اقبال اور جناح کا تصورپاکستان اورعمران خان
26 اگست 2018 2018-08-26

قوم نے آزادی کی اکہترویں سالگرہ منائی ہے۔ تخت سکندری پربزعم خویش قلندکا ورودہوا ہے جو قوم کو دکھا دے گا " حالات کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر" خان صاحب نے بارہاقوم سے وعدہ کیا کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن سے انسپائرہیں اوربابائے قوم کے تصورکی ریاست کا احیاء چاہتے ہیں۔عالمی شہرت کے حامل بائیں بازوکے معروف پاکستانی دانشوراقبال احمد نے کہاتھا" وکٹورین لائف اسٹائل اور مغربی سیکولرنظام تعلیم کے پروردہ محمدعلی جناح جدید مورخین کیلئے معمہ ہیں کہ اس سراپاDescartian ) ( مائنڈ سیٹ کی حامل شخصیت نے کیونکرمذہب کے نام پرریاست قائم کرنیکا بیڑا اٹھایا اورکامیاب رہا۔ ایک بھولی بسری حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کے آخری چھ سالوں کے سوا عمربھرہندومسلم اتحادکا سفیراور متحدہ ہندوستان کا خواہاں رہا"۔یاد رہے کہ جناح صاحب سے پہلے گاندھی صاحب نے سیاست میں مذہب کو استعمال کیا جس پر رابندرا ناتھ ٹیگورنے گاندھی جی کوبروقت خبرداربھی کیا کہ یوں سیاست میں مذہبی جزبات کے استعمال سے آپ بھارتی سیاست کو Communalismکی طرف بڑھاوا دے رہے ہیں اورانجام سے نابلد ہیں، مگرگاندھی بضدرہے اورمسلم کمیونٹی کو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مورچہ زن ہونا پڑا۔المیہ یہ ہے کہ ہمارا سیکولراوربائیں بازو کا طبقہ اگرچہ اقبال کے خلاف زہرافشانی کرتا ہے کہ اس کی شاعری اورتحریروں سے دوقومی نظریے کی بنا پڑی اورہندوستان کو تقسیم کے عمل سے گزرنا پڑا، جبکہ جناح پرسیکولراورکمیونسٹ ملائیت کو قدرے اتفاق ہے کہ 11اگست کی تقریرکو سیاق وسباق سے نکال کرجناح صاحب کے سیکولر(credentials) طے ہوجاتے ہیں کہ اس میں بابائے قوم نے اگرچہ سیکولرریاست کا نام تو نہ لیا مگرواضح لفظوں میں کہا کہ پاکستان میں تھیوکریسی یعنی ملائیت نہیں چلے گی۔
جناح صاحب برصغیرکے صف اول کے وکیل تھے اوروہ لفظوں کا استعمال یوں جانتے تھے جیسے کوئی مصوررنگوں کا استعمال جانتا ہو۔وہ اصطلاحات سے وابستہ تاریخ اورفلسفے کاادراک رکھتے تھے ورنہ ان کیلئے سیکولرازم کی اصطلاح غیرفہم نہ تھی، وہ ایک ایسے دیانتدارسنارکی مانند تھے جو وزن کرنے سے پہلے زیورمیں جڑے نگینوں کو نکال دیا کرتا ہو۔اس لیے انہوں نے مذہبی رواداری کا اعلان کرتے ہوئے ہرپاکستانی کو مسجد ،چرچ یا گردوارے میں جانے کا آزادانہ حق دیامگرتاریخ یورپ میں سیکولرازم کی ترویج سے مذہبی بے راہ روی کا ادراک کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ پاکستان ایک سیکولراسٹیٹ ہوگی اوربلاشبہ جب بھی قانون وآئین سے متعلق سوال ہوئے انہوں نے کہا اس کا فیصلہ آئین ساز اسمبلی کرے گی۔وہ ہمیشہ اپنی نسوں میں برف بھر کربولنے کے عادی تھے اورایک مایہ ناز وکیل سے یہی توقع کی جانی چاہئے۔تاہم قائداعظم محمدعلی جناح کا یہ بیان کہ " میں خود کو اقبال کا ادنیٰ ساسپاہی سمجھتا
