ویل ڈن ،محتسب پنجاب 
26 اپریل 2021 2021-04-26

 احتساب قوموں کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی و خوشحالی میں احتساب بنیادی جز ہے،وہ قومیں جو خود احتسابی کی روش اپناتی ہیں ان کی ترقی خوشحالی اور معاشرے میں عدل و انصاف کی نظیر تلاش نہیں کی جا سکتی،کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں اگر تاریخ اسلام پر اچٹتی سی نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے اسلام کی قبولیت کی بڑی وجہ اولین مسلمانوں میں خود احتسابی کا رحجان تھا،اس دور میں انسانی جبلت کے تحت کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی تو بجائے متاثرہ شخص اسے محتسب کی عدالت میں لے جاتا وہ خود اپنے امیر کے سامنے پیش ہو کر اپنی غلطی کوتاہی کا اعتراف کر کے خود کو سزا کیلئے پیش کرتا،اس رویے کی وجہ سے دین اسلام کو ایک منفرد اعزاز حاصل ہوا۔خود احتسابی کے بعد معاشرتی اور ادارہ جاتی احتساب کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے،معاشرتی اور سماجی احتساب کے لیے عدالتیں موجود ہیں،ادارہ جاتی احتساب کیلئے ملک میں وفاقی اور صوبائی محتسب کے دفاتر قائم کئے گئے،جہاں کسی بھی ادارہ کیخلاف شکائت کی صورت میں رجوع کر کے انصاف حاصل کیا جا سکتا ہے،سماجی انصاف سے معاشرہ مضبوط ہوتا ہے تو ادارہ جاتی احتساب سے امور سلطنت اور حکومت کو خوش اسلوبی سے انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔

پنجاب میں محتسب ایکٹ 1997 کے سیکشن 28 (1) کے تحت اس ادارہ کو بنانے کے بعد پابند بھی کیا گیا ہے کہ کیلنڈر سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر اندر صوبائی محتسب ادارہ کی سالانہ رپورٹ پیش کریں،تاکہ اس ادارے کی کارکردگی کا اندازہ ہو سکے۔ ان دنوں ایک محنتی اور نیک نام افسر ، میجر اعظم سلیمان خان محتسب پنجاب کے عہدے پر متمکن ہیں ،وہ اس سے قبل پنجاب اور سندھ کے چیف سیکرٹری ،وفاقی سیکرٹری داخلہ ،کمشنر،ڈپٹی کمشنر ،ڈی سی او،اور مختلف محکموں کے سیکرٹری رہنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ، جس کی وجہ سے اس ادارہ کی کارکردگی میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ میجر اعظم سلیمان خان نے یکم جولائی 2020 ءکو صوبائی محتسب کے عہدے کاحلف لیا،مسائل زدہ شہریوں کی شکایات کے فوری حل کے لئے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ایک فعال رابطہ قائم کرنے کے لئے محتسب ٹیم کیلئے مربوط پالیسی تشکیل دی ، کووڈ 19، لاک ڈاو¿ن اور 50 فیصد عملے کے ساتھ کام کرنے کے نتیجے میں شکایات کم تعداد میں موصول ہوئیں تاہم ان کافوری ازالہ کیا گیا۔گزشتہ دنوں صوبائی محتسب نے گورنر پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو اپنے ادارہ کی رپورٹ پیش کی ،جس کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ مثالی کام کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کیخلاف 196 ،محکمہ محصولات کیخلاف021، لوکل گورنمنٹ280، سکول ایجوکیشن 870، ہائیر ایجوکیشن کیخلاف 863 ، شکایات موصول ہوئیں۔موصولہ شکایات کی کل تعداد13،191تھی31دسمبر2020تک 11،683 شکایات نمٹا دی گئیں, متوفی سرکاری ملازمین کی بیوگان / قانونی ورثا کے لئے سکالرشپ اور مالی امداد وغیرہ سمیت مختلف زمرہ کے شکایت دہندگان کو 2575.85 ملین روپے کے مالی فوائد دلائے گئے،جو ایک بڑا کارنامہ ہے۔

