صیاد کو دل دے بیٹھے ہیں
26 اگست 2019 2019-08-26

تقریباً 24/25 سال سے زائد عرصہ بیتا ہو گا کہ سردی کی ایک چمکتی دوپہر میں گوجرانوالہ بار کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ میرے سینئر اور استاد گرامی جناب خواجہ جاوید آ گئے بار میں کم کم ہی دکھائی دیتے کم گو اور ٹھہر ٹھہر کر بولتے اور ہر بات گویا ایک علمی خزانہ ہو جیسے، بار میں دیگر لوگ جن میں بلا وجہ اور بہت بولنے والے بھی کہ کوئی مؤکل بھی جن کی بات نہ سنے وہیں بیٹھے تھے خواجہ صاحب! خاموشی بھی باتیں کرتی تھی اور خاموشی میں ابلاغ ہونا تعلق یا نیابت داری کی معراج ہوا کرتا ہے جو الحمد للہ مجھ احقر کو اکثر صاحبان تصوف سے ہے ۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب موسم بدلتے رہتے تھے مگر حکمران 11 سالوں کے لیے مسلط ہوئے پڑے تھے اچانک ایک دوست نے میرے سر کی طرف دیکھا چلا کر بولا آصف او تیرے سر پہ سفید بال… ابھی تو پا اعظم (میرے بڑے بھائی) کے بال کالے اور آپ کے سر پہ 5/7بال سفید ہو گئے۔ میں چپ تھا اور اس کی اس احمقانہ ہمدردی پر حیرت زدہ بھی کہ یہ ساعتیں کچھ سیکھنے کی ہیں ۔ تم کس طرف نکل گئے خواجہ صاحب نے بہت محبت سے دیکھا ان کی شفقت بھری آنکھیں حوصلہ دیتی مسکان اور گویا ہوئے(شعر آگے آئے گا)

ظاہر ہے میرے اور خواجہ بلال کے لیے فارسی اندھیرے میں چلنے کے مترادف تھی۔ جس کا جناب خواجہ جاوید نے سکینڈ کے اندر اندازہ لگایا اور پھر کہنے لگے کہ فارسی کا شعر ہے جس کا ترجمہ ہے ’’میری کہانی تم کیا پوچھتے ہو، میں اپنی سرگزشت کیا بیان کروں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرے سر کے بال پاؤں سے گزر گئے اور پاؤں کے کانٹے سر سے گزر گئے‘‘

پچھلے سال مجھے شعر کے الفاظ سرگزشت من چہ پرسی من چہ کی جگہ پشتو از من سرگزشت یاد رہ گیا اور ترجمہ یا مفہوم یاد تھا کئی سال محنت مشقت اور وطن عزیز میں کئی 14 اگست گزار کر میں وہیں بیٹھا تھا جہاں خواجہ صاحب نے میرا چہرہ پڑھ کر یہ شعر سنا دیا اب مجھے یہ پورا شعر سننے اور مطلب جاننے کی دوبارہ خواہش ہوئی جیسے بقول مولانا جلال الدین رومیؒ کی روح اپنانالہ و فریاد اس سے کہنا چاہتی ہے جو پہلے ہی درمند ہو، بے حس، بد فطرت کے سامنے بات کرنا بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہے۔ خواجہ صاحب کا موبائل نمبر بھی موبائل کے ساتھ کھو دیا پھر میں نے کاکا کتی جس کو اپنے گھر کی خبر نہیں مگر زمانے بھر کی خبر اور نمبر رکھتا ہے سے خواجہ صاحب کا نمبر لیا اور فون کیا ان کی بیٹی نے اٹھایا اور حال احوال جان کر بتایا کہ ابا لاہور ہی ہیں ۔ خواجہ صاحب کی زوجہ محترمہ رضیہ بٹ ناول نگار کی سگی بہن تھیں زوجہ کی وفات کے بعد بیمار اور اداس رہتے تھے۔ میں نے ملنے کی خواہش کی تو کہنے لگیں کہ بھائی جان آپ ضرور آئیں لہٰذا ان کے گھر ڈیفنس میں چلا گیا۔ خواجہ صاحب کی بیٹی کے گھر پہنچا انہوں نے بتایا کہ یادداشت کا مسئلہ ہے بہت باتیں کریں تو یاد داشت واپس آتی ہے میں بہت اداس ہوا کہ اب یہ کیا امتحان ہے۔ جن سے اپنا احوال پوچھنے آیا وہ خود اپنے حال سے بے خبر ہیں ۔ اپنے آپ سے ملاقات کرنے کے لیے ایک شعر دوبارہ سننا تھا خواجہ صاحب بظاہر ہشاش بشاش بیٹھے تھے۔ میں نے پہچان کروانا چاہی میری طرف دیکھتے رہے میں نے کہا جی میں آصف ہوں۔ آصف عنایت، جناب حاجی عنایت اللہ صاحب کا بیٹا، گلزار صاحب سپرنٹنڈنٹ جیل کا بھائی، معظم بٹ جیل روڈ کے چیئرمین کا بھائی، بابر باڈی بلڈر کا بھائی ہر ایک رشتے نام میں خواجہ صاحب کے لیے پہچان ہی نہیں ایک داستان بھی چھپی تھی پھر دیگر حوالے دیئے۔ دوبارہ اپنے آپ پر آیا آصف عنایت بٹ آپ کا شاگرد، خواجہ صاحب لمحے کے لیے بولے امیر حمزہ آصف کا بابا میں نے کہا جی! مجھے خوشی بھی ہو ئی مگر میرا دل اوبھ آیا چند باتوں اور لمحوں کے بعد خواجہ صاحب پھر اداس روح کی طرح اپنے اصل (پاکیزگی) میں چلے گئے اور میں دنیا میں الجھا ہوا سامنے بیٹھا ہوں پھر بیٹی سے مخاطب ہوئے اور بولے کہ وہ کب آئیں گے اور ان کو کیا کھلائیں گے۔ بیٹی بولی یہی ہیں آصف بھائی مگر خواجہ صاحب ایک داستان بنے بیٹھے تھے میں اداسی کی شدت سے ساقط ہوا پڑا تھا۔ خواجہ صاحب اور بہن سے اجازت لی اور راستے میں زمانوں سے زمانے نکلتے گئے، خیالوں سے خیال پیدا ہوتے چلے گئے مگر میرا حال تھا کہ جنونی آدمی ہوں گھر پہنچا اور سوچتا رہا، کھانا بھی نہیں کھایا۔ ذہن میں یکدم ایسی ایک پارساشخصیت کا خیال آیا جو علم فضل عمل و اظہار میں باکمال ہیں ۔ جناب محمد صادق کسٹم کے بڑے آفیسر ہیں ۔ 27 سال سرکاری غلامی میں جناب ڈاکٹر آصف جاہ فخر پاکستان ستارۂ امتیاز اور محترمہ طیبہ کیانی ہی جینوئن دیانت دار انسانیت سے مالا مال شخصیات پائیں۔ میں نے اگلے روز جناب محمد صادق خان تنولی صاحب سے وقت لیا جب بھی صوفی ازم کی بات ہو سکون کی طلب بڑھے تو ان سے درخواست کرتا ہوں یا قبلہ سمیع اللہ ملک سے لندن فون پر رابطہ کرتا ہوں۔ جناب محمد صادق سے جا کر اسی شعر کے چند بے جڑے الفاظ کہے اور مفہوم بتایا تو انہوں نے مجھے شعر

