پاکستان کا پہلا سادہ کفایت شعار وزیر اعظم :عمران خان
26 اگست 2018 2018-08-26

عوام پاکستان کے قیام سے اب تک جس تبدیلی کا انتظار کر رہے تھے ، وہ تبدیلی بتدریج آ رہی ہے۔۔۔تبدیلی آچکی ہے اور رفتہ رفتہ دکھائی بھی دے رہی ہے۔ تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما اعجازاحمد چوہدری نے درست کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی حکومت ن لیگ کے شور شرابے کا جواب اپنی کارکردگی سے دے گی،عوام نے ووٹ کو عزت دے کر ن لیگ کو عبرت کا نشان بنا دیا ہے‘۔ سروے بتا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی عوامی مقبولیت میں 9روز میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے منتخب سیاسی حکمران ہیں، جنہیں عوام تاریک رات میں امید ک، تیزی سے ابھرتے سورج کے روپ میں دیکھ رہے ہیں ۔ کفایت شعاری کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ گزشتہ 2 جمہوری حکومتوں کے دور میں قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا گیا اور ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔ زرداری اور نواز دور میں جتنے قرضے لیے گئے مجموعی طورپر 60 برسوں میں اتنے قرضے نہیں لیے گئے۔ ۔ شریف برادران نے ملک لوٹنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نواز دور میں گردشی قرضے 1140ارب سے بڑھ گئے جبکہ 100ارب روپے کے قریب بجلی چوری اور لائن لاسز ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے چار ماہ سے لوڈشیڈنگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی ذمہ دار بھی نواز کی نا اہل حکومت ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ن لیگ کی حکومت کو بحرانی کیفیت میں اس طرح مبتلا کرکے رخصت ہوئی کہ ملکی خزانہ خالی ہے، ملک پانی کے بحران کا شکار ہے ، پانی کے حوالے سے کوئی نیا منصوبہ نہیں بنایا ، زرعی شعبہ کو زبوں حال کردیا، ملک کی صنعتیں بند ہونے کے قریب ہیں، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، قوم مقروض ہو چکی ہے، ڈویلپمنٹ ورک کا پیسہ ادھار کا ہے۔ مسائل کے مقابلے میں وسائل انتہائی کم ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ نواز شریف نے صوابدیدی فنڈز کے اربوں روپے درباریوں میں تقسیم کئے۔اس کے باوجودنئی حکومت نے آتے ہی عوام دوست فیصلے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ امریکہ عمران خان کی حکومت کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ کو تابع دار وزیراعظم وارا کھاتا ہے۔ طرز حکمرانی میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ سادگی و کفایت شعاری کی حکومتی پالیسی لائق تحسین ہے۔ قوم لوٹی ہوئی دولت کی واپسی چاہتی ہے۔عام آدمی کا کہنا ہے کہ ۔ نئی حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ملک و قوم سے دشمنی ہے۔
اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان نے کفایت شعاری اور سادگی کو حکومتی سطح پر اپنانے کا اعلان کیا ہے، وزیر اعظم قول کے پکے ہیں، انہوں نے جو کہا ، وہ کردکھائیں گے۔ عوام کو اپنے وزیر اعظم پر پورا بھروسا ہے، سوائے ’سٹیٹس کو ‘کی بحالی کے لیے آخری زور لگاتی اور دم توڑتی اپوزیشن کے۔ عام آدمی کو یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اقنے پانچ سالہ آئینی دورانیے میں بے روز گاروں کو ایک کروڑ نوکریاں اور بغ گھر لوگوں کو 50لاکھ گھر دینے میں کامیاب رہیں گے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی وفاقی کابینہ کے دوسرے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صدر مملکت، وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے جمعے کو پریس کانفرنس میں کابینہ میں کیے جانے والے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا۔انھوں نے صوابدیدی فنڈز کے بارے میں کہا ’سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 21 ارب روپے، صدر مملکت نے آٹھ سے نو کروڑ روپے کے صوابدیدی فنڈز استعمال کیے جبکہ 30 ارب روپے اراکین قومی اسمبلی نے استعمال کیے‘۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں یہ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ وہ سرکاری جہاز استعمال نہیں کریں گے اور کمرشل فلائٹ سے ہی سفر کریں گے‘۔ وزیر اعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ دوروں میں اپنا خصوصی جہاز استعمال نہیں کریں گے۔ وہ غیر ملکی دوروں کے لیے فرسٹ کلاس میں نہیں بلکہ کلب کلاس میں سفر کیا کریں گے۔ وفاقی کابینہ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’ملتان، اسلام آباد، لاہور اور اورنج لائن ٹرین منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو ایف آئی اے سے اس کی تحقیقات بھی کرائی جائیں گی۔مزید برآں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کسی بھی تاخیر کے بغیر نیشنل ایجوکیشن پالیسی لانچنگ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کاکہنا ہے کہ پڑھے لکھے پاکستان کے لئے تمام اقدامات کریں گے،جس تعلیمی معیارکو ہم نہیں اپنا سکے اب اپنائیں گے،بہترین پالیسیاں بنانا ہماری ذمہ داری ہے،آئین پاکستان کے تحت بچوں کوتعلیم سے روشناس کروائیں گے، وزارت میں تمام خالی آسامیوں پر میرٹ پر بھرتیاں ہوں گی،تمام اداروں کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کراوں گا، کروڑوں بچوں کا سکولوں سے باہر ہونا لمحہ فکریہ ہے، اسکل ڈیولپمنٹ ایک اہم جزو ہے،کوشش کریں گے ذیادہ سے ذیادہ بچوں کو سکولوں میں داخلے ملیں۔یہ اطلاع عام شہری کے لیے خوشی کا باعث ہے کہ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ’ سرکاری اشتہارات پر حکومتی اجارہ داری ختم کر رہے ہیں، اشتہارات میں کمی لائیں گے، وزارت اطلاعات کی طرف سے جاری اربوں روپے کے اشتہارات اور بھرتیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ لیں گے، وزیراعظم کو اشتہاروں میں آنے کا کوئی شوق نہیں‘۔
سیاسی مبصرین کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان کی سادگی مہم یقیناً قابل تعریف اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد حد سے بڑھے ہوئے سرکاری اخراجات کو کم کرنا اور وسائل کا بے جا استعمال روکنا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر 2012ء میں آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یورو زون میں کفایت شعاری مہم کی وجہ سے اقتصادی ترقی سست ہو ئی اور قرضو ں کا بحران مزید بڑھ گیا لیکن یورپین یونین کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس کے برعکس کہا کہ کفایت شعاری کی وجہ سے بجٹ خسارے پر قابو میں مدد ملی۔تحقیق کے مطابق کفایت شعاری کی وجہ سے بہت سے ممالک قرضوں کے بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان بھی بلاشبہ ایسا کر سکتا ہے۔ کفایت شعاری کی مہم اس وقت شروع کی جاتی ہے جب قرض اور جی ڈی پی کی شرح خوفناک حد کو چھو رہی ہو۔ عمران خان کو اس حوالے سے بہتر تجویز دی گئی ہے کیونکہ قرضوں کی شرح اس حد تک پہنچ چکی ہے جتنا ملکی پیداوار گزشتہ سال میں ہوئی۔ کفایت شعاری سے بجٹ مینجمنٹ کیلئے کسی بھی مقروض ملک کا اعتماد بحال ہوتا ہے‘۔


ای پیپر