 محتسب کے دفتر کی مداخلت کے ذریعہ 351 کنال اور 14 مرلہ سٹیٹ اراضی جس کی مالیت 1737.83 ملین روپے بنتی ہے غیر قانونی قابضین سے واگزار کرائی گئی،متعلقہ تمام سرگرمیاں شکایات مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعہ انجام دی جارہی ہیں،یہ ایک ایسا سائینٹفک سسٹم ہے جس کے تحت مختصر وقت میں شکائت کنندہ کو انصاف ملتا ہے، شکایات اور آپریشنل سے متعلق 24 سال کے ڈیٹا کو ڈیجیٹلائزکیا گیا اس آفس کے آغاز سے ہی شکایات فائلوں سے متعلق 262،092 سے زیادہ فیصلوں کو ڈیجیٹلائزڈ اورآرکائیو کیا گیا،شکایات سے متعلق تمام سکین فیصلے / احکامات موبائل ایپ پر عام لوگوں کو مفت دستیاب کئے گئے، تمام آپریشنل ونگز کا ریکارڈ کامیابی کے ساتھ سکین اور ڈیجیٹلائز کیا گیا، ہیڈ آفس اور 41 علاقائی دفاتر میں ای فائلنگ آفس آٹومیشن سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی لائی گئی، ہیڈ آفس اور 41 علاقائی دفاتر میں پیپر لیس ماحول کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا جہاں تمام نوٹنگ اور تعمیل ای فائلنگ آفس آٹومیشن سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہے،متاثرہ افراد کو فوری امداد اورآسانی فراہم کرنے کے لئے ترجیح تفویض کی گئی، ہیلپ لائن 1050، جو پہلے 9 صبح سے شروع ہوئی تھی اب5 سے 5 بجے تک، بچوں کے تحفظ اور بچوں سے بدسلوکی کے بارے میں عام شکایات اور شکایات کے لئے آپریشنل 24/7 کیاگیا۔

 بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے، چیف صوبائی کمشنر برائے او سی پی سی سی کا دفتر یونیسف کے مالی اور تکنیکی تعاون کے ساتھ کام کر رہا ہے، یہ بچوں سے متعلق شکایات موصول کرنے اور ان کا فیصلہ کرنے اور کسی بھی صوبائی ایجنسی کے ذریعہ وکالت، تفتیش، بڑے پیمانے پر آگاہی مہم وغیرہ کے ذریعہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک منظم فورم کے طور پر کام کرتا ہے،میڈیا سیل کے قیام کے ساتھ ہی، پنجاب کے 36 اضلاع میں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی گئی جس کے ذریعے عام لوگوں کو ان کی دہلیز کے قریب صوبائی محتسب کے کام سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے، شکایات کی چھان بین کے معیارکو بہتر بنانے کیلئے سال 2020 ءکے دوران، معزز گورنر کے ذریعہ فیصلہ کیے گئے 462 فیصلوں میں سے 443 کو نمٹا دیا گیا تھا اس کے معنی یہ ہیں کہ محتسب کے احکامات 95 فیصدسے زیادہ گورنر کی حمائت سے برقرار رہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے معاملات کو زیادہ موثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے،سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک اوورسیز پاکستانی نے ای میل کے ذریعہ اپنی شکایت کا اظہار اپنے بچے کے لئے انصاف کے حصول کے لئے کیا جس کو سکول کے ٹیچر نے تشدد کا نشانہ بنایا، اس دفتر کے ذریعہ تفتیش کچھ دن میں مکمل کرلی گئی،اس کے نتیجے میں، ملزم ٹیچر کو ملازمت سے برخاست کردیا گیا،دیگر کے خلاف کارروائی کے لئے خلاصہ چیف منسٹر کو بھیج دیا گیا۔دفترصوبائی محتسب اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے ساتھ تعاون کرتا ہے کیونکہ صوبے کے ہر ضلع میں اس کا نیٹ ورک موجود ہے، ایکٹ 1997 کے سیکشن 9 (1) میں یہ فراہم کیا گیا ہے کہ محتسب کسی بھی شخص کی شکایت پر تفتیش کرسکتا ہے۔

موجودہ صوبائی محتسب کی یہ پہلی سالانہ کار کردگی رپورٹ ہے،اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں یا تجاوز کرنے والوں کیخلاف صوبائی محتسب کا ادارہ فوری انصاف کا واحد ذریعہ ہے ،محتسب کا ادارہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ریلیف دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،قصہ مختصر صوبائی محتسب صرف شہریوں کیلئے انصاف کی آخری کرن نہیں بلکہ قانون شکن سرکاری ملازمین کے سر پر لٹکتی ہوئی ننگی تلوار ہے جو ان کو قواعد کے مطابق اپنے فرائض انجام دینے پر مجبور کرتا ہے۔ویل ڈن محتسب پنجاب۔


ای پیپر