’’توں آہو آہو آکھ…!!‘‘
26 اگست 2019 2019-08-26

معزز اہل قلم و کابل صدا احترام سامعین…!

سچ پوچھیئے تو ایک سال کے بعد بابا جی سرکار بلھے شاہ پر پھر اس طرح آپ سب عشاق بلھے شاہ کی موجودگی میں چند جملوں کے تانے بانوں کی یک طرفہ کھڈی پر عقیدت کے پھول کاڑھنا ایسے ہی ہے… جیسے … سال کے بعد شہر کی بڑی مسجد کے مشکبو اور وسیع ہال میں میرے جیسا بے عملاً بندہ عید کی نماز پڑھتے ہوئے پہلو میں کھڑے مقتدی کو کن اکھیوں سے چوری چوری دیکھے … کہ … اب محبت کی تکبیر میں انا کے ہاتھ گرانے ہیں… یا … خواہشوں کے پیٹ پر گرہ لگا کر … باندھنے ہیں۔

ایک سال بعد … تخیل کے خشک کنویں سے حوضوں کے چند بو کے نکال نکال کر بلھے شاہ سرکار سے عقیدت والی اپنے اندر کی کھیتی کو سیراب کرنا کہ جس میں ابھی فصل بوتا ہے۔

جس کو چاروں چفیر نفرتوں اورا نتقام کے گدیلے اور مٹیالے بغیر اطلاع کے چھوڑے ہوئے پانی نے گھیر رکھا ہے۔ اور جس نے میرے اندر کے قصور کے دیہات کو چھتوں اور چھپڑتیوں تک ڈبو رکھا ہے ۔

میرے اندر میرا اپنا میرے قابو سے باہر ٹھاٹھیں مارتا ’’ ھڑ ‘‘ ہے ۔ جس کی بے منزل سر پٹختی لہروں پر بابا بلھے شاہ سرکار کے گھو نگھرؤ تیرتے پھرتے ہیں۔ جن تک نہ کبھی میری رسائی ہوئی اور نہ ہو گی ۔

اور ہو بھی کیسے سکتی ہے۔ میرے جیسا کلف درہ بندہ تو گھونگھرو محض ہاتھ میں پکڑ کر قصور کے بازار کی ھُما ھمی سے بھی نہیں گزر سکتا۔ کُجا… پائوں میں باندھ کر تھیا تھیا کر کے یار مناتے پھریں۔

معزز سامعین…!

میں پچھلے پنچوں پر بیٹھا تاریخ کا نکما اور نیم نالائق طالب علم ہوں… مگر … پھر بھی مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ بلھے شاہ سرکار کی شخصیت پر 1939 ء میں اورینٹیل کالج میں پڑھے جانے والے تحقیقی مقالے میں ثابت کیا گیا ہے کہ بلھے شاہ 1680 ء میں پیدا ہوئے اور 1171 ء میں وفات پائی… 1758 ء میں نہیں۔

اور نہ ہی مجھے اس میں دلچسپی ہے کہ لا جو نتی رام کرشنا اور دیگر چند مؤرخین نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ بابا جی بلھے شاہ سرکار نے قصور سے 21 کلو میٹر دور ’’ پانڈو کی ‘‘ کے قصبے میں جنم لیا ہے۔

… اُچ گیلانیاں میں نہیں۔

میں تو فقط اتنا جانتا ہوں… بلھے شاہ علاقوں، قصبوں اور شہروں میں پیدا نہیں ہوتے … یہ تو ابن عشق ہوتے ہیں اور اسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ اور بھلا عشق کو کون محیط کر سکا ہے۔اور نہ ہی بلھے شاہ کسی خاص سال، مقرر دن اور لمحے میں مرتے ہیں۔

(1 ) بلھے شاہ اسیں مرنا نا ہیں گورپیا کوئی ہور…

(2 ) بلھیا ہجرت وچ اسلام دے میرا نت ہے خاص آرام

نیت نت مراں تے نت نت جیواں میرا نت نت کوچ مقام۔

اس لیے بلھے شاہ تو بس آر پار دھڑ کتے ہیں۔ بنا کسے حد کسے بغیر کسی سرحد کے۔

میں تو فقط اتنا جانتا ہوں۔ اگر قصور کے ڈال کے لفافے پر بلھے شاہ کا پتہ نہ لکھا جائے تو خط مدینہ نہیں پہنچتا۔ مجھے تو بس اتنا علم ہے ۔ کہ اگر قصور کی مٹھاس میں بلھے شاہ نکل جائے تو سارے اندر سے پھیکے پڑ جائیں گے۔

مجھے تو محض اتنا یقین ہے کہ بلھے شاہ سرکار کو اگر شہر سے باہر نہ دفن کیا جاتا تو قصور نے ’’ اندر ‘‘ سے بھی آباد نہیں ہونا تھا۔

لیکن۔ معزز سامعین…!!

