Photo Credit Naibaat Mag

دنیا پر آئندہ حکمرانی عورت کی ہو گی !
26 اپریل 2018 (23:38) 2018-04-26

سدرہ ڈار:دوراب بدل رہا ہے اورسوچنے کا انداز بھی، ہم یہ جان چکے ہیں کہ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے توفرسودہ روایات سے نکل کر ہمیں وہ سب کرنا ہوگا جو ہماری زیست کوآسان بنائے اور ہمیں ترقی کی راہ پرگامزن کرسکے۔ آج سے کئی دہائیاں قبل جب ہمیں کوئی عورت ملازمت کرتے دکھائی دیتی تو ہمیں بہت حیرت ہوتی تھی۔ اس وقت ہمارے نزدیک عورت یا توٹیچربن سکتی تھی یا نرس، یا پھرڈاکٹر لیکن اس سے آگے کا ہم سوچنے سے پہلے ہی گھبرا جاتے تھے۔

مغرب میں توعورتوں نے ہر میدان میں قدم جمالئے ہیںلیکن مشرق میں آج بھی خواتین کے لئے مسائل موجود ہیںگوکہ ہمارے ہاں اب عورتیں کون سا ایسا شعبہ ہوگا جس میں کام نہیں کر رہیں لیکن قابل ستائش ہیں وہ خواتین اور ان کے گھرانے جنھوں نے آج سے پانچ سے چھ دہائیاں قبل اپنی بیٹیوں کو نہ صرف ہوا بازبنایا بلکہ انجینئر بھی، سائنسدان بنایا اور ٹی وی کا پروڈیوسر بھی۔ یقینا اس دور میں بھی ان خواتین کو مسائل کا سامنا رہا ہوگا لیکن اپنی ثابت قدمی سے انھوں نے خودکونہ صرف منوایا بلکہ اوروں کے لئے مثال بھی بن گئیں۔


