مان لیں، آگے اندھیرا نہیں اُجالا ہے!
26 اگست 2018 2018-08-26

جو لوگ فرسودہ نظام حیات کے حامی ہیں کہ جس نے اب تک کمزوروں کو زندہ درگور کیا ہے یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ دیکھیں جی عمران خان کی ’’تبدیلی‘‘ کو آئے ہفتہ سے زیادہ ہو چکا ہے ابھی وہ خراب صورت حال پر قابو نہیں پا سکی۔ یہ کہ بیان بازی میں مصروف ہے عملاً کچھ کرنے سے قاصر ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ! ایسا لگتا ہے کہ انہیں عمران خان وزیراعظم پاکستان اور اس کی جماعت سے خوامخواہ کا بیر ہے وگرنہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان چند دنوں میں ’’ہیٹھلی اُتے‘‘ آ گئی ہے !
جی ہاں! صوابدیدی فنڈ جس کسی کے بھی تھے ختم!
تمام اعلیٰ شخصیات کے فرسٹ کلاس فضائی سفر پر پابندی!
وزیراعظم ہاؤس بڑی درسگاہ بنایا جا رہا ہے !
ملک بھر میں درخت لگانے کی مہم کا آغاز!پی ٹی وی پر حزب اختلاف کی نمائندگی لازمی!
وزیراعظم کے استعمال میں آنے والی قیمتی گاڑیوں کی نیلامی!
دو صوبوں کے گورنر ہاؤس گورنروں پر بند!
احتساب کا عمل ہر صورت آگے بڑھانے کا عزم!
بیواؤں اور کمزوروں کی جائیدادوں پر قابض سینہ زوروں کی گرفت!
اس طرح کی اور بھی اصلاحات کی گئی ہیں یعنی سو روزہ پروگرام کی جانب واضح طور سے پیش رفت کی جا چکی ہے ۔ خارجہ پالیسی اب واشنگٹن کے تابع نہیں ہو گی اس کاببانگ دہل عندیہ دیا جا چکا ہے جس سے محسوس ہو رہا ہے کہ اکہتر برس کے بعد پاکستان کو ایک دوسرا لیڈر ملا ہے ۔ جو دیانت دار بھی ہے اور امانت دار بھی۔۔۔! حیرت مگر یہ ہے بلکہ افسوس بھی کہ وزیراعظم عمران خان کے سیاسی حریف مسلسل بولے جا رہے ہیں الزامات پر الزامات عائدکیے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے تو اپنے گرد نیب زدہ لوگوں کو جمع کر لیا ہے اور وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کے محافظ سمجھے جاتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے شاید عمران خان نے ہی آخری فیصلہ سنانا ہوتا ہے جو اسے تسلیم کرے گا وہ اقتدار میں رہے گا جو نہیں کرے گا وہ نگاہوں سے اوجھل ہو جائے گا اس کی حیثیت باقی نہیں رہے گی ۔ بہرحال حکومت نے ’’بولنے‘‘والوں کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے وہ جو ایجنڈا لے کر آئی ہے اس کی تکمیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دے گی عوام کی غالب اکثریت کو اس پر اعتماد ہے اب تو وہ بھی یقین کے قریب پہنچ گئے ہیں جو کہتے تھے شیر اک ’’واری فیر‘‘ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ کپتان نے چند موٹی موٹی باتوں سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مخلص ہے عوام کے دکھوں کو سمجھتا ہے لہٰذا اسے دیکھا جائے۔ حکومت کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے۔۔۔ جو لوگ ایسا نہیں بھی چاہتے انہیں خبر ہو کہ وہ چیختے رہ جائیں گے اور عمران خان وزیراعظم پاکستان ’’حالت موجود‘‘ میں دراڑ ڈال کر ایک نئے سویرے کی دہلیز پر دستک دے رہا ہو گا لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ بونگیاں نہ ماریں عقل کے ناخن لیں پہلی بار عوام کو احساس ہوا ہے کہ ان کا کوئی سربراہ پاکستان کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے اور اپنی اس زندگی کو جو اس نے سہل اور پر آسائش بسر کی ہے ترک کر کے عام آدمی کی طرح گزارنا چاہتا ہے اس پر وہ عمل بھی کر چکا ہے ۔ کوئی لاکھ اس کی ذات پر کیچڑ اچھالے کہ وہ یہ ہے وہ ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ جب وہ ملک اور اس کے لوگوں کی خدمت میں اپنا خون بھی دے رہا ہو گا تو اس کے آگے عورتوں کی طرح کے دیئے جانے والے طعنے اور دشنام طرازیاں ہیچ ہوں گے۔۔۔ عمران خان اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے آیا ہے ۔ وہ عیش و عشرت کے لیے نہیں آیا اسے پیسا نہیں چاہیے اسے اگر کچھ چاہیے تھا تو اختیار تا کہ وہ اس نظام فرسودہ کو باضابطہ طور سے بدل سکے۔ سو آج وہ با اختیار ہے اور عوامی فلاح و بہتری کے فیصلے کیے جا رہا ہے اس پر بدعنوانوں کو تشویش ہے کہ وہ کسی صورت نہیں بچ پائیں گے لہٰذا وہ شور مچا رہے ہیں۔۔۔ چھوٹے چھوٹے بدعنوان بھی پریشان ہیں کہ ان کی دیہاڑی بھی اب نہیں لگا کرے گی کیونکہ ہر ’’انصافی ‘‘ ان کا پیچھا کرے گا اس کے ثبوت اکٹھے کر کے متعلقہ محکمے کو بھیج دے گا مگر وہ یہ بات اپنے ذہن میں رکھے کہ ’’کاواں دے آکھے ڈھگے کدی نئیں مردے‘‘ ان کی آہ و پکار بے سود ہو گی کیونکہ اب یہ طے کیا جا چکا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ ہر ممکن کیا جائے گا۔ سادگی کو اپنا کر ملک کو معاشی طور سے مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مغرب کے آگے سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر کھڑا ہو اجائے گا ۔ اس مغرب نے اب تک پاکستان کو تباہ ہی کیا ہے ہر طرح سے اسے نقصان پہنچایا ہے ۔ اس کی بنیادیں کھوکھلی کی ہیں اپنے مہروں کے ذریعے کروڑوں افراد کو یرغمال بنایا ہے اور مستقبل میں بھی اس کی خواہش یہی ہے مگر ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔۔۔ یہ چیز مغرب کے ایجنڈے پر عمل کرنے والوں کو سخت ناپسند ہے وہ تو اپنے اقتدار کو دوام دے کر جو انہیں ’’مخصوص ایجنڈے‘‘ کے تخلیق کاروں نے تفویض کیا تھا کہ وہ پاکستان کی ذاتی ملکیت میں لینا چاہتے تھے مگر وطن پرست اور عوام دوست عمران خان نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا اب وہ اسی لیے رولا ڈال رہے ہیں کبھی دھاندلی کا رونا اور کبھی اس کی تضحیک۔۔۔ مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ بعض لوگوں کو کیوں اپنے بارے فکر نہیں انہیں توکھربوں لوٹ کر باہر لے جانے والوں کو واپس لانے کے خواہاں ہونا چاہیے تھا۔ ہو سکتا ہے وہ بھی ان کے بدعنوانی کے سمندر سے کچھ قطرے اپنی زبان پر رکھ لیتے ہوں۔۔۔ وگرنہ بدعنوانوں کا تو ناطقہ بند کیا جانا چاہیے۔۔۔ اور سوچنا چاہیے کہ کوئی بھی گھر کوئی بھی ریاست اور کوئی بھی سماج ایسے نہیں زندہ رہ سکتا۔۔۔ خیر غیر جانبدار ممالک، دانشور، میڈیا اور ذمہ دار حلقے عمران خان کو خوشحالی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔۔۔ انہیں پورا بھروسا ہے کہ اب پاکستان مصنوعی ترقی کے دائرے سے نکل کر حقیقی دائرے میں داخل ہو گا جہاں وزیر مشیر صدر گورنرز اور عوامی نمائندے شاہانہ انداز اختیار کرنے سے اجتناب برتنے کی کو شش کریں گے۔۔۔ اور اگر وہ جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں انہوں نے عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوئی سعی کی تو دھر لیے جائیں گے کیونکہ یہ ملک کو بدلنے کا اور نظام کہن کو دیس نکالا دینے کا آخری موقع ہے ۔ خاص حلقوں کو بھی اس کا ادراک ہو گا لہٰذا وہ بھی ملک کھااور عوام کا خون پی جانے والی بلاؤں اور جونکوں کو دوبارہ آنے سے روکنے کے لیے ضرور اپنا قومی اور آئینی کردار ادا کریں گے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اندھیر نگری چوپٹ راج۔۔۔ ختم سمجھا جائے۔۔۔ یہی وہ وجہ ہے جو پچھلے حکمران اور ان کے چیلے چانٹے۔۔۔ دہائی دے رہے ہیں کہ وہ تو جو جی میں آتا کرتے تھے مگر اب وہ در بند ہوا چاہتا ہے اور احتساب کا کھل رہا ہے وہ پیسا جو ہضم کر چکے ہیں کہاں سے لائیں گے۔۔۔ اس سے متعلق وہ گہری سوچ میں غرق ہیں مگر انہیں دولت بھی واپس قومی خزانے میں جمع کرانی ہے اور قید بھی کاٹنا ہے ۔۔۔ معافی اس حوالے سے نہیں ہو گی رہی بات خزانہ خالی ہونے کی تو اسے لازمی بھرا جائے گا۔۔۔ کچھ ملک کے اندر سے اور کچھ باہر سے دوست ملکوں کو بھی اس کا خیال ہے کیونکہ وہ قریب اسی صورت ہو سکتے ہیں لہٰذا فکر و تشویش کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ یہ عمران خان کا بھی کہنا ہے جو ہمیشہ چیلنجوں کا سامنا کرتا آیا ہے !


ای پیپر