اگر آپ مجھے اجازت دیں اور تسلیم کرنے دیں کہ … مجھے اسی ہال کی چرسی نشستوں اور آبنوسی میزوں کے درازوں کے سینوں میں گئے برس پر بلھے شاہ ؒ پر کی گئی انقلابی تقریروں اور بے کنار ہوتے عشق سے معمور مہکتی تحریروں کی باس آ رہی ہے۔

مجھے اعتراف کر لینے دیجئے۔ کہ میں ساری خوش لحن باتوں سحرا نگیز گفتگو کی گٹھڑی بنا کر اسی ھال کے کسی کونے میں رکھ گیا تھا ۔ اور آج ابھی گردش ماہ و سال کے چند لمحوں کے لیے تصوف اوڑھ کر بابا جی کے عُرس پر اپنے حصے کا سوانگ رچانے اور دکھانے آ گیا ہوں۔

اور پھر اس کے بعد یہ ’’ صوفیانہ کاسٹیوم‘‘ ادھر ہی اُتار کر پھر سے اپنی خواہشوں اور متاع کے شاہ عنائیتوں کو منانے کے لیے نوشاہد اور مفاد پرستی کے گھُونگھرؤ باندھ کر اپنا تھیا تھیا کرنے میں معروف ہو جائوں گا۔

لیکن… معزز سامعین… !!

ہاں… کبھی کبھی جب ندامت مجھے پل بھر کو مفتوح کرتی ہے تو بڑا دل کرتا ہے کہ … بابا بلھے شاہ کے مزار پر تہجد ویلے جا کر ان کے ہم عصر ون کے درخت کے پھیلے کسی بازو پر کوئی دریدہ سی () بن کر بندھ جائوں۔

یا پھر … رات کے آخری لہر میں مزار کے پہلو میں دھمال ڈالتے کسی مٹی کے دیئے کی جوت بن جائوں۔

یا پھر … بابا جی کی تُربت کے پائینتی کنارے سورۃ یٰسین پڑھتے پڑھتے ٹیک لگا کر سو جائوں اور بابا بلھے شاہ کسی درود لمحے میں کسی مجزوب کی چڑھائی عشق کی مہکتی اور سوگندھ والی چادر میرے گرد لپیٹ کر … مجھے کیج دیں۔

محترم سامعین… !!

مجھے وہ سارے ملنگ جو بابا بلھے شاہ کے مزار پر دائوں میں رقض کرتے ہوئے تھیا تھیا کر رہے ہوتے ہیں… محبت اور انسانیت کے محاذ پر رقض جدل کرتے ہوئے عشق کا جتھہ اور فوجی لگتے ہیں۔

وہ جتھہ جو بابا بلھے شاہ نے فرقہ پرست، مولویوں، ظلم کرتے منصفوں، لوٹ مار کرتے جاٹوں اور صرف اپنا تخت بچاتے مغلوں کے خلاف تیار کیا تھا ۔

جن کا ہتھیار عشق کی دھمال تھی، بے خودی کا رقض تھا، محبت کے گھونگھرو تھے، انسانیت کا لنگر تھا اور عجز کا چولہا تھا۔

ایک آفاتی اور ہر دور کا جتھہ

ؔ نہ میں عربی نہ لاہور… نہ میں ھندی شہر نگوری

نہ میں ہند نہ ترک پشوری… نہ میں رہیندا وچ ندون

…بلھا کہیہ جاناں میں کون…

بلھے شاہ …!

ایک ایسی آواز… جو کبھی خاموش نہیں ہو گی۔

ایک ایسا رقض… جو ہمیشہ دائرے بناتا رہے گا۔

ایک ایسا چولہا … جو ہمیشہ جلتا اور چلتا رہے گا۔

اور ایک ایسا گھونگھرو… جو اب دل پر بندھا ہے… ہر دھڑکن کے ساتھ تھیا تھیا کرتا رہے گا۔

معزز سامعین… !!

بلھے شاہ ؒ نے تسلیم اور مزاحمت کو جس طرح باہم کیا ہے۔ ایسا کرنا صرف اور صرف بابا بلھے شاہ سرکار کاہی کمال اور خاصہ ہے… !!

عاشق ہو یوں ربّ دا ملامت ہوئی لاکھ

لوگ کافر کافر آکھدے توں آہو آہو آکھ

نوٹ: 25 اگست 2019 ء کو مجلس بلھے شاہ کے تحت بلھے شاہ کانفرنس قصور میں پڑھا گیا۔


ای پیپر