رمضان کا مہینہ.... روح کی آکسیجن کا خزینہ
26 اپریل 2019 2019-04-26

جیسے جیسے رمضان کی آمد قریب ہورہی ہے،دل کی حالت عجیب ہورہی ہے،ایسا لگتا ہے کہ وقت کم ہے ا ور بہت سے کام کرنا باقی ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا رمضان کی تیاری کیسے شروع کریں؟ استاد جی سے رہنمائی لینے کا ارادہ کیا تووہ نہرکنارے بیٹھے ملے۔ مجھے دیکھ کرمسکرانے لگے گویا میری سوالیہ نظریں بھانپ گئے ہوں۔ میرے کچھ پوچھنے سے پہلے نہرکی طرف اشارہ کرکے بولے!

اس مچھلی کو دیکھو، تھوڑی تھوڑی دیر بعد اوپر آ کر آکسیجن لیتی ہے پھراپنی دنیا میں چلی جاتی ہے۔

کیا اس کواپنی دنیا میں آکسیجن نہیں ملتی؟

شائد یہ اپنے رب کا شکرادا کرنے پانی کی سطح پرآتی ہے۔

بچہ جی! ہمیں بھی یہ آکسیجن حاصل کرنے کا موقع دن میں پانچ بارنمازکی صورت میں ملتا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنا مگن ہیں کہ اس طرف نہیں جاتے اوراپنی روح کوآکسیجن سے محروم رکھتے ہیں۔اس کمی کوپورا کرنے کے لیے میرے رب نے رمضان کا تحفہ دیا ہے جس میں سب سے پہلے توشیطان کوقید کردیا جاتا ہے پھراللہ اپنی رحمتوں کی سیل لگا دیتا ہے۔وہ اپنے بندوں کی نیکی اورعبادات کے بدلے آکسیجن کی مقدارمیں غیرمعمولی اضافہ کردیتا ہے۔ ایک مہینہ کے لگاتار روزے اورعبادت انسان کو سفید چادرکی طرح بے داغ کر دیتی ہے۔جواس مہینے کو صحیح طریقہ سے گزار لیتا ہے اس کی پورے سال کی تربیت ہوجاتی ہے۔

میں نے استاد جی سے پوچھا کہ سمجھ نہیں آتا کہ رمضان کی تیاری کیسے کریں اور کہاں سے شروع کریں گھر کی صفائی ستھرائی،اہتمام اورخریداری بھی کرنی ہے تاکہ رمضان میں اچھی طرح سے عبادات ہوسکیں۔

استاد جی بولے بچہ جی!

اس بار گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی صفائی بھی کرتے جاؤ ،اتنا رحمتوں بھرا مہینہ ہے،اتنے میلے کچیلے گناہوں سے آلودہ دل کے ساتھ روزے رکھو گے تو رمضان کا مقصد کبھی بھی نہیں پا سکوگے؟ بات اتنی مشکل تو نہیں تھی مگر اتنی آسان بھی نہ تھی میں نے پوچھا گھر کی صفائی تو سمجھ میں آتی ہے مگر دل کی صفائی کیسے کروں؟ استاد جی بولے! بہت آسان ہے اگر تمہارے دل میں کسی کے لیے ذرا سی بھی نفرت ہے اس کوختم کردو۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر جلن محسوس ہوتی ہو تو اللہ سے توبہ کرو اور اس

پررشک کرو۔کسی بہن بھائی عزیز نے تمہارا دل توڑا، تمہاری حق تلفی کی ہے تو اسے معاف کردو۔ ناراض بہن بھائیوں میں صلح کرادو، ایک دوسرے کی غیبت کرنا چھوڑدو، اگر تم نے کسی کا دل دکھایا ہے تواس کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو۔بات بات پرجھوٹ بولنے کی عادت ہو تو رمضان سے پہلے اس عادت کو ختم کرے۔ لوگوں کی کامیابی میں روڑے اٹکانا چھوڑ دو، دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھو۔ بات بات پرلڑنے کی عادی ہو تواپنے لہجے میں نرمی اور مٹھاس پیدا کرلو۔ جب اپنی الماریاں صاف کرنے لگو تو ضرورت سے زائد کپڑے نکال کر کسی ضرورت مند کو دے دو۔

استاد جی ذرا توقف کے بعد بولے اسی طرح اپنے مال کو بھی صاف کر سکتے ہو! بازار خریداری کرنے جاؤ تو اپنے بچوں کے کپڑوں کے ساتھ ایک جوڑا ملازم کے بچوں کا بھی لے لو۔ راشن خریدو تو کچھ ضرورت کا سامان کسی ضرورت مند کو بھی دے دو۔

اپنے اردگرد ان لوگوں پر نظردوڑاؤ جن کی غیرت ا نہیں کسی کے آگے پاتھ نہیں پھیلانے دیتی۔ ان کی خاموشی سے مدد کرو تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

