غیر موثر ٹیکس سسٹم اور پاکستانی معیشت
26 اپریل 2019 (00:30) 2019-04-26

موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس کا پرانا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا: تجزیاتی رپورٹ

’’چوہدری فرخ شہزاد‘‘

کہتے ہیں کہ ٹیکس ادا کر کے آپ معاشی طور پر اُوپر اُٹھتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک آدمی جو بالٹی کے اندر کھڑا ہے وہ اپنے آپ کو اُوپر اُٹھانے کے لیے اس بالٹی کا ہینڈل پکڑ کر اسے اُوپر کی جانب اٹھانے کی تگ ودو کرتا ہے۔ یہ الفاظ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کے ہیں جو انہوں نے 100سال پہلے برطانوی ٹیکس نظام میں اصلاحات کے لیے کہے تھے۔ امریکہ کے مشہور جج جان مارشل نے ٹیکس کے ایک مقدمے میں امریکی دانشور ڈینئل ویبسٹر (Daniel Webster) کا مشہور قول نقل کیا کہ ”The power to tax is the power to destroy“ یعنی ” ٹیکس لگانے کا اختیار دراصل عوام کو تباہ کرنے کا اختیار ہے“۔ یہ مقدمہ 1819ءکا ہے۔ امریکہ میں آزادی حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ برطانوی بادشاہ جارج کے لگائے ہوئے ظالمانہ ٹیکس تھے، یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد امریکہ میں ٹیکس جمع کرنے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں تھا۔ امریکی ریاستوں کو کہا گیا تھا کہ وہ سالانہ ایک مخصوص رقم فیڈریشن کو ادا کیا کریں۔

ٹیکس دو طرح کا ہوتا ہے۔ پہلی قسم تو ڈائریکٹ ٹیکس ہے جس میں آپ کسی شہری یا کاروباری ادارے سے اس کی ذاتی آمدنی کے حساب سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ یہ ایک جائز اور قانونی طریقہ ہے لیکن اس ٹیکس کے زمرے میں عام طور پر خوشحال، طاقتور اور مراعات یافتہ طبقے آتے ہیں۔ وہ ٹیکس حکام پر اثرانداز ہو جاتے ہیں جس کی بہت سے شکلیں ہوتی ہیں۔ دوسری قسم Indirect tax یا بالواسطہ ٹیکس کی ہے جو کہ ٹیکس کی ظالمانہ ترین شکل ہے۔ یہ ٹیکس امیروں کی بجائے غریبوں پر لاگو ہو جاتا ہے جس سے غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ ٹیکس ریونیو میں ڈائریکٹ ٹیکس مجموعی ٹیکس کا 20 فیصد ہے جبکہ باقی 80 فیصد غریب عوام کا خون نچوڑ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ٹیکس جمع کرنے کا نظام انتہائی پیچیدہ اور فرسودہ ہے جس میں ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس چوری اور رشوت ایک انڈسٹری کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوئی ریاست جتنی زیادہ کرپٹ ہوتی ہے وہاں قوانین کی بھرمار اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ اس محاورہ کو اگر ہم اپنے ٹیکس لاز کے تناظر میں دیکھیں تو صورتحال واضح نظر آنے لگتی ہے۔ اِن ڈائریکٹ ٹیکس اس وقت لگایا جاتا ہے جب آپ اصل ٹیکس دھندگان سے مطلوبہ وصولی کرنے میں ناکام رہتے ہیں مگر آپ نے اپنا سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنا ہوتا ہے لہٰذا حکومت کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ یہ پیسہ کہاں سے وصول کیا جارہا ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ ڈاکوﺅں کا ایک مسلح گروہ ناکہ لگا کر ہر گزرنے والے راہگیر کی جیب سے جتنے پیسے ہیں وہ گن پوائنٹ پر چھین لیے جائیں، یہی ہمارا ٹیکس نظام ہے، یہی ہماری ٹیکس پالیسی ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ پاکستان میں موبائل فون کو عام ہوئے 20 سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ حکومت نے موبائل فون کے استعمال پر ٹیکس لگا دیا جو بڑھتے بڑھتے 30 فیصد تک پہنچ گیا جو دُنیا کی ٹیکس لاگو کرنے کی بلندترین شرح تھی۔ عوام لٹتے رہے پھر بھی قافلہ چلتا رہا۔ اس کہانی کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ صارفین سے ٹیکس کٹوتی کی رقم چونکہ موبائل کمپنیوں کے پاس جاتی تھی انہوں نے ٹیکس حکام کے ساتھ ملی بھگت کر کے اس میں اربوں کھربوں روپے ناجائز کما لیے، بالآخر سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ عوام کو وہ پیسہ واپس کروایا جاتا مگر عوام اتنے میں ہی خاموش ہو گئے کہ اب اس جگاٹیکس سے انہیں نجات دلا دی گئی ہے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم ٹیکس ریونیو کو 4000 ارب سے 8000 ارب یعنی دوگنا کردیں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کرشمہ کیسے کریں گے تو انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کو کر کے دکھاﺅں گا۔ اطلاعات ہیں کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس کا پرانا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا۔ پچھلے 6 ماہ میں 2000 ارب روپے کی بجائے صرف 1750ارب حاصل ہو سکے۔ اب حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ نیا FBR لے کر آئیں گے۔ ہمارا خدشہ یہ ہے کہ نئے سسٹم یا نئے چہروں کے لانے سے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کے نفاذ کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اُتریں گے۔ ٹیکس قوانین میں اصلاحات اس وقت حکومت کا اوّلین ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک میں آپ مہران گاڑی خریدنے جائیں تو FBR سے فون آجاتا ہے کہ پیسہ کہاں سے لیا ہے مگر فالودے والا، تندوروالا، ویلڈنگ والا اور رکشہ والا کے نام پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ہو جاتی ہے مگر FBR کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی، کئی سال بعد جا کر پتہ چلتا ہے جب ملک لُٹ چکا ہوتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت 45 سے زیادہ قسم کے ٹیکس ہیں جو عوام کو دینا پڑتے ہیں۔ اس میں خیرات، زکوٰة اور صدقات شامل نہیں ہیں مگر اس کے باوجود ٹیکس ملکی خزانے میں جانے کی بجائے ٹیکس چوروں اور ٹیکس اہلکاروں کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ ٹیکس چوری پر سزائیں نہیں ہوتیں، ٹیکس عملہ خود بدعنوانی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ سرکاری افسران آخر کیوں ٹیکس کے محکمہ میں آنے کے لیے سفارشیں اور رشوت دیتے ہیں۔

پاکستان میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 18لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 1.4فیصد ہے جنہیں ٹیکس فائلرز کہا جاتا ہے۔ حکومت فائلرز کی تعداد میں یعنی Tax Base میں اضافہ کرنے کی بجائے انہی ٹیکس دہندگان کو مزید تنگ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی خزانے کو فائلر کی بجائے نان فائلر کی جانب سے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں زیادہ وصولی ہوتی ہے مگر وہ ناانصافی کی بنیاد ہے۔ اس سے ملک میں غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

ٹیکس نہ دینے کی سوچ کے پس منظر میں یہ عوامی رائے بڑی مضبوط ہے کہ ہمارے ٹیکس کا پیسہ ملک پر خرچ ہونے کی بجائے حکمرانوں کی جیبوں میں جا رہا ہے اور اس سے ملک سے باہر ذاتی جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں تو شہری ٹیکس چوری کے عادی ہو جاتے ہیں اور ٹیکس چوری کر کے ایک قدرتی اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے چوری شدہ ٹیکس کا کچھ حصہ ٹیکس اہلکاروں کو دینے پر تیار ہو جاتے ہیں، اس کرپشن زدہ نظام میں سیاستدانوں کے بعد سب سے زیادہ فائدہ ٹیکس جمع کرنے پر مامور اہلکاروں کو ہو رہا ہے۔

پاکستان سے باہر سرمائے کی منتقلی کے پیچھے بھی یہی بدنیتی کارفرما ہے کہ ناجائز ذرائع پر ٹیکس نہ ادا کیا جائے حالانکہ یہی عناصر بیرون ملک سرمایہ کاری کر کے وہاں بڑی شرافت سے ٹیکس دیتے ہیں مگر اپنے وطن عزیز پر ترس نہیں کھاتے۔ ملک میں منصفانہ بنیادوں پر ٹیکس کلچر کے فروغ کی ضرورت ہے جس کا اطلاق Top Down سطح پر ہونا چاہیے یعنی اس کا آغاز اُوپر سے نیچے کی جانب کیا جائے۔

رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی منافع مافیا متحرک ہو چکا ہے۔ دوسرے ملکوں میں ماہ صیام مسلمانوں کو اللہ سے نزدیک کرتا ہے مگر ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر شخص دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ہر شخص بیک وقت ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی کیونکہ ایک طرف وہ دوسرے کا حق مارتا ہے جبکہ دوسری طرف سے وہ خود بھی کسی اور کے ظلم کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر گھناﺅنے جرائم کے حوالے سے لاقانونیت کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر عملاً آپ دیکھیں تو مہنگائی سے بڑھ کر کوئی لاقانونیت نہیں ہے۔ ہر شخص روزمرہ لین دین میں اپنی اپنی اشیاءکی منہ مانگی قیمت وصول کر رہا ہے مگر اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ اس لاقانونیت کا سب سے پہلا شکار غریب اور بے آواز طبقہ ہے۔ مہنگائی نے ان سے تن کے کپڑے بھی کھینچ لیے ہیں مگر حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔ عوام لٹ رہے ہیں، پس رہے ہیں جبکہ مافیا صورتحال سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور راتوں رات قیمتیں بڑھا کر لاکھوں لگاﺅ اور کروڑوں کماﺅ کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح بے لگام حد تک زیادہ ہے اور 90 فیصد مہنگائی کا تعلق پٹرول کی قیمت یا ڈالر کی شرح مبادلہ سے نہیں بلکہ غیراخلاقی غیرقانونی مجرمانہ اور من مانی قیمتوں کے اضافے کے ساتھ ہے جس کی ساری کی ساری ذمہ داری حکومت کی ہے۔ اگر ناجائز گراں فروشی پر سزائیں دی جائیں تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے مگر مہنگائی کے معاملے میں حکومت مکمل طور پر بے بس بلکہ منظر سے غائب ہے۔

