بلھے نالوں چلھا چنگا۔۔۔!!
26 اگست 2018 2018-08-26

سچ پوچھیں تو بابا جی بلھے شاہ پر لکھا نہیں جاتا۔۔۔ لکھوایا جاتا ہے اور جب حرفوں کے سوتے کہیں اور سے پھوٹیں تو آپ کا اپنا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے میں آپ کے اور بابا جی کے درمیان اگر ہوں بھی۔۔۔ تو۔۔۔ نہیں ہوں۔۔۔!!
بلھے شاہ سرکار پر لکھتے ہوئے ویسے بھی میرے جیسوں کے قلم کی رگیں پھولتی ہیں اور ہر جملے کی مسافت کے پڑاؤ کے بعد ایسے لگتا ہے جیسے بہت دور سے کوئی ہجر کا مارا جوگی ننگے پاؤں بابا جی کے مزار پر چاروں قل والی چادر کا کونہ پکڑ کر مبہوت اور کہی ان کہی کے درمیان معلق ہو ۔۔۔ مگر۔۔۔ متعلق ہو۔۔۔!
محترم سامعین۔۔۔!! بابا جی بلھے شاہ سرکار کی سارنگی کا ایک سر۔۔۔ اور عشق والے تھیا تھیا کی جھنکار کی چھن چھن کا محض ایک ’’چھن‘‘ ہی سمجھ آ جائے تو ’’احد و احمدؐ‘‘ کی بات سمجھ آ جاتی ہے۔ ’’کمبلی اور کملی‘‘ کا تانا بانا مل جاتا ہے۔
حاجی لوک مکے نوں جاندے
میرا رانجھاؐ ماہی مکہ
نی میں کملی ہاں۔۔۔!!
اب بلھے شاہ کے کملے ہونے بات ہی جلدی سمجھ نہیں آتی یہاں تو معاملہ ہی ’’کملی ہاں‘‘ والا ہے۔
ہتھ کھونڈی موہڈے کنبل کالا
اکھیاں دے وچ وَسے اُجالا
ذرا اور غور کیجیے۔۔۔ دل کی بصارتوں سے دیکھیئے۔۔۔ بلھے شاہ کی کملی اور کمبلی والےؐ کی کمبلی کو اپنے اپنے عشق کے ترازو میں تو لیے ہو سکتا ہے کوئی راز آپ پر بھی کھل جائے لیکن یہ وزن بھی اُسی وقت سمجھ آتا ہے جب آپ خود رَتی اور ماشا ہوتے ہیں گھنگھرو پہن کر تماشا ہوتے ہیں۔ تو پھر سمجھ آتا ہے ’’کمبلی اور کملی‘‘ معاملہ ایک نکتہ کا ہے۔
گل اِک نکتہ وچ مکدی اے
معزز سامعین۔۔۔!! جس طرح بابا جی فرماتے ہیں۔۔۔ مکے گیاں گل مکدی نا ہیں۔۔۔ ! اسی طرح بلھے شاہ سرکار بھی کسی ٹھنڈے کمرے کی گرم کانفرنس میں نہیں ملتے انہیں بڑی منت اور محنت سے اپنے ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔۔۔ وہ الگ بات بابا جی خود ہی جوگ تیاگ لیں اور آپ میں سے کسی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیں۔۔۔ اور پھر ساری حیاتی دکان کی گہما گہمی میں۔۔۔ دفتر کی ہما ہمی میں۔۔۔ چھن چھن کرتے رہیں۔۔۔!!پھر آپ جیسے ہی کسی صاحب اقتدار وزی حشم وزی اختیار کے سامنے اپنی بے تاب مچلتی خواہش اور تڑپتی لالچ سے آرتی اُتارنا چاہیں۔۔۔ تو۔۔۔ یہ ایک دم تھیا تھیا کرتے ہوئے اپنی توحید والی سارنگی کی تاروں جڑی کنڈی کو آپ کے کالر میں پھنسا کر آپ کو اپنی طرف کھینچ کر متوجہ کریں اوار کہیں۔۔۔ بھلیا۔۔۔!! ’’کج ساڈا ای خیال کر۔۔۔ تیرے پیچھے ایویں ای تے نئیں چھن چھن کر دے پھر دے‘‘۔
میں وِچ میں نہ رہ گئی گائی
جب کی پیا سنگ پیٹ لگائی
محترم فقیران بلھے شاہ۔۔۔!! کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں بابا جی کے مزار پر کسی منت اور دنیاوی گنجل کے بغیر محض اور فقط بابا جی سے ملنے جاؤں اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی تربت کے گلابی ماحول سے نکل کر ساتھ ہی آنگن کے پرانے وَن کے درخت کے پاس آ بیٹھیں اور میں اُن سے بہت سی باتیں کروں۔۔۔ بے سرو پا باتیں۔۔۔ جیسے کوئی نا سمجھ بچہ اپنے بابا سے اُلٹے سیدھے سوال کرتا ہے۔۔۔ اور کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔
