عالمی تنازعات کو کون روکے گا؟
26 اگست 2019 2019-08-26

امریکی صد ر دونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کیا ہے اور وہ کب کونسا قدم اٹھائیں گے؟اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔سابق امریکہ صدور کی ایک لائن ہوتی تھی جس پر وہ چلتے تھے۔ امریکہ کے انتخاب میں انہوں نے اپنے سے طاقت ور حریف کو چاروں شانے چیت کر دیاتھا۔ڈیموکریٹ جو ہیلری کلنٹن کی کامیابی کا جشن منانے جمع تھے ۔وہاں سوگ کا منظر تھا۔ انہوں نے دنیاکے طاقت ور میڈیا کے عوامی رائے کے جائزوں کو بھی شکست دی۔دنیا بھی حیران تھی کہ کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ٹرمپ کا دور صدارت گو ابھی تمام نہیں ہوا اس میں بھی ان کے اپنے ساتھیوں اور قریبی ٹیم سے اختلاف رہا گئی بار انہوں اپنی ٹیم کو تبدیل کیا ان کے مواخذے کی باتیں ہوہیں اور وہ ہر بار بحران سے نکلتے رہے۔سال 2019 میں ان کے ا ختلاف امریکہ سے نکل کے دنیا بھر میں پھیل گئے۔ چین سے جرمنی تک ان اختلاف کا دائیرہ وسیع ہو رہا ہے خاص طور پر افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا جس کی وہ ڈیڈ لائن دے چکے ہیں اس میں امریکی صدر ٹرمپ سنجیدگی تو دکھا رہے ہیں۔ ان کی حکمت عملی درست سمت لے کی یا پھر یو ٹرن آئے گا اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔البتہ کشمیر کے حوالے سے کشیدگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس کے بارے دنیا اس بات کو کافی سنجیدہ لے رہی ہے ۔ کشمیر کا مسئلہ قدم قدم پر مودی کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا رہے گا ،راہول گاندھی نے سری نگر جاکر اس بات کا مشاہدہ کرنے کی کوشش تو لی مگر ان کو سری نگر جانے نہیں دیا جس کام کا بیڑہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے اٹھایا تھا اب موجودہ صد ر ٹرمپ کو کافی جلدی ہے کہ وہ اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالیں۔ اس سلسلے کا اہم اجلاس اتوار کے روز دوحہ میں ہو چکا ہے۔ یہ نواں مذاکراتی دور تھا جس سے امیدیں بندھی ہیں۔ جس کے بعد امریکہ اپنی تاریخ میں لڑی جانے والی سب سے طویل جنگ سے نکل جائے گا۔اُدھر افغانستان میں صدارتی انتخابات 28 ستمبر کو منعقد ہو رہے ہیں، جس کے لیے انتخابی مہم افغانستان کے تمام صوبوں میں زور و شور سے جاری ہے۔امریکہ، طالبان اور افغان صدر غنی کے بعض سیاسی مخالف چاہتے ہیں کہ پہلے امن معاہدہ ہو، صدارتی انتخابات بعد میں بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن افغان صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت بارہا واضح کر چکے ہیں کہ امن معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں پہلے صدارتی انتخابات ہونا ضروری ہیں۔افغانستان میں متعین امریکہ کے سفیر جان باس کے نزدیک امن زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ امن افغان عوام کی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔ تاہم ان کے مطابق امریکہ افغان صدارتی انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔رواں سال جولائی میں افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی کہا تھا کہ ان کے لیے صدارتی انتخابات سے زیادہ امن معاہدہ اہم ہے اور وہ پر اُمید ہے کہ ستمبر کے اوائل میں یہ معاہدہ طے پا جائے گا۔ افغان امور کے ماہر فلوریان وائگنڈ کے مطابق اس ملک کو جدید بنانے، اسے اس کے پاؤں پر کھڑا کرنے اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی پہلی کوشش ٹھیک ایک صدی پہلے کی گئی تھی۔ اس وقت 1919ء میں تین تھکا دینے والی جنگوں کے بعد برطانیہ کو بھی یہ ادراک ہو گیا تھا کہ اس ملک میں اس کے قیام کی قسط بھی ختم ہو چکی تھی۔ آخر کار برطانیہ کو اس ملک کو آزادی دینا پڑی تھی ۔بادشاہ اول امان اللہ خان غیرملکی ضابطے نافذ کیے بغیر اس ملک کی ترقی چاہتے تھے۔ وہ مشرق میں جدیدیت پسندی کی لہر سے متاثر ہوئے امریکی مندوب برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی کوشش ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو یکم ستمبر تک حتمی شکل دے دی جائے۔ سچ بات یہ ہے کہ امریکا کی دلچسپی ختم ہو چکی ہے اور عزت بچانے کے لیے وہ دہشت گرد طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرنے سے بھی نہیں گھبرا رہا۔ صرف ایک شرط رکھی گئی ہے کہ طالبان مستقبل میں افغانستان کی سرزمین کسی بیرونی ملک پر دہشت گردانہ حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن افغانستان کا کیا بنے گا؟ اس کی امریکا کو اب کوئی پروا نہیں ہے۔ تاریخی طور پر باشعور افغانوں کے اس تجربے کی ایک بار پھر تصدیق ہوئی کہ غیرملکی طاقتیں عام طور پر صرف اپنے مفادات اور اقدار کو ہی نافذ کرنے کے لیے وہاں جاتی ہیں۔

