ سیلفی سے بھلے ہماری صورت اچھی نہ لگے مگر ہم یہ کام ضرور کرتے ہیں۔ کھانے پینے سے لے کر اپنی ہرمصروفیت کی فلم بندی کو ضروری سمجھ کر ساری دنیا کو دکھاتے ہیں۔ ٹک ٹاک سے ہرشخص کے اندر کا اداکار، گلوکار باہر آچکا ہے۔ بچے بوڑھے جوان عورتیں مرد سبھی اس مرض کا شکار ہیں جس سے بیشتر اوقات مضحکہ خیز صورت حال جنم لیتی ہے۔ شرپسند عناصر بھی ہرجگہ پائے جاتے ہیں۔ دھوکہ دینے والے بھی سوشل میڈیا پر اپنی دونمبر اشیاءفروخت کرتے نظر آتے ہیں، شر پھیل رہا ہے۔ فرقہ واریت کے شعلوں کو ہوا مل رہی ہے، خوشیوں سے محروم لوگ جب دوسروں کی پرتعیش زندگی کے مناظر دیکھتے ہیں تو ان میں نفرت، غصہ، انتقام، بے حسی کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ فیس بک پر کمنٹس کی صورت میں ایک منافقت ریا کاری پھیل رہی ہے۔ اگر آپ کسی کی تصویر ، شعر یا ایکٹویٹی پر کان نہیں دھرتے تو آپ کو بھی کوئی منہ نہیں لگاتا۔ بس ہرشخص اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ اب تو بیمار پرسی اور تعزیتی معاملات، میں بھی سوشل میڈیا سے کام چلایا جارہا ہے یوں انسان، انسان سے کٹ کر رہ گیا ہے وہ محفل میں تنہا ہوگیا ہے۔ نجانے آنے والے دنوں میں ہماری قوم زوال کے کس عروج پر جاٹھہرے گی۔ وقت دعا ہے۔ 


ای پیپر