نیب:اتنی نہ بڑھا پاکئیِ داماں کی حکایت!

26 اگست 2018

ساجد حسین ملک



سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے خلاف اسلام آباد نیب کورٹ 2کے جج جناب ارشد ملک کی عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت جاری ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ اور میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2رُکنی بنچ کے سامنے بھی میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کورٹ 1اسلام آباد کی طرف سے 6جولائی کو ملنے والی سزاؤں کے خلاف اپیل اور ان سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں کی سماعت بھی جاری ہے۔ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے دوران ملزم (میاں محمد نواز شریف ) کی نیب کورٹ اسلام آباد میں حاضری لازمی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ اسلام آباد لانے لے جانے کے لئے پہلی پیشی پر بکتر بند گاڑی کی سواری کا جو انتخاب کیا گیا اس پر کافی لے دے ہوئی ۔ مسلم لیگ ن کے پُر جوش حامیوں نے ہی ا س پر اعتراضات نہیں اُٹھائے بلکہ عام لوگوں نے بھی تین بار ملک کی وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے والی شخصیت کے لئے بکتر بند گاڑی جیسی سواری جو عموماً دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والے ملزموں یا سزائیں پانے والے مجرموں کی نقل و حمل کے لئے استعمال کی جاتی ہے کے چناؤ کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ یقیناًمیاں محمد نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ اسلام آباد تک لانے اور واپس لے جانے کے لئے بکتر بند گاڑی کا چناؤ کوئی معقول فیصلہ نہیں تھا۔اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ اسلام آباد تک (میرے اندازے کے مطابق) کم و بیش 28/30کلو میٹر کا یکطرفہ فاصلہ بنتا ہے ۔ اتنے طویل سفر کے لئے بکتر بندجیسی گاڑی کا چناؤ بذاتِ خود ایک سزا سے کم نہیں تھا۔ اچھا ہوا اڈیالہ جیل انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ نے میاں محمد نواز شریف کو نیب کورٹ میں بکتر بند گاڑی میں لانے اور لے جانے کی بجائے دوسری مقابلتاً آرام دہ اور تیز رفتار سواری لینڈ کروزر کو استعمال میں لانا شروع کر دیا ہے۔
العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز جن کی اکٹھے سماعت ہو رہی ہے کی سماعت کے دوران میاں محمد نواز شریف کا اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ اسلام آنے جانے کا سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے اور نیب ان ریفرنسز میں میاں محمد نوازشریف کو مجرم قرار دے کر اُنہیں سزائیں دلوانے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔ لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2رُکنی بنچ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرصفدر کو ملنے والی سزاؤں کی معطلی اور سزاؤں کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل جناب سردار مظفر علی عباسی کو سزاؤں کے حق میں بروقت دلائل نہ دینے پر جس طرح کی خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کا تذکرہ بے جا نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے پنجاب کی 56کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب کے بارے میں جو ریمارکس دئیے ہیں وہ بھی کوئی کم چشم کشاہ نہیں ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر نیب کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ اِتنی نہ بڑھا پاکئی داماں کی حکایت تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا۔
یہ درست ہے کہ نیب اپنے چیئرمین جسٹس ریٹائر جاوید اقبال کی سربراہی میں بڑی فعالیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نیب نے ان دِنوں بہت سارے سرکردہ افراد جن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز سابقہ سرکاری ، حکومتی اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں کے خلاف کرپشن ، بدعنوانی ، اختیارات کے بے جا استعمال اور ناجائز اثاثے بنانے کے الزامات میں انکوائریاں ہی نہیں شروع کر رکھی ہیں بلکہ آئے روز ان شخصیات کے بارے میں الزامات کی لمبی چوڑی فہرستیں میڈیا کو مہیا کر کے ان کے ملزم سے مجرم ثابت ہونے سے قبل ہی ان کی کردار کشی کا سلسلہ بھی زور شور سے جاری کر رکھا ہے۔ لگتا ہے کہ نیب کے چیئرمین ریٹائر جسٹس جاوید اقبال اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں کا ایک ہی مشغلہ رہ گیا ہے کہ وہ زیر تفتیش افراد کے خلاف انکوائریوں کو مکمل کرنے اور حتمی چالان نیب عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے ان کے بارے میں میڈیا میں جھوٹی سچی خبروں کو جاری کرنے کو زیادہ اہمیت دیں۔ نیب کو یقیناًیہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بدعنوانی، کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات میں ملوث افراد کے خلاف ضروری کاروائی کرے اس لئے کے نیب کے قیام کا مقصد ہی بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ ہے لیکن دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے اور اپنے ایسے اقدامات جن کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کی غیر ضروری تشہیر کرنے اور یہ ظاہر کرنے کہ نیب نے واقعی بدعنوانی کے خلاف اُونچے پہاڑ سر کر لئے ہیں کے حوالے سے نیب کو بہرکیف محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ نیب کی طرف سے میڈیامیں زیر تفتیش افراد کے بارے میں خبروں کی اشاعت کا جیسے اُوپر ذکر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور اس ضمن میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال اور پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا ہے۔ اگلے دِن سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں پنجاب کی 56کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب میں پیش ہونے والے افراد کی میڈیا میں آنے والی خبروں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس موقع پر ریمارکس دئیے کہ نیب کو پگڑیاں اچھالنے کا کوئی حق نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ ملزموں کو نوٹس بعد میں ملتا ہے لیکن ٹی وی پر خبریں پہلے ہی نشر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ جتنی معلومات ملک کے چیف جسٹس کے پاس ہوتی ہیں شاید ہی اتنی معلومات کسی اور کے پاس ہوں۔ تاہم کسی کی طلبی کے معاملے کو خفیہ ہی رہنا چاہیے ۔طلب کیے جانے والا شخص اگر انکوائری میں بے گناہ ثابت ہو جائے تو میڈیا میں پہلے سے چلنے والی خبروں کی وجہ سے اُس کی کیا عزت رہ جائے گی۔ عدالت میں جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کسی کو مجرم کیسے کہہ سکتا ہے ۔
سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کا نیب کے بارے میں یہ نوٹس یقیناًبڑا حوصلہ افزا اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ انصاف کا بنیادی اصول ہے کہ کسی کو اُس کا جرم ثابت ہوئے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اِسی طرح انصاف کے بارے میں یہ بھی بنیادی بات ہے کہ یہ ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ پھر عدالتوں اور احتساب کے اِداروں اَو ران سے متعلقہ صاحب حیثیت اور ذمہ دار افراد کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایسا ذمہ دارانہ، سنجیدہ اور باوقار انداز اپنائیں۔ جو ان کے منصب کے شایانِ شان ہو۔ یہاں مجھے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر علی عباسی کے اندازِ فکر و عمل کا تھوڑا سا حوالہ دینا ہے۔ 6جولائی کو نیب کورٹ 1اسلام آباد کے جج محترم محمد بشیر نے میاں محمد نوازشریف ، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانا تھا۔ فیصلہ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے تاخیر سے سُنایا گیا تو میڈیا سے متعلقہ افراد فیصلے کی تفصیلات جاننے کے لئے سخت بے تاب تھے۔ جناب سردار مظفر علی عباسی نے دھوپ کے انتہائی قیمتی اور خوبصورت چشمے لگائے ہوئے ایک ہیرو کے انداز میں فیصلے کی جزئیات میڈیا کے سامنے اس طرح پیش کیں کہ میڈیا پرسن جناب سردار مظفر عباسی کے سامنے زبان ہلانے کے بھی مجاز نہیں تھے۔ لیکن 4/5ہفتے بعد انہی سردار مظفر علی عباسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ملنے والی سزاؤں کی معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اسے اگر بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کا نام دیا جائے تو ایسا کچھ غلط نہیں ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2رکنی بنچ کے سامنے سزاؤں کی معطلی اور اپیل کی سماعت پر صفائی کے وکلاء خواجہ حارث اور امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جناب سردار مظفر علی عباسی کو جوابی دلائل دینے کے لئے کہا۔ سردار مظفر علی عباسی دلائل دینے کی بجائے کیس کے التوا کی دہائی دینے لگے۔ اس پر بنچ کے فاضل ارکان نے جو ریمارکس دئیے وہ جناب سردار مظفر علی عباسی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر ہی سوالیہ نشان نہیں تھے بلکہ 4/5ہفتے قبل انہوں نے ہیرو بننے کا جو مظاہرہ کیا تھا اُس کو بھی زیرو کر رہے تھے۔ یقیناًہمارے لئے عبرت کے بہت سے سامان ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اقتدارواختیارات کے مالک ہوتے ہیں تو غرور و تکبر ہم میں اس طرح سما جاتا ہے کہ ہمیں کچھ اور یادہی نہیں رہتا۔

مزیدخبریں