بہت سے کام ایسے ہیں جن پر پیسے نہیں لگتے مگر وہ دگنا منافع دے جاتے ہیں اسلیے تم جہاں تک ہو سکے دوسروں میں خیر اورآسانیاں بانٹو۔

کوئی بیمار ہو تو اس کے پاس جا کر بیٹھ جایا کرو اس سے اچھی اچھی باتیں کرو اس کا حوصلہ بڑھے گا تو یہ نیکی کروڑوں خرچ کرنے سے بہتر ہے۔

کسی غریب کے بچے کو پڑھنے میں مدد کردیا کرو،کسی بچی کا رشتہ نہیں ہو رہا اس کے لیے کوشش کرلو۔کسی کو ملازمت نہیں مل رہی اس کے لیے روزگار کا انتظام کروادواورکچھ نہیں تو کسی دکھی انسان کے پاس بیٹھ کراس کی داستان سن لو تاکہ اس کے دل کو بوجھ ہلکا ہو سکے۔

ڈاکٹر ہو تو کسی مستحق کا مفت علاج کردو اس کو خواری سے بچا لو اگر تم استاد ہو تو بچوں کی اچھی تربیت کرلوجس مضمون میں وہ کمزور ہے اس کی مدد کردو۔دکاندار ہو تو خالص مال بیچو اورجائز منافع لو۔ اگر کوئی غریب دکان پر آجائے تو اسے بغیر منافع کمائے ہی چیز بیچ دو،اس کا منافع اللہ دے گا۔منصف ہو توامیرغریب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرو۔اگر حاکم ہو تورمضان سے پہلے عوام کو ہرممکن سہولت دو تاکہ وہ اس ماہ مبارک کا لطف اٹھا سکیں۔ غرضیکہ ہزاروں طریقے ہیں دل کو صاف کرنے، روح کو پاک کرنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کے جو ہم رمضان سے پہلے کرسکتے ہیں۔

مزہ تو تب ہے کہ اس ماہ مبارک میں نہ کوئی بھوکا نہ رہے نہ بے لباس۔ امیرغریب سب عید منائیں اوریہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم سب کواپنا اپنا کردارادا کرنا ہے۔انہی کاموں کے ساتھ اپنے ضروری کام بھی نمٹاتے جائیں وہ بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔

دل اور گھر کی صفائی کے بعد ضروری ہے کہ ماہ صیام کی آمد سے پہلے اس کی فضیلت اورمقصد کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں۔کچھ اہداف سامنے رکھ لیں پھران کوحاصل کرنے کی ہر ممکن سعی کریں۔

سب سے پہلے اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں جو روزہ کا اصل مقصد ہے۔حقوق اللہ سے متعلق امور کی فہرست بنا لیں۔ عبادات نماز،روزہ،تراویح،شب بیداری قرآن مجید کی تلاوت ترجمہ وغیرہ۔ روزے رکھنے کی تھوڑی بہت عادت شعبان میں ہی ڈال لینی چاہیے۔ جبکہ اسی مہینے سے قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کا معمول بنالیں۔ اس بات کی نیت کرلیں کہ رمضان میں ایک بارپورے قرآن کا ترجمے کے ساتھ اعادہ کرناہے اگر آپ کے آس پاس کوئی دورہ قرآن ہو رہا ہو تو اس میں ضرورشریک ہوں۔۔ اس رمضان توبہ کا خصوصی اہتمام کریں اس سے رب اور انسان کے درمیان فاصلہ ختم ہوتا ہے۔

حقوق العباد سے متعلق معمولات کی بھی فہرست بنالیں جورمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں۔جس میں سب سے اہم غربا پروری اوردوسروں کا احساس ہے۔ رمضان سے پہلے ہی زکوٰة،صدقات مستحق لوگوں تک پہنچا دیں۔ رمضان میں کوشش کریں کہ عزیز واقارب کے ساتھ غربا کوبھی افطار کرائیں۔

الغرض رمضان کونیکیوں کا موسم بہار کہیے، روح کی آکسیجن کا خزانہ یا پھر ہیرے جواہرات کی کان جسمیں آپ کو ایک ماہ کے لیے بھیجا جاتا ہے کہ جاؤاوراپنے تقویٰ اورعبادت سے زیادہ سے زیادہ ہیرے چن لو۔لیکن یاد رہے شعبان میں نیکیوں کے بیج ڈالیں گے تو رمضان میں یہ کھیت لہلہائے گا۔ اگراس کھیت کو رمضان کے بعد بھی ہرا بھرا رکھنا ہے تو کوشش کرنا کہ ظاہر باطن ایک ماہ کے لیے نہیں بلکہ سال بھر کے لیے تبدیل ہوجائے۔


ای پیپر