عمران خان صاحب بچھڑوں کو ملا دیجئے
26 اگست 2018 2018-08-26

اگست کا مہینہ ہے،جشن کا مہینہ ہے اور شکر کا مہینہ ہے۔ عمران خان صاحب آپ وزیرا عظم منتخب ہو چکے ہیں اب پاکستان کے صاحب اختیار ہیں، آپ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات دیکھنا چاہتے ہیں یہ بہت اچھی خواہش ہے میں آپ کو درد بھری ایک کہانی بتانا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو دکھ، درد، جدائی، بچھڑنے اور دور ہونے کا درد معلوم ہو سکے۔ہمارے ایک دوست چند سال پہلے ایک میچ دیکھنے کے لیے انڈیا گئے ،ان کا مقصد میچ سے زیادہ انڈیا دیکھنا تھا مگر سکیورٹی انتظامات ایسے کیے گئے تھے کہ وہ جہاں گئے اسی شہر میں محدود ہو گئے۔انہیں جو کمرہ ملا انہوں نے اس کے باہر اپنا نام محمد اسلم لکھا اور نیچے فرام ساہیوال لکھ کر بریکٹ میں منٹگمری لکھ دیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں کمرے میں بیٹھا تھا کہ ہلکی سی دستک ہوئی اور ساتھ ہی ایک خاتون داخلہ کمرہ ہو گئیں ۔میں نے حیرت سے اسے دیکھا اس نیپنجابی میں گفتگو شروع کی اور پوچھا کیا آپ پاکستانی پنجاب کے شہر منٹگمری سے ہیں؟ میں نے کہا ایسا ہی ہے،اس نے تصدیق کے لیے پوچھا کہ کیا اباس کا نام ساہیوال ہے؟ میں نے کہا جی بالکل ایسا ہی ہے۔اس نے ٹھنڈی سانس لی جیسے ان کی کوئی مطلوبہ چیز بڑی محنت کیھ بعد مِل گئی ہو، پھر کہنے لگیں جو پاکستانی میچ دیکھنے کے لیے آئے ہیں انہیں مختلف جگہوں پر ٹھہرایا ہوا ہے میں تین دنوں سے ہر اس جگہ جا رہی تھی جہاں کا پتہ چلتا کہ پاکستانی یہاں پر ہیں اور ساہیوال سے آنے والے بندے کو ڈھونڈ رہی تھی۔میں نے پوچھا کہ آپ ساہیوال کا آدمی کیوں ڈھونڈ رہیں تھیں خیریت تو ہے ؟ اس خاتون نے کہا ہم بھی ساہیوال کے ہیں اس شہر کے جو ہم نے آج تک دیکھا ہی نہیں اور یہ بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو جذبات کی شدت کا پتہ دیتے تھے۔میں نے پوچھا بہن میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ اس پر خاتون نے کہا کہ ہماریوالد محترم شدید بیمار ہیں وہ یہاں نہیں آ سکتے ،ان کی پیدائش ساہیوال کی ہے اور بچپن بھی ساہیوال میں گذرا ہے۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور سچ پوچھیں تو جب سے انہیں پتہ چلا ہے شہر میں دوسرے پنجاب سے لوگ آئے ہوئے ہیں ان کو اپنے بچپن کا ساہیوال شدت سے یاد آ رہا ہے اور پچھلے تین دن سے جب میں شام کو گھر پہنچتی ہوں تو وہ حسرت سے پوچھتے ہیں ساہیوال کا کوئی آدمی ملا ؟ میں جواب دیتی ہوں کل مل جائے گا پریشان نہ ہوں تو وہ بجھ سے جاتے ہیں۔آپ مہربانی کریں اور میرے ساتھ چلیں تاکہ وہ آپ سے مل سکیں۔ میں نے کہا بہن آج تو کہیں اور وعدہ کیا ہوا مگر کل میچ دیکھنے کے بعد میں سَر کے بَل چل کر بھی آنا پڑا تو آپ کیگھر آوں گا۔اس نے مجھے اپنا کارڈ دیا اور یہ کہہ کر چلی گئی کہ ہم کل آپ کے منتظر ہیں جب دوسرے میچ ختم ہوا تو میں نے گاڑی پکڑی اور مطلوبہ ایڈریس کی تلاش میں نکل پڑا۔جب مطلوبہ علاقے میں پہنچے تو وہ بڑے بڑے بنگلوں پر مشتمل نیا علاقہ تھا جیسے ہیں ایڈریس میں دیے گئے بنگلے کے سامنے گاڑی رکی اور میں نیچے اترا گیٹ کھل گیا۔میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ خاندان کے بچے ہاتھوں میں پھول کی پتیاں لیے کھڑے ہیں اور گھر کے بڑے مجھ سے گلے لگ کر ایسے مل رہے ہیں جیسے صدیوں کا بچھڑا بھائی مل گیا ہو اور بچے مسلسل گل پاشی کر رہے ہیں۔گھر سے دور گھر سے زیادہ پیار محبت دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ ان لوگوں کا مجھ سے کیا رشتہ ہے؟ آخر کیوں یہ لوگ مجھ سے اس قدر محبت سے پیش آ رہے ہیں؟ گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے خاندان کے اس بزرگ کے پاس لے گئے ،بزرگ مجھ سے ایسے گلے ملے جیسے مدتوں سے بچھڑا باپ بیٹا سے ملتا ہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔انہوں نے کہا میں چھٹی تک ساہیوال میں پڑھا ہوں،ہمارا گھر تلہ محلہ میں تھا ، میں نے کہا جی جی تلہ محلہ ابھی بھی ہے گول چکر کے ساتھ ہے بزرگوں نے کہا کیا ابھی بھی گول چکر ہے؟ میں ساہیوال کے پرانے محلوں اور بازاروں کے نام لینے شروع کردیے وہ سنتے جاتے اور روتے جاتے کہ ابھی بھی سب ویسا ہی ہے صرف ہم وہاں نہیں ہیں۔میں حیران تھا کہ بزرگوں کو اپنے محلے داروں کے نام ،گلیاں،گھر اور سکول اور سکول میں موجود درخت تک یاد تھے۔اس وقت کے مشہور میلے،مشہور مٹھائی کی دکانیں غرض سب کچھ ایسے یاد تھا جیسے کل کی بات ہو۔کافی دیر بعد جب میں نے کہا مجھے اجازت دیں میں واپس جاتا ہوں تو کہنے لگے بیٹا اب مجھیموت آسانی سے آ جائے گی ساہیوال نہیں تو ساہیوال کے رہنے والے سے ملاقات ہو گئی۔ایک ایسا شخص جس کی پورے انڈیا میں اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی چلتی ہو اپنیوطن کے لیے اس قدر تڑپ رہا تھا۔

