پونزی طلسم
26 اپریل 2019 2019-04-26

پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ دو ہزار برس قبل مسیح انسان اس نظریے سے واقف ہوچکا تھا۔ قرض دینے اور اس پر سود لینے کی روایت اتنی ہی پرانی ہے۔ شاید تب انسان ابھی مقناطیس سے بھی آشنا نہ ہوا ہوگا جب اس نے پیسے کے ساتھ پیسہ کھینچنے کا ہنر سیکھ لیا تھا۔ سونے اور چاندی کے سکوں کی دریافت سے بھی پہلے اناج کے بدلے مال پر سود لیا جاتا۔ پھر قیمتی دھاتوں کی کرنسی نے یہ کاروبار مزید بڑھا دیا۔ پہلی ہزاروی کے اختتام تک مختلف ممالک میں منظم بینکنگ نظام قائم ہوچکا تھا۔ بینکاری نے سودی نظام کو بام عروج تک پہنچا دیا۔ بینکار بہت سے لوگوں کا پیسہ جمع کرتا اور سود پر ضرورت مندوں کو قرض دے دیتا۔ کھاتے داروں کو جمع کرائی گئی رقم سے جب جتنی رقم درکار ہوتی، بینک فوری ادائیگی کردیتا، اس بااعتماد سہولت نے انسان کو اپنی جمع پونجی گھر میں رکھنے کے جھنجٹ سے نجات دلادی۔ بینک بڑھتے گئے اور آج دیہات میں بھی ان کی شاخیں اچھا خاصا مال اکٹھا کررہی ہیں۔ دیکھا جائے تو بینکار کو نقصان کا کوئی خدشہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن قسمت سے ہی کوئی بینک سو سال تک قائم رہ پاتا ہے۔ ہزاروں بینک اپنے قیام کے دس برس بھی پورے نہ کرپائے۔ آج تک برقرار رہنے والا سب سے پرانا بینک اٹلی کا "بینکا مونٹی دی پاشو" 1472ءمیں قائم ہوا تھا۔

سسلین مافیا کے دیس اٹلی کے شہری پیسے سے پیسہ کھینچنے کا ہنر جانتے ہیں۔ چارلس پونزی 3 مارچ 1882ءکو اٹلی کی ریاست روانا کے شہر " لگو" کے ایک متوسط گھر میں پیدا ہوا۔ ہوش سنبھالا تو گھر میں غربت کے ڈیرے تھے، تعلیم ادھوری چھوڑ کر مختلف جگہ پر نوکری کی۔ آخر 1903ءمیں کسی نہ کسی طرح جگاڑ لگا کر سپنوں کی سرزمین امریکا پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس وقت اس کی جیب میں ڈھائی ڈالر اور آنکھوں میں لاکھوں کے خواب تھے۔ ایک ہوٹل میں برتن دھونے کی نوکری ملی، ایک روز چوری کرتے پکڑا گیا، اور نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کئی مہینوں تک در در بھٹکنے کے بعد مونٹریال منتقل ہوگیا، وہاں بینک میں نوکری مل گئی، کچھ عرصہ اچھا گزرا، لیکن پھر بینک کنگال ہوگیا، مالک بچا کھچا مال لے کر فرار ہوگیا۔ دوسری جانب چارلس جلد سے جلد امیر بننا چاہتا تھا، لیکن غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا تھا۔ آخر اس نے جعلی بینک چیک بنا کر دولت سمیٹنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔ کیس چلا اور سزا سنادی گئی، ساڑھے تین برس بعد 1911ءمیں رہائی ملی۔ واپس امریکا جانا چاہتا تھا، لیکن جیب میں زہر کھانے کو پیسے نہ تھے۔ دولت کمانے کیلئے جیل کے ساتھیوں سے مل کر انسانی سمگلنگ کے دھندے میں پڑ گیا، اور پھر پکڑا گیا۔ 1916ءمیں دوبارہ رہائی ملی۔ شرافت سے کان کنی کے پیشے سے وابستہ ہوگیا۔ ایک روز ایک ساتھی مزدور آگ سے جھلس گیا، چارلس نے اسے اپنی جلد کا 220 مربع انچ حصہ عطیہ کردیا، لیکن انفیکشن کے باعث بیمار پڑ گیا، صحت کے ساتھ ساتھ نوکری بھی چھن گئی۔ آخر مختلف شہروں میں معمولی نوکریاں کرتے کرتے بوسٹن میں اس کی ملاقات ایک اسٹینو گرافر لڑکی سے ہوئی۔ چند ماہ بعد دونوں نے 1918ءمیں شادی کرلی۔ نوکری پھر ندارد۔ اگلے دو برسوں کے دوران بیس کام دھندے کئے، اِدھر ا±دھر بہت ہاتھ پاو¿ں مارے، بات نہ بنی۔ امریکا آنے کے 17 برس بعد بھی وہ کنگال کا کنگال ہی تھا۔

