شاندارحج انتظامات اور قصر منیٰ میں پروقار تقریب

26 اگست 2018

یحییٰ مجاہد

گزشتہ برسوں کی طرح دنیا بھر سے لاکھوں فرزندان اسلام نے اس مرتبہ بھی حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اوریہ اللہ رب العزت کا خاص فضل و کرم ہے کہ حج کے دوران کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مملکت سعودی عرب کی جانب سے حجاج کرام کیلئے بہترین انتظاما ت کئے گئے تھے جس پر دنیا بھر میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر حکام کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔بیرون ممالک سے آنے والے عازمین کی تعداد ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد رہی جبکہ سعودی عرب کے حجاج اس کے علاوہ ہیں۔ آنے والے برسوں میں سعودی حکومت 50لاکھ حجاج کرام کی میزبانی کاعزم رکھتی ہے۔ اس سلسلہ میں حج کے فوری بعد مسجد الحرام کی توسیع کا کام دو سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔ اس توسیعی منصوبہ پر 26ارب ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔ مسجد میں توسیع کا کام کرین گرنے سے پیش آنے والے حادثہ کے بعد بند کر دیا گیا تھا تاہم اب سعودی عرب کا بن لادن گروپ دوبارہ اس توسیعی منصوبہ پر کام کا آغاز کر رہا ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں اس توسیعی منصوبہ کا اعلان کیا گیا تھا۔سعودی حکام کی جانب سے سرکاری سطح پر اس سال حج کے کامیاب ہونے اور کسی قسم کی بیماری سے پاک ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔گورنر مکہ مکرمہ اور مرکزی حج کمیٹی کے صدر شہزادہ خالد الفیصل نے کہا ہے کہ ڈھائی لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے حج کے دوران خدمات انجام دی ہیں۔ اس سال ایرانی حاجیوں کی تعداد 86ہزار رہی۔ گورنر مکہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قطر کی حکومت نے حج کی ادائیگی کیلئے اپنے شہریوں کو سرزمین حرمین شریفین پر آنے کی اجازت نہیں دی جبکہ مملکت سعودی عرب کیخلاف مذموم پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ اس نے قطر کے عازمین کو حج سے منع کر دیا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ سعودی عرب دنیا بھر کے تمام ممالک سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام کے استقبال اور ان کی خدمت کیلئے مستعد ہے۔ خادم الحرمین الشریفین نے اس سلسلہ میں زور دیکر کہا تھا کہ اگر قطر کی حکومت اجازت دے تو وہ حج کی ادائیگی کے مقصد سے آنے والے حجاج کیلئے جہاز روانہ کر سکتا ہے لیکن قطری شہریوں کو اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ حج بیت اللہ کے دوران عام صحت پر اثر انداز ہونے والا بھی کسی قسم کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مکہ ترقیاتی کمیٹی کے تحت مقدس مقامات میں 10 مختلف فلاحی منصوبوں پرکام کیا گیا جن میں پیدل چلنے والوں کیلئے راستوں کو وسیع کرنے کے علاوہ بعض مقامات پر سائبانوں کی تنصیب بھی شامل ہے۔ گزرگاہوں کو عام شاہراہوں سے جدا کیا گیا تاکہ پیدل چلنے والے ضیوف الرحمن کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے اور وہ اپنا سفر آرام سے مکمل کریں۔ مشاعر میٹروسروس کے ذریعے اس سال3لاکھ 50ہزار حجاج کرام کو منیٰ سے عرفات ، مزدلفہ اور منیٰ منتقل کیاگیا جبکہ 18لاکھ حجاج کیلئے 18ہزار بسوں کا خصوصی بندوبست کیاگیا۔ وزارت صحت کی جانب سے مشاعر مقدسہ میں 135 طبی مراکز قائم کئے گئے جبکہ 106 طبی یونٹس نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔یعنی حج بیت اللہ سے متعلق انتظامات ہر حوالہ سے شاندار رہے۔ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ضیوف الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کو مقدس اور پاک سرزمین آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ وہ مقام ہے جس کے لئے تمام مسلمانا ن عالم کے دل دھڑکتے ہیں۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حج پر آنے والے تمام بھائیوں کے سفر حج کو شرف قبولیت بخشے۔ انکی محنت کو بار آور کرے اور انکی دعائیں قبول فرمائے۔آمین۔