ساہیوال شہر سے دس کلومیٹر دور مِرداد مافی ریلوے سٹیشن تھا اب مدت ہوئی بند ہو چکا ہے۔ایک سکھ سردار جس کے پورے خاندان کو اس سے صرف دو کلومیٹر دور قتل کر دیا گیا اور یہ اکیلا جان بچا کر اسی ریلوے سٹیشن پر آنے والی گاڑی سے دس سال کی عمر میں دلی گیا تھا ان کا انٹرویو سنا انہیں ہر چیز یاد تھی۔ زمین سے محبت انسان کی فطرت کا حصہ ہے اور یہ بار بار دل میں کھچاو پیدا کرتی ہے کہ انسان وہاں پہنچ جائے۔جب ان سردار صاحب کے پوتے سے میرا رابطہ ہوا تو اس نے کہا کہ اگر ہو سکے تو اس ریلوے سٹیشن کی تصاویر بھجوا دیں۔ میں نے اس سٹیشن پر جا کر چند تصاویر بنائیں اور انہیں بھجوا دیں، یقین کریں بابا جی اور ان کی فیملی اس وقت کیلی فورنیا میں ہے وہ اس قدر شکر گزار ہوئے کہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہاں سے جانے والوں نے اپنے آنے والی نسل میں اس مٹی کی محبت وراثت میں منتقل کی ہے۔کچھ عرصہ پہلے کسی نے غالبا ہندوستان ٹائمز میں آرٹیکل لکھا تھا پاکستان لینڈ آف ٹیرورزم اس پر کسی نوجوان صحافی نے لکھا تھا پاکستان از ناٹ لینڈ آف ٹیرورزم اٹ از لینڈ گروز۔میں کہاں تک سناوں مٹی کی محبت کی یہ آگ ہر طرف برابر لگی ہوئی ہے۔

محترم وزیراعظمِ پاکستان جناب عمران خان صاحب ہمارے چیف آف آرمی سٹاف جناب قمر جاوید باجوہ صاحب نے سندھو صاحب کو کرتار پور کا بارڈر کھولنے کا جو وعدہ کیا ہے اس پر عمل کریں یہ عوام کو جوڑنے کا ایک ذریعہ بنے گا اور دوسرا ایک قدم آپ اٹھائیے اور وہ لوگ جہاں پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہوئے اور یہاں سے ہندوستان چلے گئے ان کے لیے مفت ویزے کا اعلان کر دیں، وہ لوگ بہت بزرگ ہوں گے ان کے ساتھ کسی ایک آدھ قریبی رشتہ دار کو بھی ویزے کا اعلان کر دیں یقین کریں اس سے جہاں لاکھوں دلوں کو سکون ملے گا وہیں ہمیں انڈیا میں اپنے بہت سے سفیر مل جائیں گے جو ہمارے وطن کی یہاں کے رہنے والوں کی وکالت کریں گے اور یہ ساتھ آنے والے اپنی آنکھوں سے ان محبتوں کا مشاہدہ کر لیں گے جس کا ذکر سنتے سنتے وہ پروان چڑھے ہیں ۔اس طرح ہماری مٹی سے یہ محبت اگلی نسل تک منتقل ہو جائے گی۔مجھے امید ہے آپ کے اس اقدام پر کسی سرمائے کی نہیں فقط درد دل سے سوچنے اور فیصلہ لینے کی ضرورت ہے جس کے لیے آپ مشہور بھی ہیں اگر آپ ایسا کر دیتے ہیں تو پاکستان انڈیا میں تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور وہ لوگ جو خوابوں میں اپنی جنم بھومی کو دیکھتے ہیں حقیقت میں دیکھ لیں گے اور ایک دن ایسا آئے گا جب انڈیا بھی ایسا کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔


ای پیپر