اب امریکہ کی معیشت کو چین کی بالا دستی سے شدید خطرات لاحق ہیں ۔ یہ اقتصادی جنگ پھیلتی نظر آرہی ہے ۔اس میں شدت اسی سال سامنے آئی ہے جب امریکہ نے پہل کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ چینی مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگا رہا ہے جس کے ردعمل میں چین نے امریکہ سے برآمد کی جانے والی 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر محصولات میں اضافہ کردیا۔ یہ اضافہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کی جانب سے 200 ارب ڈالر مالیت کی چینی درآمدات پر ٹیکسوں میں اضافے کے جواب میں کیا گیا تھا۔چین کی وزارت مالیات نے کہا ہے کہ 5 فی صد سے 25 فی صد کے نئے ٹیکسوں کا نفاذ یکم جون سے ہو گا جس کے دائرے میں امریکہ سے چین بھیجی جائے والی 5140 مصنوعات آئیں گی۔ اس کے بعد ہانگ کانگ اور تائیوان میں امریکی مداخلت سے دونوں ملکوں کے درمیان شدید محاز آرائی سامنے آرہی ہے چینی حکام نے امریکہ کو یہ بھی تنبیہ کی ہے کہ وہ چین کے عوام کے عزم و حوصلے سے متعلق کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ چین نے چند دن پہلے ٹویٹر اور فیس بک نے ایسے سینکڑوں اکاؤٹنس بند کر دیے ہیں، جو ہانگ کانگ مظاہرین کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے تھے۔ اب گوگل اور یوٹیوب نے بھی ایسے اکاؤنٹس بند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پیچھے چینی حکومت کا ہاتھ ہے۔

ہانگ کانگ س کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ 1997 میں ''ایک ملک، دو نظام‘‘ کے تصور کے تحت چین کا حصہ بنا تھا۔ یہ کچھ عرصے سے ایک غیرمعمولی سیاسی بحران کی زد میں ہے۔یہ تنظیم دو ہزار چودہ تک جی۔ایٹ کہلاتی تھی لیکن پھر سابقہ یوکرائنی علاقے کریمیا پر روس کے قبضے کے بعد، روس کی رکنیت معطل کر دی گئی جس کے بعد سے یہ عالمی تنظیم جی۔سیون بن گئی۔ امریکہ اور روس کے ساتھ بھی اس وقت شدید اختلافات ہیں۔ سب سے اہم پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے امریکی صدر اب اپنے کردار سے بھاک رہے ہیں وزیراعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب سے کشمیر کے حوالے جو باتیں کہی ہیں وہ کافی گہری ضرور ہیں اس تقریر کو پارلیمنٹ کے سامنے کیا جاتا تو بہتر ہوتا ۔امریکی صدر چاہتے ہیں جو ہونا تھا وہ کشمیریوں کے ساتھ ہو چکا۔اب دونوں ملک کشمیر کو بھول جائیں اور دوستی قائم ہو ا ایسا ممکن نہیں ۔ صورت حال اس نہج تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ایٹمی جنگ کی دھمکیاں ادھر سے بھی ہیں اور ادھر سے بھی۔خطرناک صورت ہے۔

معروف جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم 'اسٹارٹ فار' نے اپنی رپورٹ میں تنازع کشمیر کو بھارت کا اندرونی معاملہ یا پاکستان و بھارت کا باہمی تنازع قرار دینے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ گردانا ہے اس سلسلے میں ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا تھا۔۔بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 16 اگست کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نئی دہلی اب تک جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی (نو فرسٹ یوز پالیسی) پر عمل پیرا تھی ، بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب بھارت نے صرف چند روز قبل پانچ اگست کو نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا تھا جس پر پاکستان نے شدید رد عمل ظاہر کیا۔امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی افواج کے پاس اسٹریٹجک اور ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار ہیں۔ جو دونوں جانب کے فوجی افسران میدان جنگ میں بڑی آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے 'ہیرو شیما' اور 'ناگا ساکی' پر 1945 میں جوہری بم گرائے تھے۔ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوئے تو یہ آٹھ دہائیوں میں دوسری بار جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوگا؟


ای پیپر