چارلس کو بڑے خواب دیکھنے کا جنون تھا، اس نے کبھی خواب دیکھنا نہیں چھوڑے۔ خوابوں کی دنیا میں گم رہنے کیلئے وہ پرانے ناول پڑھتا رہتا اور ایسے ہی ایک ناول نے اسے اچھوتا خیال بخش دیا۔ پپو کو لوٹ کر ببلو کا قرض ادا کرنے کا طلسمی فارمولا، اس کا نام تاریخ میں امر کرنے والا تھا۔

یکم جنوری 1920ءاس کے خوابوں کی تعبیر کا پہلا دن تھا جب اس نے پونزی سکیورٹی ایکسچینج کمپنی کی بنیاد رکھی۔ کمپنی اپنے کھاتہ داروں کو 90 روز میں رقم دگنی کرنے یا 45 روز میں 50 فیصد منافع کے ساتھ واپس کرنے کی پیشکش دے رہی تھی۔ ایسے وقت جب بینک پانچ فیصد سالانہ منافع دے رہے تھے، پچاس فیصد بہت بڑی آفر تھی۔ لیکن پہلے مہینے اس کے پاس 18 لوگوں نے صرف 1800 ڈالر جمع کرائے۔ اس نے وہ رقم ڈاک ٹکٹوں کی خرید و فروخت میں لگائی، اور فروری میں رقم وعدے کے مطابق طے شدہ منافع کے ساتھ لوٹا

دی۔ اس کا اعتماد قائم ہوچکا تھا۔ 31 مارچ تک اس کے پاس 25 ہزار ڈالر سے زائد جمع کرائے جا چکے تھے، جو آج کے حساب سے 3 لاکھ ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔ ہر روز رقم جمع کرانے والوں کا تانتا بندھا رہتا، مئی کے آخر تک یہ رقم پانچ لاکھ ڈالر (موجودہ ساٹھ لاکھ ڈالر) سے زائد ہوگئی۔ اس نے کئی دفاتر قائم کرکے درجنوں ملازم رکھ لئے۔ بڑی بڑی کمپنیوں اور بینکوں کے شئیرز خرید لئے۔ آسمان سے ڈالر برسنے کا سلسلہ جاری رہا، وہ شادی کے دو برس بعد پہلی بار ہنی مون منانے گیا، والدین پر بھی دولت کی برسات کردی، دنیا گھوم کر واپس آیا تو جولائی کے آخری روز تک اس کے پاس جمع کرائی گئی رقم 60 ملین ڈالر سے زائد ہوچکی تھی جو آج کے سات سو ملین ڈالر سے زائد بنتے ہیں۔ نئے لوگ پیسہ جمع کراتے وہ پرانے لوگوں کو منافع سمیت رقم لوٹا دیتا۔ کھاتے داروں کی اکثریت دگنے کو چوگنا کرنے کے لالچ میں رقم واپس جمع

کرادیتے، وہ صرف سات ماہ میں کئی بینکوں کے مالکوں سے زیادہ امیر بن چکا تھا۔ بڑے بڑے بینک

دیوالیہ ہونے لگے، پراپرٹی کے ریٹ گر گئے۔ لوگ اونے پونے اپنی جائیدادیں فروخت کرکے رقم پونزی کے پاس جمع کرانے لگے۔

فزکس کا اصول ہے، بہت تیزی سے اوپر جانے والا بہت تیزی سے ہی نیچے آتا ہے۔ اگست میں نیویارک ٹائمز میں اس کے طریقہ کاروبار پر مضمون چھپنے لگے، روز نئے نئے سوال اٹھائے جاتے، دولت کے زور پر پونزی نے اپنی حمایت میں بھی مضمون چھپوائے، لیکن فنڈز جمع کرانے والوں کی تعداد کم ہونے لگی، رقم واپسی کا تقاضا کرنے والے بڑھتے گئے۔ نومبر کے آخر تک حالات ایسے ہوگئے کہ وہ لوگوں کو ان کی اصل رقم لوٹانے کی پوزیشن میں بھی نہ رہا۔ سیکڑوں افراد نے اس پر مقدے دائر کردئیے، اسے گرفتار کرلیا گیا۔ 13 سال قید کاٹنے کے بعد رہا کرکے ملک بدر کردیا گیا۔ پونزی طلسم میں امریکیوں کے 20 ملین ڈالر لٹ گئے، جو آج کے ڈھائی سو ملین ڈالر بنتے ہیں۔

بینکنگ نظام بھی پونزی اسکیم کی انتہائی سست قسم ہے، اسی لئے کسی کامیاب بینک کو پونزی کے انجام تک پہنچنے میں سو سال یا اس سے بھی زائد لگ جاتے ہیں۔ ورنہ راتوں رات امیر ہونے کا لالچ عقل پر بڑا گہرا پردہ ڈال دیتا ہے، وہی امریکی 80 برس بعد ایک بار پھر پونزی طلسم کا شکار ہوگئے اور 2000ءسے 2007ءتک برنی مڈاف نے انہیں 18 ارب ڈالر کا ٹیکا لگایا۔ پونزی کے پاکستانی شاگرد ڈبل شاہ نے صرف ڈیڑھ برس میں غریب قوم سے 20 ارب روپے اکٹھے کرکے اپنے گرو کو بھی مات دیدی تھی۔


ای پیپر