وعدے، دعوے اور تبدیلی
26 اگست 2018 2018-08-26

5 سال تک دعوے ، حکومت سازی کے بعد وعدے، وعدے نبھانے کے لیے پھر دعوے ، دعوؤں سے ایک کروڑ 66 لاکھ ووٹروں کو متاثر کرنے کے لیے فیصلے، فیصلوں میں جلد بازی، 100 دنوں میں تبدیلی کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ سب سے بڑا سوال کیا پی ٹی آئی ملک میں تبدیلی لا سکے گی؟ 20 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا، 15 وزیر 5 مشیر، 15 میں سے 12 مشرف کے ساتھی، 8 سال میں جو تبدیلی لائے تھے قوم دہشتگردی کی صورت میں آج تک بھگت رہی ہے، بولے اصل مسئلہ کپتان کا ہوتا ہے اس کپتان نے ایک فون کال پر گھٹنے ٹیک دیے تھے یہ کپتان سر تسلیم خم نہیں کرے گا لوگ کتنی جلدی حالات کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں ’’ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ‘‘ بیشتر وزارتوں کے لیے وہی وزیر، وزیروں کے لیے وہی وزارتیں، شاہ محمود قریشی وزارت خارجہ میں گئے تو مصرع گنگنانے لگے ’’یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے۔‘‘ رعایت لفظی سے کام لے گئے کہنا چاہیے تھا’’ یہ تو وہی جگہ ہے نکلے تھے ہم جہاں سے‘‘ ایسے نکلے کہ کپتان کے دامن میں پناہ ملی، پناہ ملی تو کہاں ملی اب وہی شب و روز، بھیگے پروں سے پرواز کا ارادہ ’’انجام اس کے ہاتھ ہے آغاز کر کے دیکھ‘‘ کپتان خود بھی اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں ایک گھنٹہ 9 منٹ کی غیر روایتی تقریر میں ملک کے تمام مسائل کا پوسٹ مارٹم کر ڈالا، 100 دنوں کے 100 پروگرام، وقت کم مقابلہ سخت، مسائل کا انبار لگا ہے، ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھنی ہے، غیر مہذب لوگوں کو کنٹرول کرنا کتنا مشکل کتنا آسان اس کا تعین وزیر اعظم دو کمروں کے مکان میں بیٹھ کر کریں گے، کیا کرسکیں گے؟ پارٹی لیڈر اور وزیر اعظم میں فرق ہے، پارٹی لیڈر وعدے اور دعوے کر کے کارکنوں کو لبھاتا ہے ،کارکن جوش میں آکر نعرے لگاتے ہیں قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں، وزیر اعظم بنتے ہی چاروں طرف سے بلائیں حملہ آور ہوجاتی ہیں، دعوے وعدوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں، وعدے وفا نہیں ہوتے ،کارکنوں میں مایوسی پھیلتی ہے اور وہ موسمی پرندوں کی طرح کسی اور سمت پرواز کرجاتے ہیں، مہذب معاشرے کی بنیاد میں معتدل معاشرتی رویوں کی آبیاری ضروری ہے، تعمیری انداز فکر ناگزیر ،کتنے ہیں جو اس نہج پر سوچتے ہیں، مخاصمانہ انداز فکر کا خاتمہ، بادی النظر میں نا ممکن ،کابینہ کے پہلے اجلاس ہی میں شریف فیملی ای سی ایل پر ڈال دی گئی، دور تک سوچنے والوں کے لبوں پر تبسم کی لکیر دوڑ گئی، انتقام کے فتوے صادر ہو گئے، اڈیالہ جیل میں زندگی کے شب و روز گزارنے والے تو خود گرفتاری دینے پہنچے تھے، فرار کا کیا سوال، پنچھی خود ہی پنجرے میں آ پھنسے، مخاصمانہ انداز فکر کا خاتمہ ممکن نہیں، مخاصمت کی جگہ مفاہمت نہیں لے سکتی، مفاہمت حالات کا تقاضہ لیکن ماضی گواہ ہے کہ ’’طبیعت ادھر نہیں آتی‘‘ معاشرے میں برداشت اور در گزر کا کلچر پروان چڑھے گا تو تبدیلی آئے گی مگر اس کی ابتدا دو کمروں کے مکان سے ہونی چاہیے، نظام کی، سوچ کی، رویوں کی تبدیلی سے ہی حقیقی تبدیلی کے آثار نمایاں ہوں گے، مدینہ کی فلاحی ریاست باتوں اور پرجوش تقریروں سے نہیں، ذاتی رویوں، اعمال صالحہ، فصیحت کی جگہ نصیحت، نفرت اور منافرت کی بجائے محبت، جہالت کی جگہ علم اور محض اعلانات کی بجائے عملی اقدامات سے وجود میں آئے گی ،5 سال ناکافی ہیں، مدینہ کی ریاست 23 سال میں پروان چڑھی اب سو سال چاہیں، وزیر اعظم کے لیے دعا کی جائے کہ ان کی عمر 166 سال ہوجائے تاکہ وہ فلاحی ریاست قائم کرسکیں لیکن ’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘‘ ذہن میں رکھیے لوگ اسی تبدیلی کے خواہاں ہیں، طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ، معاشرتی مساوات، مخالفانہ آوازوں پر کان بند کرلینے کی بجائے انہیں اہمیت دینے کی عادت، تعلیم کا فروغ، اسلامی اقدار کا تحفظ، انہیں پروان چڑھانے کے لیے اقدامات، صحت کی سہولتیں، غربت کا خاتمہ، ملکی معیشت کا استحکام، بہت طویل سفر طے کرنا پڑے گا ،کیا مکمل تیاری کرلی؟’’ مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے‘‘ بقول خود ’’ہر جگہ مافیا بیٹھا ہے‘‘ کیا اس کا مقابلہ ہوسکے گا؟ ہر شخص اندر سے کرپٹ ہے موقع ملے تو کرپشن کرلی نہ ملے تو صرف خوابوں پر گزارہ، عمران خان خوش قسمت ہیں کہ اپوزیشن تسبیح کے دانوں کی طرح بکھری ہوئی ہے، ایک لڑی میں پروئی ہوتی تو بہت سے سخت مقام راستے میںآ تےِ وزیر اعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیر اعلیٰ پنجاب، سارے تاج اپنے ہی سر پر سج گئے، باہمی تحفظات میں پھنسی اپوزیشن کچھ نہ کرسکی، صدارتی انتخاب میں بھی انشاء اللہ کچھ نہ کرسکے گی، ہاتھ کنگن کو آر سی کیا اسپیکر کے انتخاب میں اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار خورشید شاہ کو پورے ووٹ مل گئے وزیر اعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی پیٹھ دکھا گئی، قومی اسمبلی میں ن لیگ کے احتجاج کے دوران ہی پیپلز پارٹی کی خاموشی زبان حال سے کہہ رہی تھی’’ میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے‘‘ سب سمجھتے ہیں لیکن اپنی اپنی ضرورتیں، مفادات اور مجبوریاں سر اٹھانے نہیں دیتیں آزادی کے لیے ضمانت ضروری، ضمانت کے لیے کسی نہ کسی مرحلہ پر سر جھکانا نا گزیر، زرداری نواز شریف نہیں دوسروں سے متھا لگا کر بیٹھ گئے دوسروں نے تیسرے کا ماتھا چوم لیا ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ پہلا جیل گیا تیسرا سر فراز ہوا دوسرا سر تسلیم خم کرنے پر مجبور، پانچ سال اسی مجبوری میں گزریں گے جو حکومت کے لیے نیک فال ہے، اپنا اپنا اسٹیمنا ہے کہتے ہیں عمران خان پوری زندگی میں صرف 5 دن جیل میں رہے نواز شریف کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا زرداری کا جیل میں بھی اپنا بنگلہ تھا گھر والوں کی آمد و رفت جاری رہتی تھی کہنے کو گیارہ سال جیل کاٹی لیکن ایک دن بھی جیل میں نہیں رہے، نواز شریف اتنے خوش قسمت نہیں ہیں اڈیالہ جیل آکر جاتی امرا کا راستہ بھول گئے ہیں جج موسم گرما کی چھٹیوں پر چلے گئے بینچ تبدیل ہوگیا موسم گرما کی چھٹیاں بھی ابھی آنی تھیں، سماعت کب ہوگی کب تک ہوگی اللہ جانے، رگڑا کب تک دیا جائے گا یہ بھی اللہ ہی جانے، علام الغیوب ہے کسی کی ہر معذرت قبول کسی کی ہر درخواست مسترد، نظام قدرت ہے، دخل اندازی توہین، اپوزیشن کے انتشار سے فائدہ اٹھا کر ہی حکومت آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگی، دونوں پارٹیاں ندی کے دو کناروں کی طرح متوازی چلتی رہیں تو تحریک انصاف کی حکومت پانچ کیا دس سال قائم و دائم رہے گی، پیپلز پارٹی کے کان میں پھونک دیا گیا ہے کہ مخالفت کی ضرورت نہیں ورنہ فائلیں کھل جائیں گی سوئٹزر لینڈ زیادہ دور نہیں چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے چنانچہ پیپلز پارٹی نے دکھاوے کے لیے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے، اعتزاز احسن ہارنے کے عادی نہیں کیوں کھڑے ہوگئے؟ رضا ربانی کی طرح لائق فائق شخص کو چارے کے طور پر استعمال کرنا کوئی اچھی بات نہیں ؟کیا نظر آرہا ہے عارف علوی صدر بن جائیں گے؟ لائق فائق شخص کی کیا عزت رہ جائے گی، اسے چھوڑیے یہ بتائیے تبدیلی کب آنا شروع ہوگی؟ ابھی صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں ان میں بھی 12 چہرے آزمودہ ہیں، نظام بدلے گا تو تبدیلی کے آثار پیدا ہوں گے، اِدھر اُدھر اوپر نیچے ہر طرف چیلنجز ہیں، سوچنا ہوگا انہیں کیسے حل کیا جائے، دعوے وعدوں میں ڈھل گئے ہیں وعدوں کا ایفا آسان نہیں، لوگوں نے ابھی سے کہنا شروع کردیا ہے کہ پاکستان کو باتوں کی نہیں عمل کی ضرورت ہے، عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی مگر اس کو کیا کہا جائے کہ کہنے والے خود بھی پانچ سال باتیں ہی کرتے رہے ہیں، وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار اور دعا کہ وہ کسی سے متھا نہ لگائیں۔


ای پیپر