غربت میں کمی اور چین کی معیشت
26 اگست 2018 2018-08-26

چین کی معیشت کے حوالے سے پوری دنیا میں بحث ہو رہی ہے۔ اس بحث میں 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد سے شدت آئی ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ چین کی معیشت بہت جلد اور تیزی سے اس عالمی معاشی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں مغربی معیشتیں ابھی تک اس بحران کے اثرات سے پوری طرح سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس بحث کی دوسری وجہ چین میں ہونے والی غربت کی کمی ہے۔ گزشتہ 30 سالوں سے چین میں مسلسل غربت کی سطح میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ 3 دہائیوں سے جاری پالیسیوں اور کوششوں کے نتیجے میں چین میں 80 کروڑ افراد غربت کی دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ 2012ء سے چین میں ہر سال ایک کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر اٹھ رہے ہیں۔
چین کی معاشی ترقی کے چرچے پوری دنیا میں ہو رہے ہیں۔ سرمایہ دار ماہرین معیشت چین کی معاشی ترقی کو منڈی کی معاشی اسلامات اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی کی مرہون منت قرار دیتے ہیں اور وہ چین کی معاشی ترقی میں منصوبہ بندی اور ریاست کے کردار کو یکسر نظر انداز کرتیہیں۔ ان کے لئے چین کی معاشی ترقی کی کہانی 1978ء سے شروع ہوتی ہے جبکہ معیشت یہی ہے کہ اگر 1949ء میں چین میں مزدوروں اور کسانوں کا انقلاب برپا نہ ہوا ہوتا اور چیئرمین ماؤ کی قیادت میں انقلابی حکومت قائم نہ ہوتی تو وہ بنیاد ہی بن پاتی جس کی بنیاد پر 1978ء کے بعد سے مسلسل تیز رفتار ترقی ممکن ہو سکی ہے۔
اکثر لوگ چین اور بھارت کی معاشی ترقی کے حوالے پیش کرتے ہیں اور ان ممالک کی تیز رفتار ترقی کو سرمایہ داری کی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر بھارت انتہائی غربت اور غربت میں کمی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا جبکہ چین نے اس معاملے پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اگر چین اور بھارت کے نظام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ بھارت میں اگرچہ معیشت کے بڑے حصوں کو قومی ملکیت میں لیا گیا مگر سرمایہ داری موجود رہی۔ نہرو نے ریاستی سرمایہ داری کو فروغ دیا۔ زرعی اصلاحات کو متعارف کروایا جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچا۔ اس کے برعکس چین میں 1949ء کے سوشلسٹ انقلاب کے نتیجے میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ ہو گیا۔ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور منصوبہ بند معیشت قائم ہو گئی۔
چین میں 1978ء سے بتدریج معاشی اصلاحات متعارف کروائی گئیں اور سرمایہ داری کی بحالی کے اقدامات شروع کئے گئے۔ مگر 1949ء سے چین میں انسانوں کی ترقی کا سفر شروع ہو چکا تھا۔ منصوبہ بندی کے تحت چین میں صنعت کاری کو فروغ دیا گیا۔ جاگیرداری اور زمینوں کی بڑی ملکیت کا خاتمہ کر کے زمینوں کو کسانوں میں مساوی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ اس سماجی تبدیلی نے چین میں بہت کچھ بدل دیا۔ تعلیم ، صعت ، روزگار ، ٹرانسپورٹ اور رہائش کی سہولیات کی فراہمی کا آغاز کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں چین میں انتہائی سستی مگر پڑھی لکھی اور مہارت رکھنے والی محنت کش طبقہ پروان چڑھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب چین نے اپنی معیشت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے کھولا تو دیگر عوامل کے علاوہ کم اجرتوں اور پڑھی لکھی منظم اور ڈسپلن میں کام کرنے والے محنت کش یورپی اور امریکی سرمائے کے لئے انتہائی پرکشش بن گئے۔
1949ء کے بعد سے چین میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں ریاستی کردار نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس طرح تمام تر معاشی اصلاحات کے باوجود مرکزی منصوبہ بندی کبھی بھی ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی چین کی مرکزی حکومت اپنے 5 سالہ پروگرام اور منصوبے کے ذریعے اپنی ترجیحات اورپالیسیوں کو مربوط اور موثر انداز سے آگے بڑھاتی ہے۔
اس کے برعکس بھارت میں 1990ء کے بعد سے نج کاری ، نیول لبرل ازم ، منڈی کی معیشت اور معاشی اصلاحات کے نام پر معیشت میں ریاست کے کردار کو بہت حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ بھارت اپنی دو دہائیوں کی تمام تر تیز رفتار اور بلند معاشی ترقی کے باوجود غربت اور معاشی بدحالی کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ چین کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر دیہی غربت پر قابو پایا اور دیہی آبادی کی آمدن میں اضافہ کیا جبکہ اس کے برعکس بھارت میں دیہی غربت میں نمایاں کمی نہیں ہو سکی۔ البتہ شہروں میں درمیانے طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ آج بھی ہر سال ہزاروں کسان غربت ، معاشی بدحالی اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے خودکشی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
چین میں تمام تر نج کاری ، معاشی اصلاحات ، منڈی کی معیشت کی جزوی بحالی کے باوجود آج بھی معیشت کا غالب حصہ ریاست کی ملکیت ہے۔ تمام تر غیر ملکی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی موجودگی کے باوجود چین کی ریاست معیشت کو چلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب 2008ء میں عالمی معاشی بحران پیدا ہوا اور اس کے نتیجے میں چین کی معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے لگی تو چین کی مرکزی حکومت نے فوری طور پر مداخلت کی اور معیشت کی گراوٹ کو روکا۔ چینی حکومت نے معیشت کو گراوٹ سے بچانے اور معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے کئی سو ارب ڈالر معیشت میں ڈالے۔ اس معاشی بحران کے نتیجے میں تقریباً تمام ہی مغربی حکومتوں نے نیو لبرل ازم اور منڈی کی معیشت کے بنیادی اصول یعنی معیشت میں ریاست کے محدود کردار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھرپور مداخلت کی ۔ صرف امریکی حکومت نے اپنے برے نجی بینکوں ، انشورنس کمپنیوں اور دیگر کاروباری اداروں کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے کئی سو ارب ڈالر خرچ کئے۔ منڈی کی معیشت اور نیولبرل ازم کے چیمپئن حکمران طبقات نے اپنے معاشی مفادات کے لئے ریاست اور ٹیکسوں کے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا مگر یہی حکمران طبقات غریبوں اور محنت کش عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے ریاستی کردار کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں اور اسے سرمایہ داری نظام کے اصولوں کے منافی گردانتے ہیں۔
(جاری ہے)


ای پیپر