رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
26 اپریل 2019 2019-04-26

چند دنوں بعد رحمتوں اور برکتوں کا ماہ مبارک ایک بار پھر ہم گنہ گاروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے ۔ ہر سال کی طرح اس برس بھی یہ آئے گا اورگزر جائے گا ۔ فضیلتوں کے اس مہینے کی مبارک ساعتیں ،رحمت ،مغفرت اور نار جہنم سے نجات کے عشرے،لیلتہ القدر کی گھڑیاں اور طاق راتوںکا انتظار واہتمام ہوگا ، اورپھروہی کوتاہ اندیش مسلمان ہوں گے اور زندگی کی تلخ حقیقتیں۔۔۔۔ رمضان المبارک ہر سال آتا ہے اور دنیا کے دو ارب مسلمان اپنے اپنے انداز میں اس کا استقبال کرتے ہیں، کروڑوں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔ مساجد نمازیوں سے بھرجاتی ہیں، نوافل اور تلاوت قرآن کی مقدار کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس ماہ مبارک میں مسلمان اربوں کھربوں روپے کی زکو نکالتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ مقدار میں صدقات و خیرات کرتے ہیں، جنہیں اللہ نے توفیق او استطاعت دی ہے، وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کیلئے سحر و افطار کا بندوست کرتے ہیں۔ لاکھوں افراد عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعداد اعتکاف کرنے والوں کی ہوتی ہے۔ ویسے اگر اس ماہ مبارک میں کسی ایک شہر کے تمام بالغ مرد فرض نماز کے لیے نکل آئیں تو اس شہر کی تمام سڑکیں بلاک ہوجا ئیںلیکن ایسا نہیں ہوتا۔لیکن اس ماہ مبارک میں مجموعی طور پر مسلمانوں کے دل نرم اورنیکی کی طرف راغب ہوجاتے ہیں کہ پورا ماحول اللہ سے تعلق اور اس کی رحمت و مغفرت کا طلب گار ہوتا ہے۔ دعاوں میں رقت اور رویوں میں کچھ نرمی بھی آجاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کی اجتماعی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ عبادات، صدقات وخیرات، توبہ واستغفار اور ذکر وازکار میں کئی گنااضافے کے باوجود ہم وہیں کھڑے پائے جاتے ہیں جہاں رمضان سے پہلے تھے۔ آج دنیا بھر کے مسلمان بے حال ہیں، غربت، بیماری، پسماندگی کے علاوہ تعلیم اور ترقی سے دوری اسی طرح برقرار ہے۔ کیونکہ روزے نماز کے ساتھ ساتھ ہم گرانی، ذخیرہ اندوزی، جھوٹ، فریب، ایک دوسرے کا حق مارنے بلکہ لوٹ مار کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں۔ چنانچہ اتنی عبادات بھی ہمارے ذاتی اور اجتماعی رویوں کو مکمل طور پرتبدیل نہیں کرتیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عبادات کی روح کو نہیں سمجھ سکے

یا ان کی روح اور منشا کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کو تیار نہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ روزہ نماز اور خیرات و صدقات کے بعد ہم کاروبار، تجارت، ملازمت، تعلقات، بین الاقوامی امور ،صحت اور تعلیم سمیت ہر شعبہ اور معاملے میںآزاد ہوچکے ہیں ۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم روزے کی حالت میں بھی سودی لین دین کرتے ہیں۔کسی کا حق مار کر عمرے پر چلے جاتے ہیں۔ صدقات کرتے ہوئے گرانی وذخیرہ اندوزی بھی جاری رکھتے ہیں۔ ٹیکس چوری کرکے فلاحی اداروں کو عطیات اورملازمین کی تنخواہیں روک کو مساجد کو چندے دیتے ہیں۔ کمزور اور نادار رشتہ داروں کو دھتکار کر اپنے گھر کے سامنے غریبوں اور محتاجوں کی قطاریں بنوا کر ان میں خیرات تقسیم کرتے ہیں۔ کمیشن کے پیسوں اور رشوت کی رقم سے اجتماعی افطاریاں اور رمضان دستر خوان سجاتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ اسی طرح کے نتائج پیدا کرسکتا ہے اور یہی رویہ جاری رہا تو نتائج بھی یہی نکلتے رہیں گے۔

اور اب تور مضان، افطار کا نام ہو کر رہ گیا ہے۔خواتین سارا وقت افطار کی تیاری میں لگادیتی ہیں حالانکہ یہ قیمتی لمحات اللہ سے لو لگانے کے ہیں۔ سیاسی جماعتیں، سماجی تنظیمیں کاروباری وتجارتی انجمنیں حتی کہ عطیات و صدقات پر چلنے والے فلاحی ادارے بھی بڑھ بڑھ کر افطار پارٹیاں کرتے ہیں۔ ان افطار پارٹیوں میں جو ہڑبونگ مچتی ہے۔ جس طرح کی چھینا جھپٹی ہوتی ہے۔ وہ بھی سب جانتے ہیں۔ کئی جگہوں پر تو افطار سے پہلے ہی لوگ افطاری پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان افطار پارٹیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرنے والوں کو دنیا بھر کے بے بس مسلمان یاد نہیں آتے۔