حج بیت اللہ کے موقع پر اس سال خطبہ حج امام مسجد نبوی ؐ اور مدینہ منورہ کے قاضی الشیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے دیا جسے بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ خطبہ حج کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ مسلمان کا مال، خون اورعزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ اسلام ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ نبی اکرمؐ کی پیش کردہ اخلاقیات کسی بھی بے گناہ کو نقصان پہنچانے سے روکتی ہیں۔ معاشرے کے امن کیلئے ہرمسلمان کو کوشش کرنی چاہیے جبکہ سیاست اور معیشت کودین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو حکمرانوں کی فرمانبرداری اوراطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح حکمران بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کرے اورہرطرح کی برائی کو روکے۔ امام مسجد نبویؐ الشیخ حسن بن عبدالعزیزکا خطبہ حج بہت اہمیت کا حامل اورصحیح معنوں میں مسلم امہ کے جذبات کا ترجمان تھا۔انہوں نے امت مسلمہ کو درپیش مسائل اوراسلام کیخلاف سازشوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا۔ خاص طور پرخطبہ حج میں فتنہ تکفیر اور خارجیت کا شکار گمراہ گروہوں کے باطل نظریات کی جس طرح بیخ کنی کی گئی آج کے حالات میں یہ بہت ضروری ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی قوت جب کبھی مضبوط ہونا شروع ہوئی تو اسلام اور مسلمانوں کو قوت پکڑتا دیکھ کر ہمیشہ ان کے درمیان فتنوں کے بیج بوئے گئے اور انہیں آپس میں باہم دست و گریبان کرنے کی کوشش کی گئی ۔ آج بھی جب مسلمان ملک بیرونی سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے متحد ہو رہے ہیں۔ اکتالیس اسلامی ملکوں کا اتحاد بن چکا ہے اور مسلمان ملکوں میں دہشت گردی کے فتنہ کی بیخ کنی کی جارہی ہے تو ہر جگہ تکفیری گروہوں کو پروان چڑھایا جارہا ہے ۔ یہ سب کچھ طے۳ شدہ منصوبہ بندی اوردشمن قوتوں کی مسلمانوں پر مسلط کردہ جنگوں کا حصہ ہے۔مرد مجاہد حافظ محمد سعید نے خطبہ حج کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ یہ امت مسلمہ کے لئے بہترین مشعل راہ ہے۔امام مسجد نبوی الشیخ حسن بن عبدالعزیزنے عالم اسلام کے تمام مسائل کا احاطہ کیا اور امت مسلمہ کو نصیحت کی کہ وہ آپس کے اختلافات ختم کریں اور متحد ہو جائیں۔انہوں نے جامع اور مفصل خطبہ میں جہاں مسلمانوں کے مسائل کا ذکر کیا ہے وہیں ان کا حل بھی واضح کیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ خطبہ حج کے دوران کی جانے والی نصیحتوں پر عمل پیرا ہو۔اسی طرح مسلم حکمرانوں کوبھی چاہیے کہ وہ ان حقائق کو بخوبی سمجھیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت کا مطالعہ کرکے قرآن وسنت کی روشنی میں پالیسیاں ترتیب دیں۔ جب تک ہم باطل گروہوں کے نظریات کا علمی بنیادوں پر رد نہیں کریں گے نوجوان نسل کو مکمل طور پر گمراہیوں سے بچانا ممکن نہیں ہے۔حج بیت اللہ کے اختتام پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے قصر منیٰ میں مناسک حج کی کامیابی پرایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی ملکوں کے سربراہان سمیت علماء کرام، عسکری حکام اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق آرمی چیف اور اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کیلئے خصوصی اعزاز و اکرام کا اہتمام کیا گیا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حج کی کامیابی پر مبارکباد دی اور اسلامی ممالک کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضیوف الرحمن کی خدمت ہمارا شرف اور فخر ہے۔ تقریب کے دوران سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی تمام غیرملکی مہمانوں کیلئے توجہ کا باعث بنی رہی۔ حج کے ایام میں پاکستانی عسکری قیادت اور سعودی حکام کے مابین دونوں ملکوں کو درپیش مسائل سے متعلق بھی کھل کر گفتگو کی گئی جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

مزیدخبریں