خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور امریکہ
26 اگست 2019 2019-08-26

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی محسوس کی جارہی ہے۔ پاکستان اب ٹرمپ انتظامیہ کے دور میںامریکہ سے زیادہ قریب ہو گیا ہے۔ جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی جس کو زلمے خلیل زاد چلا رہے ہیں اس پالیسی کا ایک بڑا حصہ پاکستان نے قبول کرلیا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بننے والی حکومت پاکستان کو اہم کردار مل سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی مدد سے ایسی حکومت بنائے جو خطے میں دہشتگردی کو روک سکے۔ ملک کو اندرونی جنگ سے بچا سکے۔ اس کے عوض امریکہ نے پاکستان کو خصوصی مراعات بھی دی ہیں۔ آئی ایم ایف کا لہجہ نرم ہوگیا ہے۔ پاکستان میں اب سی پیک کی بات نہیں ہورہی۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ ملے گا۔ امریکہ اور یورپ سے تجارت بڑھے گی۔ اور امریکی امداد بھی ملے گی۔

پاکستان جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی پر رضامند ہو گیا ہے لہٰذا اس خطے میں امریکی پالیسی کو سمجھنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ عالمی طور پر اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ جس کو امریکہ کی اندرونی کمزوریوں اور بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کی وجہ سے خطرہ لاحق ہواہے۔معاشی طور پرابھرتے ہوئے چین نے امریکی بالادستی کو زک پہنچائی ہے۔ ڈالر امریکی معیشت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے ، اسکی حاکمیت کو چیلینج ہورہی تھی ۔دوسری طرف روس کا دوبارہ عروج اس کی بالادستی کو ہر تنازع کے خطے میں چیلنج کررہا ہے۔

خطے میں امریکی ضروریات کو مختصرا یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ امریکہ پر براہ راست حملہ قرین قیاس ہے۔تاہم امریکہ سمجھتا ہے کہ عالمی دہشتگردی اور بعض ممالک یا غیر ریاستی عناصر کی امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر ایٹمی میزائیل کے حملے کو خارج از امکان نہیں سمجھتا ْ معاملہ معیشت کا بھی ہے ۔ خوشحالی اور ترقی کے لئے مضبوط معیشت اور وسائل ضروری ہوتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اپنی معیشت کی ترقی کے لئے مطلوبہ تمام وسائل میں خود کفیل لگتا ہے۔ یہی معاملہ مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کا بھی ہے۔ مغربی کمپنیاں بڑی اور نئی ابھرتی ہوئی منڈیوں پہنچنا چاہتی ہیں ۔ لہٰذا امریکہ چاہتا ہے کہ کثیرالقومی کمپنیاں بیرون ممالک میں آزادانہ سرمایہ کاری کر سکیں اور منافع کما سکیں۔

اس لئے امریکہ کے نزدیک جنوبی ایشیا کو معیشت، سیاست اور دفاعی حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

جنوبی ایشیا وسطی ایشیا، جو کہ اس کے حریف روس کے لئے دفاعی خواہ معاشی حوالے سے آسان راستہ ہے اسی طرح بعض چین کے بھی آسان راستے ہیں۔یہ خطہ

خاص طور پر پاکستان وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے۔ اس کو بحر ہند بھی ملتا ہے جہاں سے جہاں سے 80 فیصد بحری جہاز خام مال یا تیار شدہ مصنوعات لیکر گزرتے ہیں۔ مزید یہ کہ خطہ مشرق وسطیٰ کے سرحدوں سے بھی ملتا ہے۔ بات کو اگر یوںلیا جائے کہ امریکی اور اس کے اتحادی وسائل، منڈی اور بالادستی کے لئے لڑ رہے ہیں تو زیادہ غلط نہ ہوگا۔

