بیادِ ناصردرانی !
26 اپریل 2021 2021-04-27

اپنے گزشتہ کالم میں، میں مرحوم ناصر درانی کی پنجاب میں بطور ایڈیشنل آئی جی کارکردگی پر بات کررہا تھا، اُن کی فطری ایمانداری کے پیش نظر میں یہ عرض کررہا تھا وہ جب ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب تھے وہاں تعینات ایک ڈی ایس پی نے مجھے بتایا حکمران اور کچھ افسران آپ کی تحریروں سے بڑے تنگ ہیں، سپیشل برانچ سے کہا گیا ہے خلاف ایک رپورٹ تیار کرکے بھجوائی جائے، اُس رپورٹ کی روشنی میں آپ کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی ہوسکتی ہے۔ میں نے جواب دیا ” ناصردرانی جیسے ایماندار ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کی موجودگی میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا میرے خلاف کوئی غلط رپورٹ بھجوائی جاسکتی ہے، ....یہ بات میں نے اس کے باوجود پورے وثوق سے کہی تھی ناصردرانی سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی، میں نے صرف اُن کی اچھی شہرت بارے سُن رکھا تھا، اُن پر میرے یقین کا یہ عالم تھا بعد میں اُس ڈی ایس پی سے میں نے یہ پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھا میرے بارے میں کیا رپورٹ بھجوائی گئی ہے؟،....ہمارے اکثر حکمران وافسران اپنی انتقامی فطرت سے مجبور ہوکر اپنے مخالفین کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں، سچ لکھنے اور بولنے کا فریضہ ہم فقیروں نے بفضل خدا پہلے چھوڑا نہ اب چھوڑا ہے، ....کوئی دوسال پہلے پی ٹی آئی کی حکومت (جسے کچھ لوگ میری اپنی حکومت سمجھتے ہیں) میرے ایک عزیز چھوٹے بھائی شیراز حسنات جو اُن دنوں شاید ڈیلی ڈان سے وابستہ تھے، اُنہوں نے اِک روز مجھے فون کیا، کہنے لگے میری اطلاعات کے مطابق آئی بی آپ کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کررہی ہے،میں نے اُن سے بھی دوبارہ یہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا میرے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرنے کا مقصد کیا ہے؟ وہ گواہ ہیں، اُن سے پوچھا جاسکتا ہے میں نے اِس ضمن میں اُنہیں دوبارہ کال تک نہیں کی، ہرانسان کو پتہ ہوتا ہے اُس کی کمزوریاں کیا ہیں؟ ، میں بہت گناہ گار انسان ہوں، بے شک اللہ نے مجھ پر خاص ترس فضل اور کرم فرماتے ہوئے میری بے شمار خامیوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں، پر اللہ ہی کے فضل سے، بڑی عاجزی سے میں یہ کہہ سکتا ہوں میری کوئی خامی ایسی نہیں جسے حکمران یا افسران اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں، میں گزشتہ ستائیس برسوں سے گورنمنٹ کالج سے بطور اُستاد وابستہ ہوں، میرے خلاف حکمران زیادہ سے زیادہ انتقامی کارروائی یہ کرسکتے ہیں مجھے ملازمت سے برخواست کردیں، یہ کوشش کچھ عرصہ پہلے بھی ہوئی ہے، وزیراعظم عمران خان کو پتہ چلا اُنہوں نے اِس کا سخت نوٹس لیا، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اِس ضمن میں جو محبت فرمائی، وقت آنے پر یہ کہانی بھی میں تفصیل سے لکھوں گا۔ حکمران میری سرکاری ملازمت چھین سکتے ہیں، میرا بھیجا تو ظاہر ہے نکال نہیں سکتے، میری سوچوں پر پہرے تو بیٹھا نہیں سکتے، ایک دربند ہوتا ہے سودراللہ کھول دیتا ہے، میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا ”شکر ہے زندگی موت، عزت ذلت، ہارجیت سب کچھ اللہ نے اپنے اختیار میں رکھا، انسانوں کے ہاتھ میں یہ معاملات دیئے ہوتے اب تک یہ دنیا، دنیا ہی کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہوتی،.... حکمرانوں کی انتقامی کارروائیوں کا مقابلہ کیا جاسکتاہے، البتہ کوئی حکمران کمینگی پر اُتر آئے اُس کا مقابلہ کرنا ظاہر ہے مشکل ہوجاتا ہے، .... شریف برادران کے دور میں جب کوئی دھمکی مجھ پر اثر انداز نہیں ہوئی، پھر دوسرا طریقہ آزمایا گیا ، اِک روز جناب شعیب بن عزیز کی مجھے کال آئی”وزیراعلیٰ شہباز شریف آپ سے مِلنا چاہتے ہیں، کل صبح ساڑھے سات بجے ماڈل ٹاﺅن اُن کی رہائش گاہ پر آپ کی ان سے ون ٹو ون ملاقات ہوگی“....شعیب بن عزیز اُن دِنوں شاید ڈی جی پی آرتھے، وہ مجھے اپنے بڑے بھائی کی طرح عزیز ہیں، بطور ایک خوبصورت شاعر اُن کا جو مقام ہے وہ بھی اُن کا ادب کرنے پر ہمیں مجبور کرتا ہے، سو میں اُنہیں انکار نہ کرسکا ، دبے دبے لفظوں میں اُن سے میں نے گزارش کی میں نے نہیں ملنا، پر میری گزارش کو مجھ پر اپنے حق کے مطابق اُنہوں نے رد کردیا، اگلے روز میں جب ماڈل ٹاﺅن پہنچا وہاں ناصر درانی صاحب سے میری ملاقات ہوئی، وہ بڑی محبت سے ملے ۔کہنے لگے” میں آپ کی تحریروں کا مداح ہوں، آپ سے کسی روز ملاقات ہونی چاہیے“۔ ہم کوریڈورمیں کھڑے بات کررہے تھے اچانک ایک کمرے سے شہباز شریف نکلے، وہ ہمارے ساتھ آکرکھڑے ہوگئے، ناصر درانی کے بارے میں اُس وقت جوکچھ اُنہوں نے کہا، مجھے حیرت ہوئی کہ ہم نے تو ہمیشہ افسروں کو حکمرانوں کی خوشامد کرتے دیکھا تھا، یہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی تھی، یہاں حکمران ایک پولیس افسر کی موجودگی میں اُس کی تعریفوں کے پل باندھ رہا تھا، حکمران بھی وہ جسے افسران کی بے عزتی وغیرہ کرنے کا باقاعدہ چسکا پڑا ہوا تھا، اُس کے بعد ناصر درانی وہاں سے رخصت ہوگئے۔ شہباز شریف نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر ناشتے کی ٹیبل پر آگئے، وہاں بھی ناصر درانی کی وہ تعریفیں کرتے رہے، کہنے لگے ناصردرانی جیسے چند اور افسران ہماری پولیس میں ہوتے ہماری پولیس بدنامیوں کی اِس حدکونہ چھورہی ہوتی، اُس کے بعد ہماری اپنی گپ شپ شروع ہوگئی جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، کچھ گلے شکوے ہوئے، کچھ غلط فہمیاں تھیں جو دور ہوئیں ....میں جب وہاں سے نکلا سوچ رہا تھا ایک گھنٹہ جو میں نے یہاں گزارا اُس میں صرف ایک ہی اعزاز میں حاصل کرسکا جو ناصردرانی کے ساتھ ملاقات کا تھا، اُنہوں نے مجھے اپنا موبائل نمبر نوٹ کروایا تھا، کچھ دِنوں بعد ایک صاحب میرے دفتر آئے جنہیں میں نہیں جانتا تھا۔ اُنہوں نے بتایا اُن کا ایک ہی بیٹا ہے جس کی پوسٹنگ بطور سب انسپکٹر سپیشل برانچ پنجاب لاہور میں ہے، وہ ہیپاٹائٹس سی کا مریض ہے، اُس نے تین ماہ کی رخصت کی درخواست دے رکھی ہے جو تاحال پینڈنگ ہے۔ اُن صاحب نے مجھے اپنے بیٹے کی کچھ رپورٹس بھی دکھائیں جن کے مطابق وہ واقعی ہیپاٹائٹس کا مریض تھا، میں نے ناصر درانی صاحب کو مسیج کیا ” میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں“۔کچھ دیر بعد تک جب اُن کے مسیج کا کوئی رپلائی نہ آیا، میں نے اُن صاحب سے کہا آپ مجھے اپنا فون نمبر دے جائیں۔ جیسے ہی میری اُن سے بات ہوگی میں آپ کو بتادوں گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر