ابتدائی چند فیصلے
26 اگست 2018 2018-08-26

ابھی تو نئی حکومت کو بنے ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا۔ نئے وزیر اعظم نے الیکشن جیتا نئی کابینہ تشکیل پائی۔ایک ہفتہ میں وفاقی کا بینہ کے دو اجلاس بھی ہو گئے۔واقعات کی رفتار بہت تیز ہے۔شاید امیدوں کے بلند مینار کھڑے کرنے کے بعد ایسی تیزی دکھانی سیاسی مجبور ی بھی ہے۔عوامی مسائل حل ہوں نہ ہوں ان کو یہ تاثر ملنا چاہیے کہ بہت کچھ ہو رہا ہے اور ان کی زندگی میں بہت بڑی نمایاں تبدیلی آنے والی ہے۔ تیزی کا البتہ ایک نقصان ہوا کرتا ہے کہ مخالف قوتیں بھی متحد ہو جایا کرتی ہے۔ نوزائیدہ حکومت کے معاملے میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
اپوزیشن کی جماعتیں 25 جولائی کے بعد اب تک تین مرتبہ متحد اور منقسم ہو چکی ہیں۔ ابھی تک نہ جانے کتنی مرتبہ جمع، تفریق،تقسیم کا یہ عمل جاری رہے۔قلمکار کا یہ خیال ہے کہ وفاقی حکومت کی تیز رفتاری تندو تلخ رویہ،احتساب کی بجائے انتقام کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا رویہ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر دے گا۔اپوزیشن کے اتحاد کا کسی بڑے منصب،عہدے کا الیکشن جیتنے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ وفاقی کابینہ کی تشکیل ہوئی تو وزیر اعظم صاحب نے ڈیڈھ درجن کے قریب اہم وزارتیں اپنے پاس رکھ لیں۔خیال یہ تھا کہ وہ بتدریج یہ وزارتیں مناسب ارکان قومی اسمبلی،ارکان سینیٹ کو سونپتے جائیں گے۔ پھر درون خانہ سے اطلاع آئی کہ بنیادی طور پر وہ وزارت داخلہ اپنے پاس رکھ کر اڈیالہ جیل کے مکینوں کو کسی قسم کی رورعایت کے حق میں نہیں۔لہٰذا و ہ چاہتے ہیں کہ احتساب اور قانونی معاملات کو اپنے آنکھوں سے دیکھتے رہیں۔لہٰذا کابینہ کے پہلے اجلاس میں نواز شریف، مریم نواز شریف کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے۔ جیل میں قید افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ضرورت؟ یہ وہ خود ہی جانتے ہوں گے۔ کیا کوئی ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے جن میں اڈیالہ کے مکینوں کی رہائی کا امکان تھا۔ خاکسار کے خیال میں تو بالکل نہیں۔ جیل کے قیدی کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔ ہر جمعرات کو ان سے مل کر آنے والے ملاقاتی بھی اطلاع دیتے ہیں کہ میاں قائم ہے۔اور وہ اب تک ڈیل کی تمام آفرز سے انکار کر چکا۔ ایسی تمام آفرز ان ڈائریکٹ ہوئی ہیں پیشکش لانے والا گزشتہ دور حکومت کا اہم عہدیدار ہے۔ جو اب سابق ہو چکا۔ تو پھر ای سی ایل میں نام ڈالنے کی کیا وجہ؟اسکا جواب فی الحال معلوم نہیں۔ وزارت داخلہ اپنے پاس رکھنے کی وجہ اور بھی ہے۔ جناب وزیر اعظم اپنے دور اپوزیشن میں ایک سویلن حساس ادارے کی پر فارمنس سے بہت نالاں تھے۔ ان کی سیاسی ایکٹویٹی اور غیر سیاسی روابط سے متعلق اہم انفارمیشن اس ادارے کے توسط سے متعلقہ حکام سے ہوتی ہوتی وزیر اعظم کی ٹیبل تک پہنچ جاتی۔ یہ حقیقت ہے کہ اداروں کو مضبوط کرنے کی پالیسی کے تحت کچھ محکموں کو بہت فعال کیا گیا تاکہ ملک دشمن سر گرمیوں اور کاؤنٹر انٹیلی جنس کا سارا بوجھ عسکری اداروں کو نہ اٹھانہ پڑے۔یہ تمام ادارے نیکٹا کے تحت ایک چھتری کے نیچے کام کرتے۔ ان اداروں کو فنڈز بھی دیے گئے اور جدید آلات و سامان بھی۔ دھرنوں کے دنوں میں پیدا شدہ ناراضگی اب رنگ لا رہی ہے۔ وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں اچھے فیصلے ہوئے لیکن بہر حال وہ تمام فیصلے جن کی اتنی تشحیرکی گئی وہ ماضی میں بھی ہوئے۔ ان پر کچھ عمل در آمد بھی ہوا۔کچھ سرکاری دفتر کی سال خوردہ فائل میں عمل در آمد کے منتظر رہے۔ جہاں تک خاکسار کو یاد ہے وزیر اعظم پاکستان کے صوابدیدی فنڈ ختم کر دیے گئے تھے۔وزیر اعظم پاکستان کسی ترقیاتی منصوبے کا اعلان کرتے تو اس کی حتمی منظوری وزارت خزانہ دیتی۔ اسی طرح ارکان پارلیمنٹ کی گرانٹ بھی عر صہ دراز پہلے بند ہو چکیں۔ ارکان قومی اسمبلی کا استحقاق صرف سالانہ ایک کروڑ کی ترقیاتی سکیمیں تھیں۔جن میں سکول، ہیلتھ، بجلی، گیس کی سکیمیں شامل تھیں۔ یہ منصوبے بھی سالانہ بجٹ کے موقع پر دیے جاتے جن کی باقاعدہ منظوری دی جاتی۔ تاہم اگر اس عمل کو آگے بڑھایا تو یہ خوش آئنداقدام ہے۔ جہاں تک بیرون ملک دوروں کا تعلق ہے تو سوائے چند ہنگامی دوروں کے جن کی نو عیت خارجہ پالیسی کے حوالے سے حساس اور فوری نوعیت کی تھی ان مواقع پر خصوصی طیارے استعمال کیے گئے۔باقی ماندہ دوروں میں وزیر اعظم نواز شریف ہوں یا شاہد خاقان عباسی وہ کمرشل پروازوں پر سفر کرتے رہے۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ بعض دوروں میں بھاری بھر کم وفد ان کے ہمراہ جایا کرتے۔ ان وفد میں کئی مواقع پر اہل صحافت کی بھی بڑی تعداد ہوتی۔ حکمان وقت پر تنقید کے تیربرسانے والے ان اہل قلم کو چاہیے کہ وہ سرکاری دوروں کے خرچ پر پکنک منانے پر قوم سے معافی مانگیں۔ کئی اہل صحافت ایسے ہیں ان کو تو تفریحی دوروں کے اخراجات قومی خزانے میں جمع کرانے چاہیے۔جہاں تک سادگی کا تعلق ہے تو نواز شریف،خاقان عباسی نے جو روایت ڈالی ہے اس کو جاری رکھ کر وزیر اعظم نے اچھا اقدام اٹھایا ہے۔ شاہد خاقان عباسی تو نجی دورے پر اکانومی کلاس میں سفر کرتے اور چند پاؤنڈ کے ہوٹل میں قیام کرکے انقلابی اقدام اٹھا چکے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بات پر تحریک انصاف کے فدائین نے اس سادہ عمل کو ملکی وقار کے خلاف اقدام قرار دیا تھا۔ وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں جناب وزیر اعظم نے ماس ٹرانزٹ کے میگا منصوبوں کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ یہ اعلان بھی خوش آئندہے۔البتہ یہ وضاحت نہ ہو سکی کہ پشاور ریپڈ بس سروس کا منصوبہ بھی اس تحقیقاتی عمل میں شامل ہے یا نہیں۔جس کی لاگت تو 70 ارب کے لگ بھگ ہے۔ سارا پشاور ایک جناتی سائز کا سوئمنگ پول بن چکا۔ لیکن ابھی تک ایک بس بھی سڑک پر نہ اتر سکی۔نہ ہی فوری طور پر اس منصوبے کی تکمیل کا کوئی امکان ہے۔ کے پی کے کی سابق حکومت کے وزیر اعلیٰ اب وزیر دفاع ہیں۔ لیکن ان کے دور کے منصوبوں کی تحقیقات ضروری ہیں۔ورنہ احتسابی عمل کو امتیازی گردانا جائے گا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اب تک پی ٹی آئی حکومت نے دو بڑی پیش رفتوں کا سامنا کیا۔دونوں میں آخری نتیجہ میں سبکی اٹھانا پڑی۔وزیر خارجہ نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارتی خط پر غیر ضروری بیان داغا۔ اگلے روز بھارت نے تردید کر کے دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا۔ پھر امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کے فون نے مشکل میں ڈال دیا۔ پہلے تو پاکستانی وزیر اعظم کو اپنے سے بہت نیچے لیول کے عہدیدارکا فون سننا ہی نہیں چاہیے تھا۔اگر سن لیا تھا تو اس حوالے سے سفارتی پروٹوکول پر عمل در آمد کیا جاتا۔ اور یہ طے کر لیا جاتا کہ خبر کون کس طرح جاری کرے گا۔ نئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ایسی غلطیوں سے سپر طاقت کے ساتھ بد اعتمادی میں اضافہ ہو گا۔
نو تشکیل شدہ حکومت کے ابتدائی دنوں میں ایسے مواقع پر ذرا سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ابتدا میں اگر بڑی غلطیاں ہو ئیں تو فائدہ اپوزیشن اٹھائے گی۔جو بڑی تیزی سے متحد ہو رہی ہے۔


ای پیپر