Khalid Minhas, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 اپریل 2021 (11:44) 2021-04-26

زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے۔ یہ مصرعہ کتنے درد سے لکھا گیا ہو گا۔ آج پاکستان میں بھی حالات ایسے ہی ہیں۔ کس کس کا ذکر کریں ہر ایک نگینہ تھا مگر موت سے کس کو رستگاری ہے، آج وہ کل ہماری باری ہے۔فیس بک کی ٹائم لائین موت کی خبروں سے بھری ہوئی ہے۔ ہم صرف انا للہ و انا الہ راجعون لکھتے ہیں اور اگلی پوسٹ کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔بس اک آہ نکلتی ہے کہ پتہ نہیں اب کس کی باری ہے۔ کرونا جس شدت سے پھیل رہا ہے اس کی تھوڑی سی جھلک فیس بک کی ٹائم لائین دکھا رہی ہیں لیکن اصل میں حالات اس سے زیادہ خراب ہیں۔ کرونا ہماری سوچ سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کوئی روکے کہیں دست اجل کو

ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر پہلے سے زیادہ خطرناک ہے لیکن ہم نے اس سے مقابلہ کرنے کی تیاری بالکل نہیں کی۔ حکومت کو تو ایک طرف رکھیں کیا ہم نے کرونا کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ کیا ہم نے یہ تیاری کی ہے کہ اس کا راستہ کیسے بلاک کیا جائے ؟ کیا ہم نے اپنے اہل و عیال کی تربیت اس طرح کی ہے کہ وہ کرونا سے کس طور بچ سکتے ہیں؟ اجتماعی طور پر ایسا نہیں ہو رہا ۔لوگ مر رہے ہیں مگر یہی کہا جا رہا ہے کہ نمونیہ بگڑ گیا تھا ، تیز بخار نے جان لے لی وغیرہ وغیرہ ۔ ہمارے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے مگر ہم اتنے ٹیسٹ اب بھی نہیں کر رہے کہ دیکھا جائے کہ صورتحال کیا ہے۔ کئی اضلاع سے یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ ضلعی انتظامیہ یہ ہدایت کر رہی ہے کہ کرونا کے مریضوں کو ڈیکلیئر نہ کیا جائے۔لاہور کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ یہاں کرونا کی صورتحال کافی خراب ہے لیکن گلیاں اور بازار بھرے ہوئے ہیں۔ روایتی انداز میں خریداری کی جا رہی ہے۔ بازاروں میںکھوے سے کھوا چھل رہا ہے۔چند ایک نے ماسک پہننے کی زحمت گوارہ کی ہو گی۔ بغیر ماسک کے ہم کرونا سے جنگ جیتنے جا رہے ہیں۔کرونا بھی ہنستا ہو گا کہ

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے 

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

حکومت نے صحت کے شعبے سے ویسے ہی ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ حکومت کی پہلی ترجیح یہ نہیں تھی کہ نئے ہسپتال بنائے جائیں یا ہسپتالوں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے بلکہ ان کی فقط یہی کوشش تھی کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ آبادی کو صحت انصاف کارڈ دیا جائے۔ مطلب کہ نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ مریض دیے جائیں اور ان کی چاندی کرائی جائے۔ا ب کوئی ان سے پوچھے کہ جن لوگوں کو صحت انصاف کارڈ دیا گیا ہے کیا وہ اس کارڈ پر کرونا کی ویکسین کرا سکتے ہیں۔ کیا وہ اس کارڈ کے ذریعے کرونا کا شکار ہونے والوں کا علاج کرا سکتے ہیں؟ میری اطلاع کے مطابق وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں اور اگر غلط ہوں تو میری تصیح فرما دیں ۔انشورنس کمپنیوں نے اپنے معاہدے میں اس طرح کی شق شامل کی ہوتی ہے کہ وبائی امراض میں وہ علاج کرانے کی ذمہ دار نہیں ہو ں گی۔ اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت کو چاہیے کہ صحت انصاف کارڈ ہولڈرز کو یہ بتائے کہ وہ اس کے ذریعے کرونا کی ویکسین اور علاج کرا سکتے ہیں۔

حکومت کو بھی کیا دوش دیں ۔ اس وبا نے تو ان ممالک کی بھی بینڈ بجاد ی ہے جنہیں یہ زعم تھا کہ ان کے ہاں صحت کا نظام بہت عمدہ ہے۔ ان کا بھی سارے کا سارا نظام کرونا نے زمین بوس کر دیا۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ برطانیہ کے بھی حالات کسی سے 

ڈھکے چھپے نہیں۔ چین نے بھی مشکل سے اپنے حالات پر قابو پایا ہے اور ہمارا ہمسایہ بھارت وہ تو اس وقت کرونا کی شدید ترین لہر میں مبتلا ہے۔  ہم ہیں کہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں کہ ابھی حالات امریکہ برازیل اور بھارت کی طرح خراب نہیں ہیں ۔ اللہ اپنا فضل کرے تو ہم بچ سکتے ہیں ورنہ حالات تیزی سے خراب ہو جائیں گے اور ہم اپنے مریضوں کو سنبھا ل نہیں سکیں گے۔ صرف ماسک پہننے سے کرونا کی وبا پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے ہم وہ بھی نہیں کر رہے۔ہماری تین طرف سرحدوں پر کرونا نے اپنے وار کیے ہیں۔ سب سے پہلے چین اس کی زد میں آیا پھر ایران نے اس عذاب کو جھیلا اور اب بھارت اس سے گذر رہا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ کرونا کے حوالے سے آگہی پہنچانے میں میڈیا بھی بخل سے کام لے رہا ہے اور وہ کچھ نہیں دکھا رہا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ احتیاط کریں ۔ میری حکومت سے گذارش ہے کہ چند ہفتوں کے لیے بھارت کے ٹی وی چینل کی نشریات پاکستان میں کھول دیں تاکہ پاکستانیوں کی آنکھیں کھلیں کہ خطرہ کتنا زیادہ ہے ۔ راحت اندوری نے ایک بار کہا تھا

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لے اور موثر لاک ڈائون کی پالیسی کو اپنائے۔ موثر لاک ڈائون سے قوم اس وبا کو تیزی سے پھیلنے سے 

روک سکتی ہے۔ قوم سے اپیل کی جائے کہ ہم لاک ڈائون کرنے لگے ہیں اپنے آس پاس کا خیال رکھیں تو سب لوگ اس طرف توجہ دیں گے ۔ رمضان میں لوگ پہلے سے زیادہ سخی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار بھی ۔ ویسے بھی ایک برس کے دوران حکومت کو اس وبا سے نپٹنے کے لیے بھرپور تیاری کرنا چاہیے تھی جو کہ نہیں ہوئی ۔ ابھی تک ہم قوم کو کرونا کی ویکسین نہیں کرا سکے۔ شایدہمارا شمار ان ممالک میں ہے جہاں کی آبادی کو بہت کم ویکسین دی گئی ہے۔اس کا حل یہ نکالا گیا کہ نجی شعبے کو ویکیسن لانے کی اجازت دے دی گئی اور اس کے بعد نجی شعبے نے اس ویکیسن کی قیمت ہزاروں میں پہنچا دی۔جو ویکیسن بھارت میں چند سو میں دستیاب ہے وہ پاکستان میں صرف امیر طبقہ افورڈ کر سکتا ہے۔اس ویکسین کی قیمت پانچ سو روپے تک بھی ہوتی تو یقین مانیے کہ قوم نے اپنے پیسے سے ویکسین کرا لینا تھی مگر اس کا ریٹ دس ہزار سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ۔سب دیہاڑی لگانے پر لگے ہوئے ہیں۔دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ جتنے کی ویکسین خریدی جار ہی ہے اگرحکومت اسے اسی قیمت پر لوگوں کو فراہم کرنے کا بندوبست کر دے تو کیا لوگ اپنے پیاروں کو ویکیسن نہیں کرائیں گے۔ ضرور کرائیں گے۔

تمام سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں سامنے آئیں اور اس جنگ کے خلاف متحدہوں۔ یہ جنگ اکیلے نہیں جیتی جا سکتی ۔ سیاست کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں اور یہ طرز عمل اپنائیں کہ پاکستان پر حملہ ہوا ہے اور دشمن سے لڑنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ جنگی حکمت عملی اپنا لیں تو ہم اس جنگ کو جیت سکتے ہیں۔ فروعی اور سیاسی اختلافات کو حالا ت کی بہتری تک موقوف کر دیا جائے۔ حکومت ایک قدم آگے بڑھے اور تمام طبقات کو اکٹھا کر کے اس جنگ کو موثر طور پر لڑنے کے لیے تیار ہو۔


ای پیپر