حکومت اور اپوزیشن میں”لفظی جنگ“ ....انجامِ گلِستاں کیا ہوگا؟
26 اپریل 2019 2019-04-26

پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس ہوںیا ایوانِ زیریںیعنی قومی اسمبلی کے اجلا س ہوں ان میں حکومتی ارکان اور حزب مخالف کے ارکان کے درمیان نوک جھونک اور ایوان میں در پیش یا زیرِ بحث معاملات پر ایک دوسرے کے خلاف موقف اختیار کرنا کوئی ایسی انہونی یا غیر معمولی بات نہیں ۔اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے ،تا ہم قومی اسمبلی کے رواں سیشن میں جو پیر 22اپریل سے شروع ہے ایوان کا جو ماحول رہا ہے اور اپوزیشن ارکان نے حکومت کے جو لتّے لےے ہیں ۔ اُن کی طرف سے سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے اور دھر نا دینے کے جو واقعات پیش آئے ہیں انہیں معمول کی کاروائی قرار دینا شاید مناسب بات نہیں ہوگی ۔اس کے ساتھ ان دنوں ایوان میںجو تقاریر ہوئیں اور حزب مخالف کے اہم ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ایران کے دوران ایران میں دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی سر زمین کے استعمال ہونے کے حوالے سے اُن کے اعترافی بیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں مسئلہ کشمیر کے حل ہونے کے امکانات کے بارے میں دئےے گئے اُن کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور پاکستان کی قومی سلامتی کے منافی قرار دے کر ان پر جو شدید تنقید کی ہے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بیانات کی وضاحت کریں ۔جواب میں حکومتی ارکان نے ایوان میں جو رویہ اپنایا ہے اور جس طرح کی مخالفانہ تقاریر کی ہیں یقینا یہ صورتحال بھی ایسی نہیں ہے جِسے معمول کی صورتحال قرار دے کر نظر انداز کیا جا سکے ۔اس کے مُلکی انتظام و انصرام پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں بلکہ حکومتی جماعت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان باہمی مخاصمت اور مخالفت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو ملک کے لےے کسی صورت میں بھی فائدہ مند نہیں ۔اس صورتحال کا ضرور جائزہ لیا جانا چاہےے۔ویسے تحریک انصاف کی حکومت کی گذشتہ تقریباً 9ماہ کی ناقص کارکردگی ،مُلکی مسائل و مشکلات حل کرنے میں ناکامی اور قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں اور حزب مخالف کے بنچوں کے درمیان ”لفظی جنگ“کی صورتحال کو دیکھ کر مجھے تقریبا ً پچپن ،ساٹھ برس قبل گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں 1962ءمیں وجود میں آنے والی پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کی کاروائی یاد آرہی ہے جس میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف سردار بہادر خان مرحوم جو صدر ایوب خان کے حقیقی بھائی تھے نے حکومتی ارکان پرطنز کرتے ہوئے ایک شعر پڑھا تھا جس کا یہ مصرع ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے ،انجامِ گُلستاں کیا ہوگا۔۔۔بڑا مقبول اور مشہور ہوا تھا اور اخبارات کی شہ سُرخیوں کی زینت ہی نہیں بنا تھا بلکہ زبان زد خاص و عام بھی ہوا تھا ۔موجودہ ملکی صورتحال میں اس کا حوالہ اگر کسی کو اچھا نہ لگے تو اس کو بطور لطیفہ بھی لیا جا سکتا ہے لیکن قومی اسمبلی میں ارکان کی تقاریر ایسی نہیں ہیں جنہیں محض لطیفہ سمجھا جائے ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں پیر کو تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے بارے میں جو کہا کہ ”وزیر نکالنے سے سلیکٹیڈ(Selected)وزیراعظم کی نااہلی نہیں چھپے گی ۔وہ نالائق ہیں ، گالم گلوچ اور نیب گردی سے خاموش نہیں رہیں گے۔“اِس سے حکومتی ارکان کو تکلیف پہنچنا لازمی امر تھا چنانچہ مُراد سعید جیسے عمران خان کے جانثار جیالے کی طرف سے ہی نہیں اسد عمر جیسے تحریک انصاف کے