سرگزشت من چہ پرسی من چہ گویم سرگزشت

موئے سر از پا گزشت و خار پا از سرگزشت

میری کہانی پوچھتے ہیں ، میں اپنی سرگزشت کیا بیان کروں بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میرے سر کے بال پاؤں سے گزر گئے اور پاؤں کے کانٹے سر سے گزر گئے۔

اس سلسلہ میں مدد اور تصدیق معروف شاعرہ محترمہ ناز بٹ نے بھی کی۔ میں سوچتا ہوں کہ وطن عزیز کے عوام کی بھی یہی حالت نہیں ہے؟ کیا لمحوں میں بوڑھا کر دینے والے حالات سے نہیں گزرے مگر دانا و ناداں میں بہت فرق ہے بے حسی جہاں لعنت ہے وہاں نعمت بھی ہے۔ چھوڑئیے 18 سال ایوب خان کی قیادت تین سال یحییٰ خان کے، وطن عزیز میں صرف 1977ء کی 5 جولائی سے اب تک کس دائرے کے سفر اور سراب کی تلاش میں کئی نسلیں محروم و مرحوم کہلائیں اور چلتے پھرتے لوگ قبروں میں بدل گئے۔ عوام بچہ جمورا بن گئے ۔ مہنگائی، بے انصافی حدوں کو عبور کر گئی۔ سیاستدانوں، اداروں کی محبت و نفرت میں اخلاقیات کو پس پشت رکھ کر ہر جگہ دست و گریبان ہیں جبکہ دائرے کا سفر بھی الٹا ہونا شروع ہو گیا ۔ لڈو کے کھیل کی طرح نظام ہے۔بقول شاعر عفت چوہدری! میری شاعری انہیں بے وزن لفظوں کی کوئی زنجیر لگتی ہے بے سرسی سہمی سہمی کھیڑے کے گھر ہیر لگتی ۔ تیسری دنیا کے عوام پر مسلط ہونے والے حالات و حکمرانوں کے تسلط میں عوام بھی کھیڑے کے گھر ہیر کی طرح ہی ہیں ۔ 14 اگست سر پر تھی اور مجھے ایک دوست نے فون کیا کہ اخبار پڑھتے ہو مولانا ابوالکلام آزاد بھی پڑھا کرو؟ مگر ہم ہیں کہ کچھ خبر نہیں بس صیاد کو دل دیئے بیٹھے ہیں کہ پنجرا کھلے بھی تو کبوتر کی طرح واپس اس کی چھتری پر بیٹھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان تو 70 سالوں سے اور 31 سال سے بالخصوص بھارتی درندوں کو ننگی درندگی کا نشانہ بنے چلے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے تو صیاد کے خلاف جدوجہد میں آنے والی نسلیں بھی قربان کر دیں۔ جو اختیار رکھتے ہیں خبر نہیں دیتے اور جو خبر دیتے ہیں ان پر اعتماد نہیں عالمی طاقتیں، سرکاری محکمے ،موروثی کاروبار، سیاسی رہنما ، مذہبی پیشوا، احباب اور محبوبائیں ، عزیز رشتے حتیٰ کہ خاندان وہ صیاد ہیں جنہیں ہم دل دے بیٹھے ہیں ۔


ای پیپر