سعودی عرب سے پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری
26 اپریل 2019 (17:49) 2019-04-26

اسلام آباد:قومی اسمبلی کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب سے 2106 پاکستانی قیدی رمضان کے وسط تک رہا ہو جائیں گے،جلد ایران سے بھی معمولی جرائم میں ملوث پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی ہوگی.

افغانستان میں قید پاکستانیوں کی رہائی کیلئے بات چیت جاری ہے، دنیا بھر میں 96لاکھ پاکستانی موجود ہیں،مختلف ممالک میں پاکستانیوں کی اکثریت سنگین نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہے، سعودی عرب میں 73فیصد پاکستانی انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہیں جبکہ صرف27فیصد پاکستانی معمولی نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہیں۔ان خیالات کا اظہار جمعہ کو قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایا کہ بیرون ملک سے قیدیوں کو واپس لانا، فوت شدہ افراد کی میتیں وطن واپس لانا، زائد المدت قیام کے حامل لوگوں کی وطن واپسی ہماری ترجیحات میں ہے۔

بیرون ملک مقیم قیدیوں کا معاملہ اہم ہے تاہم وزارت خارجہ امور اور اوورسیز پاکستانیز مل کر اس پر کام کر رہے ہیں۔ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ان سے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کےلئے بات کی تھی۔ سعودی عرب میں 73فیصد پاکستانی انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہیں جبکہ صرف27فیصد قید پاکستانی معمولی نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہیں،اب خوشخبری یہ ہے کہ سعودی عرب سے 2106 قیدی رمضان کے وسط تک رہا ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے بھی بات ہوئی ہے وہ بھی معمولی جرائم میں ملوث گرفتار قیدیوں کو رہا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 96لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ ان میں سے گرفتار پاکستانیوں میں سے گلف یا دیگر ممالک میں موجود قیدیوں کی ایک بڑی تعداد انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں گرفتار ہے۔ بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کو قونصل رسائی کے ساتھ ساتھ ان کی فیملیوں کے ساتھ بھی رابطے میں رکھنے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ افغانستان میں بھی معمولی جرائم میں ملوث افراد کی رہائی کے لئے کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت اوورسیز پاکستانیز میں ایک پورٹل بنایا گیا ہے۔ یہاں پر کسی بھی بیرون ملک مقیم پاکستانی کے حوالے سے معلومات لی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بین الوزارتی کمیٹی بھی موجود ہے جو اس معاملے پر اقدامات اٹھاتی ہے۔


ای پیپر