عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ایک عہد کا نام
26 اگست 2019 2019-08-26

میں نے بیٹھتے ہی بغیر سانس لیے کہا ’’پیرو مرشد‘‘ عیسیٰ خیل بہت دور ہے۔ بولے! میرا تو وطن ہے مجھے تو قطعاً کہیں سے بھی دور نہیں لگتا اور آپ نے میرا گیت تو سنا ہی ہے۔ انج پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسیٰ خیل دورتے نئیں۔ ( اے محبوب ویسے آپ راولپنڈی اور پشاور چلے جاتے ہو، عیسیٰ خیل میرے پاس نہیں آئے، عیسیٰ خیل اتنا بھی دور نہیں ہے۔ ) میں نے پھر پوچھا جس دور میں آپ نے گائیکی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور اپنی حیات کے لیے یہی پر خار اور کٹھن راستہ چن لیا تھا ۔ اس دور میں تو سہولتوں کا بہت فقدان تھا ۔ کہنے لگے جو سڑک میرے گھر کے سامنے سے گزر رہی ہے یہ پچھلے سال جنوری 2018 ء میں پختہ ہوئی ہے۔ اس سے پہلے نیم پختہ تھی اور اس دور میں جس کی بات آپ کر رہے ہیں۔ اس سڑک کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ میں نے عرض کی آپ نے ایسے کٹھن حالات میں موسیقی کو اوڑھنا بچھونا بنانے کی کیسے ٹھان لی؟ بولے ! بہت ہی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا اور آخر میں نے گھر سے باغی ہو کر اس فن کو سینے سے لگانے کا سوچ لیا۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ بولے ! کہانی تو بہت لمبی اور پر سوزو پر خار ہے۔ صحرا و سمندر تھل و روہی عبور کرنا آسان تھا مگر اس پیشے کو اپنانا کا وے کا وے سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ،کے مترادف تھا۔ دودھ کی نہر نکالی جا سکتی تھی۔ پہاڑ کھودا جا سکتا تھا۔ کوہکن بنایا جا سکتا تھا۔ تخت ہزارہ بیچا جا سکتا تھا۔ مگر و نیازیوں، کے قبیلے میں گلوکار نہیں بنا جا سکتا تھا ۔ مگر عشق بن یہ ادب نہیں آتا۔ جب ہارمو نیم کی تانیں بیٹھک سے باہر نکلنی شروع ہوئیں۔ سر اونچے ہونے لگے۔ تانیں بکھرنے لگیں۔ پر سوز آواز سکیوں اور آہوں میں ڈھلنے لگی توآباجی نے بلا کر دو ٹوک فیصلہ سنا دیا کہ یہ مراثیوں والا کام چھوڑ دو یا پھر گھر چھوڑ دو۔ میں نے پھر یہ نہیں کہا کہ

نہ عشق ٹھیک سے ہوتا ہے اور نہ کار جہاں

جو تم کہو تو کوئی ایک کام چھوڑ دیں ہم

یہ 1972 ء کی بات ہے ۔ تن پر ایک جوڑا، پائوں میں ایک قینچی چپل اور ایک چادر یہ کل اثاثہ تھا اور گھر چھوڑ دیا ۔ ماں نے ابا کی آنکھ بچا کر چند روپے جیب میں ڈال دیے۔ ہماری تو حالت یہ تھی کہ وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے… گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ کچھ نہ سوچا کہ کس طرف جانا ہے۔ مشرق مغرب شمال جنوب پہلی بار میرے لیے ایک جیسی حیثیت کے حامل تھے اور شش جہات مجھ پر تنگ ہو گئے۔

بے اجل میر اب مرنا پڑا

کرتے نہ عشق اختیار اے کاش

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی اور سیدھا کراچی کا رخ کیا۔ وہاں پہلے سے عیسیٰ خیل کے چند مزدور رہائش پذیر تھے۔ دس روپے ماہوار کرایہ پر ایک کمرہ لیا ہوا تھا ۔ دن بھر محنت مشقت کرتا اور رات کو وہاں آ لیٹتا تھا ۔ جس مقصد کے لیے گھر سے نکلا تھا پیٹ کی آگ نے وہ مقصد ہی پس پشت ڈال ہاں البتہ کبھی کبھی وجدانی کیفیت میں موسیقی کو روخ کی غذا بنا لیتا تھا ۔ بھوک وہ دوزخ ہے جس کی آگ میں ہڈیاں بھی جل جاتی ہیں۔ تین سال کے بعد پروفیسر منور علی ملک کا خط ملا تو واپس عیسیٰ خیل آ گیا۔ وہ خبر جس نے ساری عمر مجھے مضمحل رکھا اور مجھے اندر سے توڑتی رہی وہ خبر میری پیاری بہن سیما کی موت کی خبر تھی جو میرے کراچی جانے کے کچھ عرصہ بعد فوت ہو گئی تھی۔ کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم میرے کیا ہو؟ میرے پیار کی آدے حسین ابتدا ہو کے مترادف سیما کی اہمیت میرے لیے تھی۔ یہ کڑا وقت گزارنے کے بعد لاہور کا رخ کیا۔ پھر پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے ہوٹل میں بیرا گیری کی۔ ٹرک کلینر کے طور پر کام کیا۔ رکشا چلایا، فٹ پاتھ پر راتیں بھر کیں مگر حوصلہ پہاڑ رکھا اور اس شوق کو پروان چڑھانے میں لگا رہا ۔ 1978 ء میں نیلام گھر ، پاکستان ٹیلی ویژن کراچی اور ریڈیو پاکستان بہاولپور پر فارم کرنے کا موقع ملا۔ 1979 ء میں فیصل آباد کے چوہدری رحمت علی نے اپنے آڈیوسٹوڈیو رحمت گرافون ہائوس سے ایک ہی وقت میں چار آڈیو والیم ریکارڈ کر دیئے۔ ان والیم کا باری بار ریلیز ہونا تھا کہ اس بندہ احقر کی آواز ملک عزیز کے کونے کونے میں گونج گئی مگر ابا جان دھن کے ایسے پکے تھے کہ گھر قدم نہیں رکھنے دیا واپسی کے دروازے بند کر دیئے تھے بلکہ قبیلے نے بھی ناک آئوٹ سسٹم کے ذریعے باہر پھینک دیا بلکہ ستم ظریفی دیکھیے کے نام کے ساتھ نیازی لکھنے کی اجازت بھی نہیں دی کہ گلوکاری پٹھانوں کا نہیں مراثیوں کا کام ہے۔ ابا جی اپنی زندگی کی آخری سانس تک میرے اس پروفیشن کے خلاف تھے۔ میں نے کم و بیش پوری دنیا میں گایا اور بین الاقوامی سطح تک میری آواز کو پذیرائی ملی مگر ابا جی کو میرے اس کیریئر سے کوئی سروکار نہ تھا ۔ وہ مجھے صرف اور صرف پولیس یا آرمی آفیسر دیکھنا چاہتے تھے۔ جی قارئین یہ وہی عطا ء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہیں۔ جنہوں نے چالیس ہزار گیت گائے۔ مارکیٹ میں جن کے چھ سو سے زائد کیسٹ موجود ہیں۔ گنیز آف ورلڈ ریکارڈ میں جن کا نام موجود ہے۔ جنہوں نے پروفیسر منور علی ملک، فاروق روکھڑی، آڈھا خان ، عتیل عیسیٰ خیلوی ، یونس نیازی، مجبور عیسیٰ خیلوی ، سونا خان بے وس،اظہر نیاز، مظہر نیازی ، ایس ایم صادق ، افضل عاجز، مظہر نیازی ، محمد محمود احمد ، نزیر یاد ، فدا ملک، صابر بھریوں، منشی منظور احمد منظور، شاکر شجاع آبادی، بری نظامی، ناز خیالوی، اعجاز سیال ، اعجاز تشنہ، ابن انشاء، تنویر شاہد محمد زئی، ابن انشاء، احمد فراز، ریاض الرحمن ساغر، استاد قمرجلالوی ، شکیل بدایونی، جگر مراد آبادی جیسے اساتذہ کے کلام کو اپنی سخر انگیز آواز میں عزت اور شہرت بخشی۔قارئین یہ وہی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی ہیں جنہیں حکومت پاکستان نے 1992 ء میں صدارتی ایواڈ سے نوازا۔ ملکہ برطانیہ نے لائف ٹائم چیف منٹ ایواڈ سے نوازا۔ اس سال حکومت وقت نے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا اور 21 جون 2019ء کو الحمر آرٹ کلچر اینڈ کونسل نے ان کی پچاس سالہ گائیکی پر انہیں خوبصورت انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

یہ وہی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہیں جنہوں نے 2017ء میں مظہر نیازی کا لکھا ہوا ترانہ گا کر 22 کروڑ عوام میں یکساں مقبولیت حاصل کی اور اپنی سابق شہرت کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ اگر میں کہوں کہ عطاء اللہ عیسی خیلوی کے اسی ترانے نے عمران خان کی کامیابی کے پورے کے پورے دروا کیے تو میری اس بات میں ذرا بھر مبالغہ نہ ہو گا ۔ عطاء اللہ عیسی خیلوی دھن کے ایسے پکے انسان ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ خوش قسمتی کسی وقت بھی تمہارے دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔ خواہ تم جس شعبے سے بھی ہو۔ اس لمحے کا انتظار کرو۔ آنکھیں بند نہ کرنا۔ وہ لمحہ گزر جائے گا۔ کان بند نہ کر لینا۔ دستک ایک ہی دفعہ ہوتی ہے۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ عطا ء اللہ عیسیٰ خیلوی ایک عہد کا نام ہے اور ایک عہد ساز شخصیت ہیں۔ آپ آنے والے گائیکوں کے لیے ایک نمونہ ہیں۔ ایک مشعل راہ ہیں۔ یہ دنیا کے وہ واحد گلوکار ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں اپنی آواز کے ذریعے ملک عزیز پاکستان کا نام روشن کیا اور آپ کو اپنی گائیکی میں دکھ، درد، کرب، ہجر اور سوز کی بناء پر در د کے سفیر، جیسے لقب سے بھی نوازا گیا ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین


ای پیپر