ہوں!ان کے باطن ومافی ضمیرکی گواہی دیتا ہے۔ گورنر جنرل کے عہدے کی حلف برداری کی تقریب میں جب ماؤنٹ بیٹن نے کہا کہ امید ہے مغل اعظم اکبرکی مذہبی رواداری کی روایت کو پاکستان میں جاری رکھا جائے گا تو جناح نے برملا غیرمعذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ ہمیں سبق نہ پڑھائے جائیں ہماری مذہبی رواداری کی تاریخ چودہ سوسالوں پرمحیط ہے، ہم جانتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے کیسے یہودیوں پرفتح پائی اورکیسے میثاق مدینہ میں مذہبی رواداری کے انمٹ اصول دنیا کو پیش کیے۔اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ پہلی اوردوسری جنگ عظیم جیسے سانحات یورپ کی استحصالی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ تھے، ہمیں اسلام کے رہنما اصولوں کی روشنی میں اپنی معاشی پالیسیوں کی تشکیل کرنا ہوگی۔ یہ کوئی عصرحاضرسے لاتعلق ملا یا صوفی نہیں بلکہ یورپ کے جدیدترین نظام تعلیم اور معاشرت میں پروان چڑھا برصغیرکا روشن ترین دماغ بول رہاتھا۔
عمران خان نے اپنی انتخابی فتح پرمختصرمگرجامع خطاب میں ریاست مدینہ کی طرزپراسلامی فلاحی ریاست کا ذکرکیا کیاکہ ہماری سیکولراورکمیونسٹ ملائیت کوڈراؤنے خوابوں نے گھیرلیا۔ یہ تو پہلے طالبان خان تھااب خلافت کا علمبرداربن گیا ہے اورقائداعظم کے چنگے پھلے سیکولرپاکستان کو تھیوکریسی کی طرف لیکرچل پڑا ہے۔ اقبال کی وفات پرمودوددی صاحب نے کہا تھا کہ لوگوں کو گھونٹ بھرمغربی داانش میسرآئی اوروہ بہک گئے ، مگراقبال نے مغربی دانش اورعلم وحکمت کودجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، دریا بہ دریا جو بہ جو نوش کیا، مگربہکے نہیں اوران کا اپنے تہذیبی اثاثے پرایقان پختہ تر ہوتا چلا گیا، یہی حال جناح کا تھا، کسی حدتک یہی حال عمران خان کا ہے۔وہ برطانوی معاشرت میں پروان چڑھاہے ، آکسفورڈ کا فارغ التحصیل ہے۔ مگر وہ اپنے مذہبی ، تہذیبی اورکلچرل روٹس سے جڑکرکھڑاایک غیرمرعوب پاکستانی لیڈرہے۔
کہا جارہاہے کہ قائداعظم اگرمدینہ کی طرزپراسلامی ریاست چاہتے تو جگندرناتھ مینڈل کوکیونکر وزیرقانون بناسکتے تھے، یا سرظفراللہ خان کوکیونکروزارت خارجہ کا قلم دان تفویض کرسکتے تھے۔عزیزان گرامی قدر!اسلام شروع دن سے اجتماعیت پسنداورمیرٹ کا دلدادہ ہے۔ریاست مدینہ میں عبداللہ بن ابی کو رئیس المنافقین سمجھتے ہوئے بھی قبولا گیا کہ وہ یہودی کمیونٹی کا سیاسی طورپرقدآورموثرکردارہے ۔اس کے پے درپے منافقانہ حملوں پرجب فاروق اعظم نے اس کے قتل کی سروردوعالم سے اجازت چاہی توفرمایا انتظارکیجئے ،، نوبت بہ ایں جا رسیدکہ خوداس کا بیٹاتنگ آکرحضورﷺ سے باپ کے قتل کی اجازت پررضامندنظرآیا توحضورعمر کی طرف دیکھ کرمحض مسکرادیئے اورفرمایا عمراگرہم کوئی ایکشن لیتے تو تاثرجاتا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھتے ہیں ۔