کچھ عرصہ پہلے مجھے اندرون سندھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ہائی وے پر جگہ جگہ غریب کسان اپنی سبزیاں سڑک پر رکھ کر فروخت کر رہے تھے۔ جب ٹماٹر کی قیمت پنجاب میں 100روپے کلو تھی تو وہاں ٹماٹر 15 سے 20 روپے کلو بک رہے تھے اسی طرح سندھ میں آم 40 روپے کلو تھے جبکہ پنجاب کی ریڑھیوں پر اس کا ریٹ 80 سے 100 روپے تھا۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جب اجناس اور سبزیاں اتنی مہنگ ہو چکی ہیں تو کاشتکار طبقہ تو بہت امیر ہو چکے ہوں گے۔ ہرگز نہیں ان کی حالت پہلے سے بدتر ہے۔ سارا منافع مڈل مین، ٹرانسپورٹر، آڑھتی، منتھلیلینے والے حکومتی اہلکاروں اور بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایک طرف عوام دوگنا قیمت پر خریداری کرتے ہیں مگر پھل اور سبزیاں پیدا کرنے والا کسان پھر بھی پہلے سے زیادہ بھوکا ننگا رہتا ہے۔یہ ظلم کا نظام کیسے اور کتنی دیر تک چلے گا۔

مہنگائی کنٹرول کرنے پر بات کرنے سے پہلے یہ ذہن نشین رکھیں کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن بنا تو انہوں نے خود رشوت لینا شروع کر دی۔ اس صورتحال میں ایف آئی اے وجود میں آیا جب وہ بھی اینٹی کرپشن ثابت ہوا تو قومی احتساب بیورو بنا دیا گیا یعنی جیسا کہ شروع میں عرض کیا ہے کہ نگران بڑھتے گئے مگر بدعنوانی بھی ساتھ ساتھ اسی رفتار سے بڑھتی گئی۔ بالکل اسی طرح حکومت نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ ضلعی حکومتیں کام کرائیں، روزانہ اے سی اور ڈی سی چھاپے مارتے ہیں مگر نہ ملاوٹ کنٹرول ہوتی ہے نہ چوربازاری۔ یہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ مہنگائی کا بیوروکریسی کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ سے کیا تعلق ہے۔ اندرون خانہ تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو لوگ پیسے دے کر تعینات ہوتے ہیں، انہوں نے اپنا خرچہ اسی طرح پورا کرنا ہوتا ہے۔ کرپشن کا ایک متوازی ریاستی نظام ہے جو رواں دواں ہے۔ کوئی پارٹی ہو، کوئی حکومت ہو یہ اسی طرح چلتا رہتا ہے جو اس وقت بھی چل رہا ہے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پنجاب میں کنزیومر پروٹیکشن عدالتیں کام کر رہی ہیں جو صارفین کے حقوق کے تحفظ کی ضامن ہیں مگر وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مہنگائی روکنے سے کوئی تعلق نہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آصف زرداری پاکستان کے صدر تے۔ ان کی پارٹی برسراقتدار تھی، ان سے مہنگائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے، یہ ریکارڈ کی بات ہے۔ شاید یہ ان کے منہ سے نکل گیا تھا مگر تحریک انصاف کی حکومت میں بے قابو مہنگائی کے پس منظر میں یہ بات بھی سنائی دے رہی ہے کہ عمران خان مولی گاجر سستی بیچنے کے لیے نہیں آئے بلکہ لوٹا ہوا مال واپس کروانے آئے ہیں، اگر یہ مہنگائی کا جواز ہے تو میرے خیال میں یہ آصف زرداری کے بیان سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔

مہنگائی دعائیں مانگنے یا بدعائیں دینے سے ختم ہو جائے تو پھر حکومت کی کیا ضرورت ہے۔ خدا کا خوف مجرموں کو جرم سے روکنے کے لیے کافی ہوتا تو پھر حکومتیں اور عدالتیں غیرضروری ہو جاتیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا شخص اگر 100دن غلے کو فروخت کرنے سے روکے رکھے تاکہ قیمت بڑھ جائے تو وہ اگر سارے کا سارا مال خیرات کر دے تو بھی اس کا قصور معاف نہیں ہو گا۔ یہ ریاست مدینہ کی مثال دینے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر