پی ٹی آئی کی اپوزیشن بھی پی ٹی آئی ہی کرے گی
26 اگست 2018 2018-08-26

اہم صرف وہ ہوتا ہے جسے انسان اہم سمجھتا ہے اور چونکہ ہرانسان کی سمجھ دوسرے سے مختلف ہے سو چیزوں اور واقعات کی اہمیت بھی انسانوں کے ساتھ ساتھ اپنی اہمیت بدل دیتی ہے ۔ مجھے کبھی قصرِ سلطانی کے گنبد پر بسیرے کا شوق نہیں رہا اور میں اقبال کا شاہین بھی نہیں کہ پہاڑوں کی چٹانوں میں جا کر بسیرا کروں ۔ ارسطو کا سماجی حیوان ہوں اور اپنے جیسے انسانوں میں رہنا پسند کرتا ہوں ۔ البتہ یہ خواہش ضرور رہی کہ میرے جیسے لوگ دکھوں کا شکار نہ ہوں اور اپنی اس خواہش کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر محنت کی اورزندگی گزارنے کے آسان رستے بھی ترک کیے ۔اپنی منزلِ مراد کو پانے کیلئے ذلت کے جتنے مناظر اس سماج میں ممکن تھے، دیکھے لیکن اپنے موقف کو بدلا نہیں ۔ ہمیں جب بھی یہ پوچھا گیا ’’بتاؤ کس کو کیا چاہیے‘‘؟ ہم نے یہی جواب دیا’’بتاؤسب کو کیا دوگے ‘‘۔بات کل بھی یہی تھی اور بات آج بھی یہی ہے ۔

میں نے عمران خان کیلئے کچھ نہیں کیا البتہ میں نے وہ سب کچھ کیا جو میرے احساس کا تقاضا تھا اب اگر وہ سب کچھ عمران خان کے خیالات سے ملتا تھا تو بہتر یہی تھا کہ اُس کے ساتھ مل کر جدوجہد کرلیتے ۔ گزشتہ بائیس سال میں ٗ میں نے صرف لاہور میں تحریک انصاف کیلئے جتنا سفر اپنی موٹر بائیک پر کیا ہے اگر زمین کے گرد گھومتا تو واللہ سات چکرپور ے ہو چکے ہوتے۔ بلا کی سردی اور چلچلاتی دھوپ۔۔۔ فطرت کی کوئی بھی سختی رستے میں رکاوٹ نہیں بننے دی۔ چیئرمین کے ساتھ صرف سماجی تبدیلی طے ہوئی تھی اور اس کیلئے یہ سب کچھ کیا۔ نہ کل کسی پنج ہزاری یا دس ہزاری انعام کا لالچ تھا اور نہ ہی آج فتح کے بعد کوئی مطالبہ اپنی ذات کے حوالے سے چیئرمین تحریک انصاف کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں مگر اتنی بات وزیر اعظم پاکستان تک ضرور پہنچانا چاہتا ہوں کہ نون لیگ یا پیپلز پارٹی اخلاقی شکست کے بعد اب احتجاج کی قوت کھو چکی ہے ۔ میں نے نواز شریف کی پاکستان واپسی پر لکھا تھا کہ پرندہ بھی پر نہیں مارے گا اور نتائج آپ کے سامنے ہیں ۔ آنے والے پانچ سالوں میں نون لیگ ایک چھوٹے سے گروپ کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہو گی ، یہی ہر مسلم لیگ کا ماضی ہے ، پیپلز پارٹی سندھ تک محدود رہے گی اور کبھی کبھی اپنی کرپشن کے خلاف ہونے والی کاروائیوں پر انگڑائی لے کر پہلو بدل لے گی ۔ سو، ان سے تو اپوزیشن کی توقع مت رکھیں جو بات سوچنے والی ہے اور میرے نزدیک انتہائی اہم ہے وہ یہ ہے کہ انقلاب اور تبدیلی کے جن جنات کو چیئرمین تحریک انصاف نے بوتل سے باہر نکال دیا ہے، اب یہ واپس بوتل میں نہیں جائیں گے ۔ نوجوان یا عشق کرتا ہے یا انقلاب اور یہ دونوں جذبے پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت نے آپ سے وابستہ کررکھے ہیں ۔اُن کو ایسا بنانے میں آپ نے زندگی کے بائیس سال صرف کیے ہیں ۔اب اُن کی تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں ۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ کسی کو ہر طرح کی غلامی سے نکال کر یہ سوچیں کہ وہ آپ کی غلامی میں رہیں گے ۔ یہاں بات تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا والی ہے۔

آنے والے دنوں میں مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ تحریک انصاف کی اپوزیشن بھی تحریک انصاف ہی ہو گی ۔ وہ جن کی غلامی سے نکلنے کا درس ہم بائیس سال تک دیتے رہے ہیں جب وہ اقتدار کی غلام گردشوں میں انہیں سرداروں، چوہدریوں اور وڈیروں کو بھاگتے دیکھیں گے تو تضاد کا پیدا ہونا یقینی امر ہے ۔ اس کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے کچھ چہرے آپ کو اُن کے سامنے رکھنے ہوں گے (جن کا میں امیدوار نہیں ہوں)تاکہ انہیں اپنے لوگ بھی اپنی حکومت میں نظر آئیں ۔ نوجوانوں کیلئے کوئی نہ کوئی پالیسی فی الفور بنا کر انہیں مصروف کیا جائے اور تحریک انصاف میں جتنا جلدی ممکن ہو انٹرا پارٹی الیکشن کروا دیئے جائیں تاکہ لوکل باڈی الیکشن آسانی سے پاکستان بھر سے جیتا جا سکے ۔یہاں ایک گزارش ضرور کروں گا کہ جو لوگ اقتدار کا حصہ بن چکے ہیں یا ابھی آنے والے دنوں میں بنیں گے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تاکہ تنظیمی ڈھانچے کو الیکشن کی سیاست سے الگ رکھ کر تحریک انصاف کو ایک ادارے کی شکل دی جا سکے ۔اِن کاموں میں تاخیر کا سب سے پہلا نقصان یہ ہو گا کہ تحریک انصاف کی اپوزیشن بھی تحریک انصاف ہی بن جائے گی کہ سوشل میڈیا کہ دور میں آپ انسانی خیالات کو روک نہیں سکتے اور اپنی بات کو بلا خوف و خطر کرنے کا حوصلہ آپ نے خود اپنے ورکروں کودیا ہے ۔ اب جن کے مفادات تو اقتدار سے جڑے ہیں وہ آپ کی جی حضوری میں پیش پیش رہیں گے لیکن جن کے پاس کرنے کیلئے کچھ نہیں ہو گا اور گلی محلے میں لوگوں کا معمولی جائز کام کرنے کی طاقت بھی انہیں منتقل نہ ہوئی تو بات جلد خراب ہو جائے گی کہ یہ غیر سائنٹفیک انقلابی ابھی انقلاب کی حقیقی روح سے واقف نہیں اور اگر کنٹرولڈ ڈیموکریٹک آرگنائزیشن بنانے کی کوشش کی گئی تو زمین پر کچھ نہیں رہے گا۔ یہی غلطی ذوالفقارعلی بھٹو مقتول نے کی تھی کہ پیپلز پارٹی بنانے والے اُس کے زیر عتاب رہے اور آخری ملاقات میں جب محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ سے بھٹو مقتول نے پوچھا کہ ’’ کیا لوگ میرے لیے نکلیں گے ‘‘ تو انہوں نے انتہائی تاریخی جواب دیا کہ ’’ آپ کونسی بالشویک پارٹی بنا کرآئے تھے ‘‘۔

خواہش تھی اور بہت تھی کہ عبد العلیم خان پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہوتے لیکن کھیل ہاتھ سے نکل کر بزدارقبیلے کے سردار کے بیٹے کے پاس چلا گیا ہے ۔ عبد العلیم خان نے کبھی وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی یہ خواہش پاکستان تحریک انصاف کے اُن ورکروں کی تھی جنہوں نے عبد العلیم خان کے ساتھ کام کیا اور وہ اس بات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے کے چیئرمین کے نظریے کو عبد العلیم خان نے دل سے قبول کیا ہے اور عبد العلیم خان میں ڈلیور کرنے کی صلاحیت اورحوصلہ دوسرے دوستوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کیلئے میری خدمات کیا رہی ہیں اور مستقبل میں کیا ہو سکتی ہیں یہ ایک الگ سوال ہے لیکن میں اپنی باقی زندگی میں عبد العلیم خان کے ساتھ گزارے ہوئے جد وجہد کے دن کبھی نہیں بھول سکتا ۔ میری اُس سے کوئی رشتے داری نہیں ، میرا اُس کا کوئی کام بھی سانجھا نہیں سوائے سیاست کے اور عبد العلیم خان سے دوستی کروانے میں چیئرمین تحریک انصاف نے ہی سب سے بڑا کردار ادا کیا جس کیلئے میں ہمیشہ اُن کا شکرگزار رہوں گا ۔ عبد العلیم خان نے زندگی میں انگنت محبتیں نچھاور کی ہیں اگر اُس کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آیا ہے تو آخری سانس تک ساتھ ہیں ۔


ای پیپر