Sumera Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
26 اپریل 2021 (11:35) 2021-04-26

حکومت کا کام عوام کے ہر طبقے کے مسائل و مشکلات کاحل ، غریب اور نادار لوگوں کی فلاح و بہبود یقینی بنانے اور کم وسائل رکھنے والے افراد و پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کا کام حکومت کی کمزوریوں اور پس نظری کی نشاندہی کر کے اس کی رہنمائی کرنا ہے۔ دیکھا جائے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں عوام کی ہی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ کسی بھی جمہوری ملک کے ایوان سیاست میں عوامی خدمت کی یہ اقداریں آج بھی نظر آتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کی اپوزیشن کی چال ہی بے ڈھنگی ہے۔ اس کی سیاست کا محور اپنے جرموں کو چھپانا اور اپنے ادوار حکومت میں ملک کے خزانے سے چرایاگیا پیسہ بچانا ہے۔ حیرت ہے اپوزیش والے نابلد سیاست دان مریم صفدر کے پیچھے کھڑے ہو کر بائیس کروڑ عوام پر ظلم کر رہے ہیں۔ ن لیگ کی سیاست این آر او سے شروع ہو کر این آر او پر ہی ختم ہونے والی خدمت کی آڑ میں ندامت اور خجالت کی داستان ہے۔ اگر حکومت ن لیگ کی جاتی امرا رائیونڈ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتی ہے تو سارے لیگی ترجمان گالیوں اور بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ کہتے بدمعاشی، غنڈہ گردی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ ہمارے ساتھ باریاں طے کر لیں۔ جیسے ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے باری باری کا کھیل رچا رکھا تھا اپوزیشن کے شور شرابہ کے باوجود وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا اب وہ خواب حقیقت میں بدل رہا ہے پنجاب میں اسے عملی جامہ پہنانے کا سہرا سردار عثمان بزدار کے سر جاتا ہے۔ پرائم منسٹر افورڈ ایبل ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت صوبے کی 146 تحصیلوں میں 133 مقامات پر گھر بنائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں مختلف شہروں کے 32 مقامات میں کم آمدن والے لوگوں کیلئے 10 ہزار سے زائدگھر بنائے جا 

رہے ہیں۔ سرگو دھا میں 6 مقامات پر 3,3 مرلے کے 1175 گھر کم آمدن والے لوگوں کے لئے بنائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور میں پہلے مرحلے میں صوبائی، وفاقی اور ایل ڈی اے ملازمین کو 2 ہزار اپارٹمنٹس الاٹ کیے جانے کی قرعہ اندازی کر کے اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کر دیا ہے۔

جس کے لیے 13ہزار سے زائد درخواستیں وصول ہوئیں۔ عوام کا یہ رسپانس حوصلہ افزا اور حکومت کے منصوبے پر بھر پور اعتماد کا اظہار ہے۔ ایل ڈی اے سٹی نیا پاکستان اپارٹمنٹس سکیم کا معیار کسی بھی اچھی پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیم سے بہتر ہو گا۔ اس سکیم میں 60فیصد رقبہ گرین بیلٹ پارکس، فٹ پاتھ اور سڑکوں کیلئے مختص ہے۔ ایل ڈی اے سٹی نیا پاکستان اپارٹمنٹس سکیم کے تحت 35 ہزار سے زائد اپارٹمنٹس بتدریج مکمل ہونگے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی محنت سے ’’نیا پاکستان، نیا نظام‘‘ آبیانہ کا سو سالہ نظام ختم ہوا ہے۔ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے ای آبیانہ بلنگ سسٹم کا افتتاح کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 4 پائلٹ کینال ڈویژنز خانواہ، لیہ، قصور اور شیخوپورہ میں ای آبیانہ نظام کا اجرا ہو چکا، بتدریج پورے صوبے میں متعارف کرایا جائیگا۔ کسانو ں کو آبیانہ پرچی کے بجائے کمپیوٹرائزڈ بل دیا جائے گا، کسان اور رقبہ سے متعلق تفصیلات شامل ہونگی۔ آبیانہ کی ادائیگی قریبی بینکوں، ایزی پیسہ، اے ٹی ایم، جاز کیش یا ای پے موبائل ایپ کے ذریعے کی جا سکے گی۔ جدید نظام سے کسانوں کے استحصال کا خاتمہ ہو گا، آبیانہ کی بروقت وصولی ہو گی، نہری نظام کی دیکھ بھال میں مالی معاونت ملے گی وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کی منظوری دے دی ہے اور خود مختلف ڈسٹرکٹ میں جا کر ترقیاتی منصوبوں کی خوشخبری دے رہے ہیں اور خود ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔ پنجاب بھر میں نئے بننے والے کالجز، یونیورسٹیاں اور ہسپتال سولر توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ اہمیت کا حامل ہے۔ جس سے 45فیصد تک بچت ممکن ہو گی۔ حافظ آباد میں نیا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال 8 ارب روپے کی لاگت سے بنایا جائیگا، خوشاب ٹی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ 25 کروڑ سے اپ گریڈ ہو گا، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جڑانوالہ 40 کروڑ روپے کی لاگت سے اپ گریڈ، آر ایچ سی اوچ شریف کو 60 بیڈ کا ہسپتال بنایا جائیگا۔ ضلع قصور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پتوکی کی اپ گریڈیشن اور ٹراما سنٹر کے قیام کی منظوری، 21 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ ضلع قصور، چونیاں ہسپتال میں 13 کروڑ سرجری وارڈ، لالا موسیٰ ہسپتال میں 7 کروڑ سے ایمرجنسی وارڈ بنے گا، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کھاریاں 19 کروڑ روپے سے اپ گریڈ ہو گا، منچن آباد کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن پر 37 کروڑ کی منظوری، دورہ فیصل آباد کے دوران 14ارب روپے کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکیج منظور، 8 سڑکوں کیلئے ایک ارب کی منظوری دیدی گئی ہے۔ اس طرح ایک لمبی لسٹ ہے اور کون کہتا ہے کہ پنجاب میں کام نہیں ہو رہا۔ ہماری حکومت وفاق میں یا پنجاب میں بھرپور کام کر رہی ہے۔ اس کے برعکس حزب اختلاف کے سرخیل مغلظات بکنے کے سوا کوئی کام ہی نہیں کر رہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ وہ شخص جو ملک کا چیف ایگزیکٹو رہا ہے۔ اس کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے بارے میں نازیبا ریمارکس افسوسناک اور شرمناک ہیں۔ میں اس کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ ایوان کا تقدس سب پر لازم ہے۔ نازک حالات میں اپوزیشن کے انداز سیاست پر صد افسوس ہے۔ اپوزیشن نے اپنی مردہ سیاست کو زندہ کرنے کی مذموم کوشش کی۔ جو انتہائی گھٹیا ہے۔ اپوزیشن اپنی جھوٹی سیاست کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کے لئے مختلف سہار ے ڈھونڈ رہی ہے۔ حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور خوش اسلوبی سے معاملات طے کر رہی ہے۔


ای پیپر