آج کی خواتین افواج میں شمولیت کے ساتھ ساتھ صحافت، سیاست، عدل، طب، سائنس، ٹیکنالوجی کے علاوہ بھی دیگرشعبوں میں بھی اپنا آپ منواتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جامعات میں اب لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ تعداد میں دکھائی دیتی ہیں اورقابلیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تواس میں بھی ہر سال خواتین کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ لیکن اس تمام ترکامیابیوں کے ساتھ ساتھ اب بھی ہمارے ملک میں کام کرنے والی خواتین کو مسائل کا سامنا ہے۔ جی ہاں آج بھی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خواتین مردوں کے ساتھ ملکی تعمیر و ترقی کےلئے اہم اور مثبت کردار ادا کرنے کا عزم لے کر اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ،جن میں بہت سی ایسی بھی ہوتی ہیں جو گھریلو مجبوریوں اور مسائل کے باعث گھر سے قدم گھر سے باہر نکالنے پر مجبور ہوتی ہیں لیکن اس معاشرے میں انسانوں کے روپ میں ایسے بے شمار درندے بھی موجود ہیں جو ان کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھا کر اپنے مذموم مقاسد حاصل کرنے کی گھِناﺅنی کوشش کرتے ہیں ،افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ یہ درندے جاہل ،ان پڑھ اور زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے افراد نہیں ہیں جو معاشرتی اقدارو روایات اور اخلاقیات سے بالکل عاری ہیں بلکہ یہ ہمارے ہی معاشرے کا حصہ اور اعلی تعلیم یافتہ افراد ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ گھر اور تعلیمی اداروں میں اِنہیں اخلاقیات کی ویسی تعلیم نہیں دی جا رہی ،جیسی آج سے چند برس یا دہائیاں قبل دی جاتی تھی۔آپ تحقیق کر کے دیکھ لیں اُن دنوں مردخواتین کو خاص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے،آج بھی اس حوالے سے آوے کا آوا نہیں بگڑا بلکہ اعلیٰ و ارفع کردار والدین کی اولاد آج بھی روشن مینار بن کر نہ صرف اپنے ماں باپ کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ یہ دین اسلام کی اعلیٰ روایات اور اخلاقیات کا عملی نمونہ بھی بنا دکھائی دیتے ہیں۔رہی بات خواتین کو اپنے لئے کھلونا بنانے اوراُنہیں مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ان کے خلاف باشعور عوام اور انسانی و خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں گاہے بگاہے آواز بلند کرتی رہتی ہیں،جس کی مثال کچھ یوں پیش کی جا سکتی ہے، انسانی حقوق اور خواتین کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے کام کی جگہ پر عورتوں کو ہراساں کرنے کے خلاف باقاعدہ قانون سازی کے لیے لابنگ شروع کی اور ان کی جدوجہد کے نتیجے میںیہ قانون بن تو چکا ہے لیکن اب اس پر پوری طرح عمل درآمد کرانا حکومت اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قانون سازی عورتوں کے مسائل کے حل کا صرف ایک حصہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی رویوں کی تبدیلی اور اقتصادی منصوبہ سازی اور میڈیا میں عورتوں کے کردار کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے اس پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہم ایک طبقاتی نظام پر مبنی معاشرے میں رہتے ہیں ،جہاں عام لوگوں کو خواہ مرد ہو یا عورت بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اس لیے عورتوں کے حقوق کی بات کرنے کے ساتھ ہمیں معاشرے کی مجموعی ترقی کی بات کرنا ہوگی۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے عورت کو مرد کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، خواہ اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو ۔ جب کوئی لڑکی ملازمت کرنے نکلتی ہے تو سب سے پہلا مسئلہ گھر والوں کو راضی کرنا ہوتا ہے، گھر والوں کی عام طور پر یہی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی جلد سے جلد شادی ہوجائے ، بعض صورتوں میں گھر والے تو نوکری کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن جب رشتہ آتا ہے تو سسرال والے یہ شرط رکھ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی کو ملازمت چھوڑنا ہوگی۔


ملازمت پیشہ خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہے۔ بدقسمتی سے ہماری کوئی بھی حکومت ابھی تک عوام کے لیے ایک معیاری پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں بناسکی ۔ مرد بھی بسوں میں لٹک اور چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں اور عورتوں کے لیے تو مشکل سے دو تین سیٹیں ہوتی ہیں۔ ڈرائیور گھٹیا گانے بلند آواز میں لگا دیتا ہے، کنڈیکٹر بھی کسی نہ کسی طرح ہراساں کرتا ہے۔ بعض مرد مسافر بھی عورتوں والے حصے سے چڑھنے یا اُترنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس ساری صورتحال سے نمٹ کر جب وہ دفتر پہنچتی ہے تو مرد کولیگز ایکسرے مشین کی طرح اپنی آنکھوں سے کام لیتے ہیں۔ کوئی ذو معنی جملے بولتا ہے، کوئی فضول لطیفے سنانا چاہتا ہے، بہرحال اب اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان میںملازمت کرنے کی جگہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف قانون بن گیا ہے۔اب ہر ادارے کو ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینا ہوگی جو اس ایکٹ کے تحت شکایات کی انکوائری کرے گی ، یہ کمیٹی تین اراکین پر مشتمل ہوگی جن میں سے کم ازکم ایک رکن عورت ہوگی۔اس حوالے سے ہم نے ان خواتین سے جو برسوں سے ملازمت پیشہ ہیں یا وہ جنھوں نے حال ہی میں عملی زندگی میں قدم رکھا کے سامنے کچھ سوالات رکھے کہ وہ ملازمت کرتے ہوئے کن کن مشکلات کا شکار ہیں؟ انھیں کیا چیلنجزدرپیش رہے؟ وہ کون لوگ ہیں یا طبقہ ہے جن کی جانب سے ان کے کام کرنے کو آج بھی تنقیدکی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ ان مسائل کاکیاحل سمجھتی ہیں؟


شمیم ممتاز، صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر
میں نے1996ءمیں سیاست میں قدم رکھا، اس سے قبل میں سماجی کاموں میں حصہ لیتی رہی جو آج بھی جاری ہے۔ مجھے اپنے گھرکی جانب سے کام کرنے کی ہمیشہ سپورٹ رہی لیکن جب میں نے باہرکے مردوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو ایک موقع پر مجھے ایک سیاسی جماعت کی جانب سے کہاگیا کہ کام کرنا ہے تو پہلے سیکھ کر آئیں۔ میں نے اس تنقیدکو مثبت لیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کے کام کرنے کے لئے ہر سطح پرمحنت کی کہ اگلی بار مجھے ایساکچھ سننا نہ پڑے۔ آج اتنے برسوں بعد مردوں کے اسی معاشرے میں مجھے احترام کی نظرسے اس لئے بھی دیکھا جاتا ہے کہ میں نے اپنے عورت ہونے کا فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اپنا آپ منوانے کے لئے بہت محنت کی ۔ خواتین کو جلائے جانے کے حساس معاملے کو اسمبلی میں اٹھایا، سیاسی سرگرمیاں ہوں یا سماجی مسائل.... ان پرکام کیا۔ چیلنجزکی جہاں تک بات ہے تو میں کہتی ہوں کہ مردوں کی نسبت عورت چارگنا زیادہ کام کرتی ہے اور وہ بھی معاوضے کے بغیر....کیونکہ باہرکام کرنے کی اجرت تو مل جاتی ہے لیکن گھرکی ذمہ داریوں کا معاوضہ وہ کبھی نہیں مانگتی۔گھرداری، شوہر، بچوں کا خیال، دفتری امور، لوگوں سے ملنا جلنا، بچوں کی تعلیم وتربیت، غمی خوشی وہ ان سب کا بوجھ اپنے کاندھوں پرڈالتی ہے اور روزانہ بس کام کرتی جاتی ہے، یہاں تک کہ اپنی ذات کو بھی نظراندازکر دیتی ہے۔ میں اتنا ضرورکہوں گی کہ عورت اگر عورت کی طرح رہے توکبھی بھی مرد اس کی تضحیک نہیں کرسکتا اورنہ ہی اسے تنگ کرسکتا ہے۔ مجھے کبھی مردوں کی طرف سے اتنے مسائل کا سامنا نہیں رہا، ہاں عورتوں کی جانب سے ضرور رہا جنھیں یہ خوف تھاکہ یہ ہم سے آگے نہ نکل جائے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ایک عورت کو اپنے آپ کومنوانے کے لئے محنت بہت کرنی پڑتی ہے اور مرد آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ عورت یہ نہیں کرسکتی.... وہ نہیں کرسکتی.... ایسے لوگوں کے لئے میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ” ہم عورتیں آپ سے آگے نہیں جانا چاہتی، نہ آپ کے پیچھے چلنا چاہتی ہیں، ہم توآپ کے برابرچلنا چاہتی ہیں۔ اسی فضاءمیں سانس لینا چاہتیں ہیں جس میں آپ سانس لے رہے ہیں۔ اسی طرح جینا چاہتی ہیں جوآپ اپنا حق سمجھتے ہیں“۔


عظمی الکریم، سربراہ برائے صنفی حساسیت، کراچی
سب سے پہلااعتراض جس کا سامناکرنا پڑتا ہے وہ یہ ہے ”کیا ضرورت ہے“؟ اس کا جواب دینا ایک لڑکی کے لئے انتہائی دشوارہوتا ہے۔ کیا ہم تمہارا خرچہ نہیں اٹھا سکتے،یاایسی کیا ضروریات ہیں جو ہم پوری نہیں کرپا رہے“؟ تنقید اور سوالوں کا یہ نہ رکنے والاسلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ لڑکی کام کا ارادہ ترک نہ کر دے۔ یا پھراُس کوضدی اوربعض معاملات میں نافرمان تک قرارنہ دے دیا جائے۔ اب بھی یہ تصورکیا جاتا ہے کہ اگرکوئی لڑکی کسی دفترمیں کام کرنا چاہتی ہے تواس کی وجہ آمدنی ہی ہوگی۔کیریئر، دنیا میں کوئی مقام حاصل کرنا اور اُن کی اپنی خود مختاری وغیری جیسی باتیں تواب بھی اکثرگھرانوںکو سمجھ ہی نہیں آتیں اورنہ ہی اس کو سراہا جاتا ہے۔ یہاں یہ سمجھنے کی شدید ضرورت ہے کہ نوکری صرف دولت کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس کابہت گہرا اثرسوچ کی وسعت، شعور، فہم و فراست، خود اعتمادی، بہتر فیصلہ کرنے کی قوت اوریقینی طور پرمعاشی خوش حالی پربھی پڑتا ہے۔ یقین جانئے! یہ سب گھرکے ماحول اور بچوں پر انتہائی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ مجھے اپنے والدین اور شوہرکی جانب سے ہمیشہ سپورٹ ملی لیکن مجھے سب سے بڑا چیلنج تب رہا جب میری بیٹی پیدا ہوائی تو مجھے بریک لینا پڑی کیونکہ کہ اس کی دیکھ بھال کے لئے اس وقت میرے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ میں یہ ضرورکہوں گی کہ میں نے مردوںکی جانب سے کبھی ریمارکس کا سامنا نہیں کیا لیکن میں نے اپنی ساتھیوں سے کافی سنا کہ انھیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ ایسا ضرور ہے کہ بڑے عہدوں پرابھی تک مردوں کی برابری کی سطع پر عورتیں نہیں پہنچ پاتیں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک کسی عورت کاکیریئر اوریئنٹڈ ہونا ابھی تک قبول نہیں کیاگیا۔ اگرکوئی یہ منوالے تو اسے ناپسند بھی کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ کہناکہ صرف مرد ہی خواتین کے لئے مشکلات کھڑی کرتے ہیں ٹھیک نہیں ہے، اس میں خواتین بھی شامل ہیں کیونکہ وہ اکثر اپنے عورت ہونے کا فائدہ لیتی ہیں کہ: ہم دیر تک نہیں بیٹھیں گے، یہ کام نہیں کریں گے۔ ان کے اس عمل سے وہ خواتین جو اپنے کام کو لے کر سنجیدہ ہیں انہیں پھرمسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔


بنیش عباس، نیوز پروڈیوسر،کراچی
چودہ برس کی ملازمت کے تجربے کی بنیاد پر بات کروں تو میرے نزدیک ملازمت پیشہ خواتین کو سب سے زیادہ ہراسمنٹ کا سامنا رہتا ہے، خواہ وہ بس ہو یا دفتر، لوگوں کی نظریں ان کا تعاقب کرتے نہیں تھکتیں۔ لوگ نظروں ہی نظروں میں تعاقب کرتے ہیں پھرتنقید یہ کہ یہ تو لڑکی ہے، یہ بھلا کیا کام کرے گی ۔ میں نے جب کام کرنا شروع کیا تو مجھے بھی ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی۔ شادی کے بعد مجھے اپنی بیٹی کو دفتر لانا پڑتا تھاکیونکہ کہ اس کی دیکھ بھال کے لئے اس وقت کوئی موجود نہیں تھا۔ مجھے دفترنے اس کی جازت دی لیکن میرے بہت سے ساتھیوں کو یہ ناگوارگزرتا تھاکہ اس سے میرے کام پراثر پڑے گا۔ جب کہ ایسا ہوا نہیں ۔ میں نے اس وقت بھی ذمہ داری کے ساتھ اپناکام کیا، مجھے باہر سے تنقیدکا سامنا رہا کہ گھر اور ملازمت ساتھ نہیں چل سکتے لیکن میں نے یہ بھی خوب نبھایا۔ ہاں یہ نقصان ضرور ہوا کہ میری اپنی ذات کے لئے وقت ختم ہوتا چلاگیا، میں اب پارلر اورجم نہیں جا سکتی لیکن میں پھر بھی خوش ہوں اور میراگھر میری ملازمت سے کبھی متاثر نہیں ہوا۔ میرے شوہر نے میرا ساتھ دیا اور دے رہے ہیں جس کی وجہ سے میں کام کر رہی ہوں۔


کنول بانو، ٹیچر، صحافی،کراچی
ہماری سوسائٹی یا معاشرت میں لڑکیوں کی تربیت میں ایک بات کا خیا ل رکھا جاتا ہے کہ اسے یہ باورکروادیا جائے کہ وہ ” صنف نازک “ہے ۔ لہٰذاسفراتنا آسان نہیں ہوگا جتنا ایک مردکے لئے ہوتا ہے۔کچھ بھی ہوجائے، حالات کیسے بھی ہوں، اسے یہ بات کبھی غلطی سے بھی بھولنی نہیں چاہئے ہم نے مرد اور عورت کے فرق کو قصہ نہیں رہنے دیا۔ ملازمت پیشہ خواتین کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پہلا مسئلہ لاحق ہو تا ہے۔ جن کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ نہیں ہو تی وہ بسوں، ویگنوں میں سفرتوکر لیتی ہیں، بونس ملنے پر رکشہ بھی افورڈکر لیتی ہیں اور اب تو پرائیوٹ کمپنیوں کی ان لائن رائڈز بھی بُک کر لیتی ہیں، لیکن وہ ایک غیرمحفوظ معاشرے کی غیرمحفوظ مخلوق ہونے کے ناطے، صنف نازک ہونے کا ڈر اپنے اندر سے نکال نہیں پاتیں۔ انہیں آمدرو فت کے لئے ادارے کی جانب سے کوئی سہولت پیش نہیں کی جاتی۔ دوسرا مسئلہ انہیں اس وقت درپیش ہوتا ہے جب سینئرزکی طرف سے کام کا دباﺅ انہیں دیر تک آفس میں روکنے کی خاطر بڑھا د یا جاتا ہے اورحکم عدولی کی صورت میں اوچھے طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ تیسرا اہم مسئلہ ورکنگ ویمن کو غیراخلاقی مواد (ایس ایم ایس، وڈیوز، وائس نوٹ، ای میل، پوسٹ وغیرہ)کے ذریعے ہراساں کرنا ہے جن پر ردعمل ظاہرکر نے پریہ کہہ کہ معذرت کر لی جاتی ہے کہ غلطی سےsend ہوگیا۔ عورت کے لئے مسائل توبہت ہیں جن کا ذکر صنف نازک ہونے کی حیثیت سے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب مجھے یہ مسائل پیش آئے تو عمراورتجربہ دونوں کم تھے۔کسی نتیجے پر پہنچنے اوررائے دینے کے لئے ان دو عوامل کے بڑھنے کا انتظارکیا جاتا ہے۔ میں نے بھی ایسا کیا۔ اس وقت یہ مسائل بہت بڑے معلوم ہوتے تھے۔ جذباتی طور پر بھی پریشانی کا سامنا رہا لیکن جوں جوں وقت نے اپنا سفر طے کیا انہیں سمجھنے کی سمجھ آگئی۔کچھ معاملات وقت کے دھارے کے سپردکئے توچندکوحل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ طے کرلیاکہ کچھ بھی ہوجائے ہمت نہیں ہارنی، اپنی جنگ .... عورت ہونے کی لڑائی.... خود ہی لڑنی اور جیتنی ہے۔


اریبہ رحمان، سماجی کارکن ،کراچی
وورکنگ ویمن ہونے کے ناطے جن مشکلات کا سامناکرنا پڑتا ہے، ان میں سب سے بڑا مسئلہ روزگارکے یکساں مواقع کا ہے۔ اس کے علاوہ برابراُجرت کا مسئلہ بھی ہے جو عورتوں کی نسبت مردوں کو زیادہ دی جاتی ہے۔ مردوں کے اس معاشرے میں جہاں ورکنگ ویمن روزمارہ زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کرتی ہے وہاں ذاتی سوالات بھی کیے جاتے ہیں۔ مثلا اگر آپ شادی شدہ ہیں توآپ فیملی کب اسٹارٹ کریں گی ، پروفیشنل اور ذاتی زندگی کیسے متوازن کریں گی ۔ نسبتا ایسے سوالات مردوں سے نہیں کیے جاتے ہے۔اگر ایک ورکنگ ویمن زیادہ تنخواہ کا تقاضاکر ے تو اس کو عورت ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی اورجذباتی طور پر ہراساں بھی کیا جاتا ہے۔ ان مشکلات کا سامنا بہت بار اپنے ماحول میں کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی درگزر بھی کرنا پڑتا ہے۔ ان مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ناصرف آپ کو مردوں سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے بلکہ اس میں اس با ت کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے کہ پروفیشنل اورذاتی زندگی کو کیسے متوازن رکھا جائے۔ عورتوں کی نسبت مردوں کو زیادہ فوقیت اور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ۔


ماہ وش خان،سماجی کارکن، اسلام آباد
سب سے بڑا مسئلہ سینئرزکی جانب سے برے رویے کا ہوتا ہے۔ وہ کسی کو موقع دینا تو دور،کچھ سکھانے اور بتانے پرہی تیارنہیں ہوتے۔ ہاں جس میں خود سیکھنے کی لگن ہو اور ایسا بُرا رویہ برداشت کرنے کا حوصلہ ہو وہ کچھ نہ کچھ راستہ نکال ہی لیتا ہے۔ میرے خیال میں خواتین کو اپنا آپ منوانے کے لئے مردوں کی نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے کیونکہ ایک تو انھیں معاشرے کی تنقید سہنی پڑ رہی ہوتی ہے تودوسری جانب جہاں وہ کام کر رہی ہوتی ہیں وہاں مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کا حل صرف اتنا ہے کہ تنقید اور طنزکو پس پشت ڈال کرکام کیا جائے اورثابت کیا جائے کہ عورتیں بھی اتنی ہی قابل اور محنتی ہیں جتنے کہ مرد حضرات۔


تحریم عظیم، ایڈیٹر، لاہور
ورکنگ ویمن کو بہت سے مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ مجھے بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی پہلی نوکری کے دوران مجھے بہت کچھ برداشت کرنا پڑاکیونکہ اس وقت میں ناسمجھ بھی تھی اور ناتجربہ کار بھی، میں جلدگھبرا جاتی تھی اوراعتماد کی بھی کمی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے سیکھاکہ پاکستان میں کیسے کام کیا جاتا ہے۔ موجودہ نوکری کی جگہ پر میرے ساتھ کام کرنے والے مجھ سے بات کرنے سے قبل سوچتے ہیں کہ کیاکہا جائے اورکیا نہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ لوگوں کا ہے جو کسی بھی کام کرنے والی خاتون کے گھر والوں کوباتیں سنانا شروع کردیتے ہیں کہ بیٹی کیوں نوکری کررہی ہے،کیا آپ بیٹی کی کمائی کھائیں گے؟ اجتماعی سطح پر ہمارے معاشرے کو اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔


مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والی خواتین کی آراءسے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عورت کسی بھی شعبے میں ہو ، اسے اپنے آپ کو منوانے کے لئے مردکی نسبت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔گوکہ اب ہراساں کرنے کے معاملات پرکھل کر بات ہوتی ہے لیکن وہ عورت جوگھر سے باہر قدم رکھتی ہے، وہ اسی وقت خود کو ہر طرح کے حالات کے لئے تیارکرچکی ہوتی ہے جس کا سامنا اسے مختلف اوقات میں کرنا پڑسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پُرخار راستے اور درپیش چیلنجزکو عبورکرتے ہوئے آج کئی خواتین ان عورتوں کے لئے مثال بن چکی ہیں جوکچھ یا بننا چاہتی ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود اب بھی اجتماعی سطح پر ہمیں اس سوچ کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے مطابق عورت کا کام کرنا یا کمانا درست نہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں اگرکوئی عورت کام کررہی ہے تو وہ کسی حد تک یا تو گھرکا بوجھ اٹھا رہی ہے اور اگر ایسا نہیں بھی ہے توکم ازکم وہ اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل تو ضرور بن رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ بُرا وقت پڑنے پر معاشرے کی ٹھوکرکھانے سے قبل ہی خودکو اس قدر مضبوط اور خود مختاربنانے کا ارادہ کر رہی ہے جو اسے کسی پر بوجھ نہ بننے دے۔ کئی خواتین اپنے شوہرکا بوجھ بانٹ رہی ہیں توکئی زندگی کے مختلف شعبہ جات میں نمایاں کام کرکے ملک کا نام روشن کر رہی ہیں۔ یہ خواتین ہی ہیں جو مشکلات کو جھیلتے ہوئے آج تعلیم ہویا کوئی بھی میدان وہاں اپنا آپ منواکر ثابت کرچکیں ہیں کہ کوئی بھی شعبہ یا کام محض صنف کی بنیاد پرنہیں بلکہ قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر چل سکتا ہے۔ کام کرنے والا کوئی مرد ہو یا عورت .... ترقی کا دارومدار محنت اور لگن پر ہے ۔ اس لئے یہ سوچناکہ عورت کیاکرسکتی ہے، کیا نہیں، اس کو تبدیل کرنا ہوگا۔اگرکوئی عورت اپنا مقام بنانا چاہتی ہے اور آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے بھی وہی عزت اور مواقع دینا ہوں گے جوایک مردکو حاصل ہیں۔


غلام زہر ا ،فیچر رائٹر ،لاہور
خواتین کے ساتھ ملازمت کرنے والے مرد کولیگز کو چاہیئے کہ وہ خواتین حقوق اور مجبوریوں کو سمجھتے ہوئے اُن کے لئے سہولت اور آسانیاں پیدا کریں۔ مرد کرلیگز کو اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ خواتین نا جانے کن مجبوریوں اور مسائل کے باعث گھر سے باہر کام کرنے کی غرض سے نکلتی ہیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک یہ روایت موجود ہے کہ مرد وں کی بطور خاوند،بھائی اور باپ یہ کوشش ہوتی ہے کہ خواتین ملازمت کرنے گھر سے باہر نہ ہی جائیں،اس سلسلے میں وہ خواتین سے یہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم زندہ ہیں اور ہم آپ کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں اور آپ کے اخراجات بھی پورے کر سکتے ہیں،میرے والد اور بھائی اس دارِفانی سے رخصت ہو چکے ہیں،میں اپنی بیمار والدہ اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی غرض سے ملازمت کرتی ہوں،بعض اوقات اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کی باتیں بری لگتی ہیں لیکن مجبوری میں برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ آخر اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ گھر بھی تو چلانا ہے،میں خواتین کے ساتھ کام کرنے والے تمام مرد کولیگز سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ خواتین کے حقوق کے متعلق اسلامی تعلیمات میں واضح احکامات سے استفادہ حاصل کریں جوروشن مینار کی طرح ہماری رہنمائی کر رہے ہیں ۔


ای پیپر