میں پوچھوں۔۔۔ بابا جی آپ فیس بک اکاؤنٹ کیوں نہیں بناتے زمانے بھر کی کشاکش سے آشنائی رہتی ہے۔۔۔؟ آپ کی سارنگی سے ’’ہوک‘‘ ہی کی آواز کیوں نکلتی ہے۔۔۔؟ آپ کے چرخے کی ’’کوک‘‘ کیا کہتی ہے۔۔۔؟
اور اگر آپ کے گھنگھرو اگر میں پہن لوں تو کیا پھر بھی تھیا تھیا ہو گا۔۔۔؟۔۔۔ یا۔۔۔ آواز بدل جائے گی۔۔۔؟ اور بابا جی میرے سارے اُلٹے سیدھے اور بے تُکے سوالوں پر اندر باہر سے ہنستے۔۔۔ پھر میں اپنے ہاتھ کے مکے کا سٹینڈ سا بنا کر اوپر اپنی وصل بھری ٹھوڑی رکھ کر ۔۔۔ بڑی حیرت سے پوچھتا۔۔۔ بابا جی۔۔۔!! آپ کو غصہ نہیں آتا۔۔۔؟؟
تو اُن کی سرمگیں آنکھوں کے کنار پر آبِ زم زم جیسے آنسوؤں کی چھوٹی سی لہر ابھرتی اور وہ مجھ سے مخاطب ہوتے۔۔۔ پتر۔۔۔!! غصہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔۔۔ جہاں جہاں اسے آنا چاہیے آتا ہے۔۔۔ اُن پتھروں کو آتا ہے جو سفر طائف کے دوران میرے کالی کمبلی والے رانجھن کے جسم پر لگے تھے۔۔۔ اُس نعلین کو آتا ہے جس کا پیندا خون سے بھر گیا تھا۔۔۔ اُن پہاڑوں کو آتا ہے جو یہ سارا منظر دیکھ کر آپس میں گلے مل کر روتے رہے۔۔۔ اور۔۔۔ حضرت جبرائیل کو آتا ہے۔۔۔ اور تو اور پتر ۔۔۔ اللہ میاں کو آتا ہے جس کے عشقؐ کو جس کے محبوبؐ کو اتنی تکلیف دی گئی ہو۔۔۔ لیکن ۔۔۔ پتر کالی کمبلی والے کو نہیں آتا۔۔۔ اس لیے کالی کمبلی والے کے ’’منن والوں‘‘ کو بھی نہیں آتا۔۔۔!
عاشق ہویوں رب دا ملامت ہوئی لاکھ
لوگ کافر کافر آکھدے تُوں آہو آہو آکھ۔۔۔!!
محترم سامعین۔۔۔!!
معلوم نہیں کیوں۔۔۔ ایسے سلگتا ہے جیسے ابھی بھی آخری قطار کے آخری کونے میں عشق کا چولہا جل رہا ہے اور بابا جی اپنے ہاتھوں سے فنا فی اللہ کی گیلی اَنا والی لکڑیاں آگ میں ڈالتے جا رہے ہیں اور چولہے کے آس پاس تھوڑی تھوڑی دیر بعد چھن چھن کی آواز اُبھرتی۔۔۔ ایسے لگتا ہے لنگر کی دیگ میں شکر اور صبر کا بڑا چمچ گول گول گھومتا ہے اور اندر لنگر مست ہو کر بابا جی کے ہاتھ کے ارد گرد دھمال ڈالنے لگتا ہے۔۔۔ !
اور پھر ایسا لگتا ہے کہ بابا جی میری طرف دیکھتے ہیں اور کبھی آپ سب کی طرف اور پھر لنگر کی طرف۔۔۔ اور۔۔۔ ہم سب اپنے اپنے مصروف لمحوں کی ’’ٹک ٹک‘‘ کی طرف۔۔۔!!
بلھے نالوں چلھا چنگا ، جس پر طعام پکائی دا
رَل فقیراں مجلس کیتی بھورا بھورا کھائی دا
قابل احترام سامعین۔۔۔!! آج ہم سب یہاں سماعتوں کے ہاتھوں میں اپنی اپنی تڑپ اور طلب کے برتن لیے۔۔۔ حرفوں کا اور محبت آمیز باتوں کا لنگر لینے جمع ہوئے ہیں۔۔۔ جس کا جتنا اور جیسا برتن ہو گا اتنا لنگر لے کر جائے گا۔۔۔ بس ایک کام کیجیے۔۔۔ اگر آپ برتن لانا بھول گئے ہیں تو عجز والا دامن آگے کر دیجیے لیکن کچھ نہ کچھ بھورا بھورا لنگر لیکر ضرور جائیے۔۔۔ ’’الف اللہ دل رَتا میرا‘‘ والا لنگر۔۔۔ ’’اِک رانجھاؐ مینوں لوڑی دا‘‘ والا لنگر۔۔۔!!
یہ لنگر۔۔۔ اعداد و شمار اور تعداد و مقدار والی مشینی زندگی کے کسی ریگ زار پڑاؤ میں آپ کے کام آئے گا۔۔۔!!
اِٹ کھڑکے دُکڑ وجے تتا ہووے چلھا
آن فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بلھا۔۔۔!!
نوٹ : 27 اگست 2018ء کو 28 ویں بلھے شاہ کانفرنس میں پڑھا گیا۔۔۔


ای پیپر