سنجیدہ اور منجھے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی کی طرف سے بھی قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کو جہاں جواب دینا ضروری سمجھا گیا وہاں وزیراعظم جناب عمران خان نے بذاتِ خود بھی بلاول بھٹو زرداری سے حساب چکانا اپنے لےے واجب گردانا۔ عمران خان نے بدھ کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام و انا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” بلاول صاحبہ“کی طرح پرچی پر لیڈر نہیں بنا ۔جدوجہد سے اوپر آیا ہوں ۔نہ مجھے جائیداد میں پارٹی ملی ہے اور نہ کسی جنرل جیلانی نے وزیر اعلیٰ بنایا ۔جمہوریت بچانے کے لےے سارے کرپٹ جمع ہوگئے ہیں ، جب تک زندہ ہوں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا“ ۔ عمران خان کو بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کو یہ جواب دے کر ذاتی طور پر جتنی بھی مسرت ہوئی ہو اِس سے قطع نظر اُن کے بلاول کو ”صاحبہ“ کہہ کر پُکارنے کو زیادہ پسند نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن نے جہاںاُن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہاں سوشل میڈیا پر بھی اُن پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ بلاول بھٹو نے جناب عمران خان کو یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ چھوٹے آدمی کو بڑے عہدوں پر بٹھایا جائے تو یہی ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری کی عمران خان پر تنقید ، جناب عمران خان کا جواب اور بلاول بھٹو زرداری کا جواب الجواب اپنی جگہ خوب ہیں تاہم دیکھتے ہیں کہ کچھ دیگر حکومتی زعماءاَور حزبِ مخالف کے ارکانِ اسمبلی نے قومی اسمبلی میں کن خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید جن کا ذکر اُوپر آیا ہے اَور جو وزیر اعظم عمران خان کے بڑے لاڈلے اور چہیتے گردانے جاتے ہیں اُنہیں حزبِ مخالف کے اراکین کی وزیر اعظم کے ایران میں دئیے گئے بیان پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے ”گو بے بی گو“ کے نعرے سُننے پڑے۔ جناب اسد عُمر نے بھی حزب ِ مخالف کو جواب دینے کی کوشش کی تاہم وفاقی وزیر علی زیدی اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے اپنی تقریر مکمل نہ کر سکے۔ اپوزیشن ارکان میں سے مسلم لیگ ن کے رُکن قومی اسمبلی سابقہ وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر اور پیپلز پارٹی کی رُکن قومی اسمبلی سابقہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے وزیر اعظم کے ایران میں دئیے گئے بیان پر تنقید کرتے ہوئے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ یقینا قابل غور ہیں۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ایران میں جو بیان دیا وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ عسکری گروپس پاکستان نے بنائے اور ایران میں دہشت گردی کے گروپ پاکستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کے ایسے بیانات قومی سلامتی کے منافی ہیں اور ملک کو بیک فُٹ پر لے کر جا رہے ہیں۔ جب دُنیا ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ایف اے ٹی ایف ہم پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے ایسے بیانات دینا انتہائی غیر سنجیدہ رویہ ہے۔ اِس سے قبل بھی وزیر اعظم ایسے بیانات دے چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے الیکشن جیتنے سے مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مودی مسلمانوں کا قاتل ہے ۔ اُس کے دَور میں مظلوم کشمیریوں پر بھارتی فوج نے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے۔ مگر ہمارے وزیر اعظم فرما رہے ہیں کہ مودی کے الیکشن جیتنے سے مسئلہ کشمیر کے حل کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم کے ایسے بلنڈر کی طویل فہرست موجود ہے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایوان میں آکر اپنے اپنے بیانات کی وضاحت کریں۔ پیپلز پارٹی کی رہنما سابق وزیر خارجہ حنا رُبانی کھر نے بھی وزیر اعظم کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے خرم دستگیر کے خیالات سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس ملک کا مذاق بنتا دیکھ کر ہم اِس ملک کے لئے پریشان ہیں۔ حکومت کی نا ختم ہونے والی غلطیاں جاری ہیں۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا کہ ایران میں دہشتگردی میں ہماری سرزمین استعمال کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ مودی جیت گیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ آئے روز لیکچر دئیے جا رہے ہیں کہ افغانستان میں کیسی حکومت بننی چاہیے۔ وزیر اعظم کے اس طرح کے بیانات سے پاکستان کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔اگر ریاست چلانے کے لئے آپ کو ٹریننگ چاہیے تو پہلے ٹریننگ لیں اور پھر سلیکٹ ہو کر آئیں۔

خرم دستگیر اور حنا رُبانی کھر کی قومی اسمبلی میں تقاریرکو کتنے ہی گھنٹے گزر چکے ہیں اِس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی ہی نہیں بہہ چکا ہے بلکہ قومی اسمبلی میں حزب ِ مخالف کے ارکان کی طرف سے شدید احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ احتجاج کا سلسلہ جب حد سے بڑھتا ہے تو وہ اجلاس کو اگلے دِن کے لئے ملتوی کر دیتے ہیں۔ جمعرات شام کو جب یہ سطور لکھی جا رہی ہےں تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ارکان بالخصوص خواتین ارکانِ قومی اسمبلی نے سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر کے بھرپور احتجاج کیا اوروزیر اعظم عمران خان کے بلاول بھٹو زرداری کو”صاحبہ“ کہنے پر شدید تنقید کی۔احتجاج کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے

ہر شاخ پر اُلّو بیٹھا ہے

انجامِ گلستاں کیا ہو گا؟


ای پیپر