ترکی میں 13 صحافیوں کیخلاف عدالتی کارروائی پر شدید احتجاج
26 اپریل 2018 (20:58) 2018-04-26

انقرہ: ترکی میں عدالت نے 13 صحافیوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سزا سنائی ہے اور اس فیصلے کے بعد دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے حوالے سے تنقید شروع ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان صحافیوں کا تعلق ترکی کے 'جمہوریت' اخبار سے ہے جس نے صدر رجب طیب اردگا ن کی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔سزا پانے والے صحافیوں کے علاوہ دیگر تین صحافیوں کو بری کر دیا گیا ہے۔ سزا یافتہ صحافی اس وقت آزاد ہیں اور انھوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ان تمام صحافیوں کو جولائی 2016 میں ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔سزا پانے والے صحافیوں میں ملک کے چند نامور مبصرین شاملہیں جن میں اخبار کے مدیر اعلی مراد سبانکو، کالم نویس قادری گرسیل اور کارٹونسٹ موسی کارت شامل ہیں۔اس کے علاوہ 'جمہوریت' اخبار کے چیئرمین آکن اتالے کو سات سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ وہ 500 پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہیں۔

ترکی کے حکام نے ’جمہوریت‘ میں کام کرنے والوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں جنھیں دہشت گرد قرار دیا گیا ہوا ہے۔ان میں کردستان ورکرز پارٹی، انتہائی بائیں بازو کی جماعت پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ اور دینی عالم فتح اللہ گولن شامل ہیں جن پر ترک حکومت اْس ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتی ہے۔فتح اللہ گولن خود ساختہ جلا وطنی کے بعد امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور ترک حکومت کی درخواست کے باوجود امریکی حکام نے انھیں ترکی واپس بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ناکام فوجی بغاوت کے بعد 50000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے علاوہ 150000 افراد کو نوکریوں سے برخاست کر دیا گیا تھا کیونکہ ان پر شک تھا کہ انھوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا اور اس کی حمایت کی تھی۔ان افراد میں صحافی، اساتذہ، پولیس افسران، سرکاری اہلکار اور فوجی حکام شامل ہیں۔


ای پیپر