جغرافیائی سیاسی اہمیت: جنوبی ایشیا امریکہ کے لئے اس لئے بھی اہم ہے کہ یہاں دو ایٹمی ممالک انڈیا اور پاکستان واقع ہیں، جو کہ ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ کوئی بھی غلط اندازہ دنیا کو تیسری جنگ عظیم میں دھکیل سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ایٹمی ہتھیار بھی استعمال ہوں۔ اس خطے میں انڈیا بھی واقع ہے جو کہ چین کامکمل توڑ بن سکتا ہے۔ آخری بات یہ کہ یہ خطہ عالمی دہشتگردی کا فعال علاقہ ہے جومریکہ کو سب سے زیادہ فکر کی بات ہے۔ اگر کوئی بھی دہشتگرد گروپ ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچ جائے اور اتحادیوں یا خطے میں موجود امریکی فوجیوں پر حملہ کر سکتا ہے۔

معاشی مفادات کے حوالے سے خطہ ایک پرکشش اور بڑی منڈی ہے جہاں تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت بڑی تعداد میں موجود ہے۔ خطے میں متوسط طبقہ بڑی تعداد میں پیدا ہورہا ہے جو مغربی مصنوعات اور خدمات کو استعمال کرنے کا خواہان ہے۔ یہاں کی ترقی کی ضروریات کئی عالمی مالیاتی اداروں کے لئے پرکشش بنے ہوئے ہیں۔

ان تصورات اور جنوبی ایشیا کی اہمیت کے پیش نظر اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ نے مندرجہ ذیل اہداف مقرر کئے ہیں۔ !) برصغیر اور بحر ہند میں چین کے اثر کو روکنا۔2) پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیام امن، اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنا۔ 3) اپنی مصنوعات اور خدمات کے لئے منڈی حاصل کرنا۔ 4) خود اور اپنے اتحادیوں کے لئے افرادی قوت اور مادی وسائل کی منڈی تک رسائی 5) بحر ہند کو تجارتی بیڑوں کی محفوظ گزرگاہ بنانا، 6) خطے میں دہشتگردی کا خاتمہ، اس مقصد کے لئے امریکہ نے بعض پالیسیاں وضح کی ہوئی ہیں ۔ ایک طرح سے انڈیا کو خطہ کی بالادست قوت کا درجہ دے دیا ہے جو خطے میں امن اور سلامتی کو کنٹرول کرے۔ امریکہ نے پاکستان کو انڈیا کے برابر حیثیت میں سلوک کرنا ترک کردیا ہے۔ امریکہ بطور سپر پاور پاکستان کو ’کلائینٹ‘‘ کے طور پر لے رہا ہے۔ وہ پاکستان کو حکمت عملی کی بنیاد پر مختصر وقت کے لئے ڈیل کرتا ہے۔

انڈیا کے ساتھ دفاعی تعاون اس کو چین کو روکنے کے لئے تیار کرنے کے لئے ہیں۔ انڈیا کا بھی مفاد ہے کہ چین بحر ہند سے دور رہے۔ اس مقصد کے لئے اس کو امریکہ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ انڈیا ہند چینی سمندر میں چین کی موجودگی پر جاپان اور امریکہ کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ دونوں چین کے ون بیلٹ ون روڈ اور خاص طور پر سی پیک کی حمایت کر رہے ہیں۔ انڈیا یا کسی اور ملک سے فوجی تعاون کا معاہدہ کرنے کا موقعہ نہ ملنے کی وجہ سے فی الحال روس خطہ میں اجنبی ہوگیا ہے۔

امریکہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ پاکستان سیاسی قیادت کے ذریعے ترقیاتی امدا وغیرہ کے ذریعے چین کی سٹلائیٹ ریاست نہ بنے۔ وہ پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کا رابطہ رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت بند کرے۔

اس صورتحال کی وجہ سے خطے میں ایک نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کا مسلم امہ کی کشمیر کی حالیہ صورتحال پر بیان بھی اس نئی صف بندی کو عیاں کرتا ہے کہ ہر ملک کے اپنے اپنے تجارتی و سفارتی مفادات ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا یہ بیان مسلم امہ کے تصور کو از سرنو دیکھنے کی دعوت دیتا ہے ۔


ای پیپر