بڑی بڑی افطار پارٹیاں کرنے والوںمیں سے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اپنی افطار پارٹی منسوخ کرکے یہ رقم دنیا کے ان بے کس مسلمانوں کو بھجوا دیں جن پر اللہ کی زمین ہی نہیں، سمندر کی وسعتیں بھی تنگ کردی گئی ہیں۔ ان کے جسم پر کپڑا ہے نہ پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے کھانا۔ وہ تو شاید سادہ پانی سے ہی سحر وافطار کرتے ہوں گے، ان بے سہارا مسلمانوں کے بارے میں قیامت کے روز ہم سے بھی سوال کیا جائے گا۔ہمیں آگ ،بارود اور موت تقسیم کرتی ہوئی بمباری میں سانس لیتے ہوئے شامی مسلمان یاد ہیں نہ فلسطین میںکمسن بچوں کی لاشےں اٹھائی ہوئی مائیں۔ ہمیں تو شاید کشمیر میں جوان بھائیوں کے جنازوں پر بین کرتی ہوئی کشمیری بہنیں بھی یادنہیں رہیں۔

اس وقت صرف شام ، برما، یمن، افغانستان، فلسطین اور کشمیر کے مسلمان ہی مصائب میں گھرے ہوئے نہیں، خود پاکستان کے عوام بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں آگ اوربارود کا کھیل جاری ہے اور فاٹا اورشمالی علاقہ جات کے عوام دہشتگردی کے خوف کا شکار ہیں۔ لیکن ہم شاید انہیں بھول کر رمضان شوز سے انعامات اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ کمپنیاں جو ان شوز میں کروڑوں روپے کے انعامات بلاوجہ تقسیم کررہی ہیں، ان میں سے کسی کو بلوچستان،فاٹا، اورشمالی علاقہ جات میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے لوگوں کیلئے سحری وافطاری کا بندوبست کرنے کا خیال آیا اور نہ برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے ان کے دلوں میں کوئی ہوک اٹھی۔

گزشتہ چند سال سے ٹی وی چینلز کے رمضان شوزمیں ایک نئی روایت شروع ہوئی ہے، جس میں اچھل کود اور تمسخر و استہزا کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چند ایکٹرز مسخروں کے انداز میں یہ پروگرام کرتے ہیں اور ہزاروں لوگ بھک منگوں کی طرح انعامات پر چھینا جھپٹی کر رہے ہوتے ہیں، ان پروگراموں میں چند دینی سوالات کے بعد حاضرین کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا انہیں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتو ہے ۔

قارئین ہماری اس انفرادی اور اجتماعی بے حسی اور بے روح اعمال سے صرف وقتی تبدیلی ہی آسکتی ہے کہ ہم رمضان میں سروں پر ٹوپیاں اور ہاتھوں میں تسبیح پکڑ لیتے ہیں۔ مگر جیسے ہی یہ ماہ مبارک مکمل ہوتا ہے اور رحمتوں اور برکتوں کے اس ماحول کی جگہ معمول کی زندگی لیتی ہے، ہم تسبیح چھوڑ کر ایک بار پھر چھریاں سنبھال لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو ذبح کرنے میں پہلے کی طرح مصروف ہوجاتے ہیں، وہی سودی کاروبار، وہی گرانی،وہی ذخیرہ اندوزی، وہی سیاسی لوٹ مار اور وہی معاشی استحصال دوبارہ شروع ہوجاتا ہے، عید کے چنددنوں بعد ہی وہ سب کچھ ہونے لگتاہے جورمضان میںتھوڑا بہت رک گیا ہوتا ہے،کاش ہم غور کریں اور روزے کی مشق کے ساتھ اپنے اندر وہ تبدیلی لے آئیں جو ہمارے مالک و خالق کا منشا ہے،

قارئین!روزہ اللہ کے احکامات کے سامنے مکمل سرنڈر کرنے کا نام ہے۔ اگر ہم روزے میں بھی اپنی اناوں کے ساتھ ظاہری نمود و نمائش میں مصروف رہے تو ہماری انفرادی اوراجتماعی زندگیوں میں کوئی تبدیلی آئے گی، نہ امت مسلمہ کے مصائب کم ہونگے۔کاش ہم سب اس نکتے پر غور کر سکیں


ای پیپر