تاہم مغرب جسے Religious Pluralism کہتا ہے اس کی اس سے بہترکوئی مثال ہے دنیا کی تاریخ میں؟ پھرہم دیکھتے ہیں مسلم عہد اسپین میں جامعات اور فنانس کے اہم عہدوں پرزیادہ تریہودی متمکن رہے اور یہودی قیام اسرائیل کے باوجود مسلم عہد اسپین کو یہودی تاریخ کا سنہرا دورکہتے ہیں ۔جب اسپین سے مسلم انخلاء کے بعدیہودیوں پرعیسائیت نے قہرتوڑا توسلطنت عثمانیہ تھی جس نے Gestapu ridden and Ghetoizedیہودی کمیونٹی پرامن اور خوشحالی کے دروا کیے۔عمران خان کو چاہئے کہ وہ قائداعظم کی طرزپراقلیتوں کو نہ صرف تحفظ دیں بلکہ میرٹ کی بنیادپرعہدے دیں۔قائداعظم نے تقسیم کے بعدکراچی کے ہندوتاجروں کو ہرقسم کا تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔قائداعظم نے ممبئی والا گھراس لیے نہیں بیچا تھا کہ وہ بھارت کیساتھ منروڈاکٹرائن کی طرز پرخوشگوارتعلقات چاہتے تھے۔پی ٹی آئی حکومت کیلئے بھارت سے تعمیری تعلقات قائم کرناکڑا امتحان ہوگاکیونکہ نوازشریف نے بھارت سے غیررسمی انداز میں راہ ورسم بڑھانے کی بھاری قیمت اداکی ہے۔
تاہم خان صاحب اگربابائے قوم کی اصول پسندی، دیانت داری، کردار، قومی ہمدردی اورسادگی کو شعار بناتے ہیں تو قوم کا اعتماد بڑھے گا۔وہ جو سمجھتے تھے کہ ہرحکومتی عہدیدارکو چائے گھرسے پی کرآنا چاہئے، جس نے مشرقی پاکستان کے دورے کیلئے مہنگا طیارہ کرائے پرلینے سے انکارکیا کہ غریب قوم کے سربراہ کو یہ لچھن زیب نہیں دیتے۔جس بوڑھے اوربیمارشخص نے گورنرہاؤس میں لفٹ لگوانے سے انکارکردیاکہ اس کی قوم افورڈ نہیں کرسکتی۔جس نے بھائی کووزٹنگ کارڈ پر برادرآف گورنرجنرل پاکستان لکھوانے پرنہ بخشا، جس نے برطانوی شاہی خاندان کی اہم شخصیت کا ایئرپورٹ پراستقبال کرنے سے انکارکیا کہ کیا کل برطانیہ ایسا پروٹوکول گورنرجنرل پاکستان کے بھائی کو دے سکتا ہے؟جس نے علیگڑھ یونیورسٹی میں امامیہ کی بجائے اسلامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے قیام کی تائیدکی تھی۔جس کی پارلیمنٹ میں حاضری کا رکارڈسوفیصد تھا۔ خان صاحب اگرآپ نے قائداعظم کے سیاسی اورذاتی اصولوں کی پیروی کی تو ہمیں یقیناًنیا پاکستان میسرآسکتاہے، اگرPsychosis of Self-righteousness کا شکارہوئے جس کے امکان قوی ہیں توپھر"اسٹیٹس کو" اورتاریکیاں ہمارا مقدررہیں گی۔چومکھی لڑائی لڑکرپاکستان کا مقدمہ جیتنے والی razor sharp intelligencکی حامل شخصیت جسے بائیوگرافرزPainfully honest کردارلکھتے ہیں، قیام پاکستان کے بعدکن چیلنجزسے گزرا؟ ایک اچھی کیس اسٹڈی ہوگی! خان صاحب کل یہ کہتے زینہ اقتدارسے نہ اتریں " آنکھوں میں اڑرہی ہے لٹی محفلوں کی دھول،، عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو! لہٰذا اقبال کی سنئے !
عشق ہے دل کی شہنشاہی ، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم


ای پیپر