پانی کا تنازع اور قومی واٹر پالیسی
26 اپریل 2018

واٹر پالیسی : 1991ء کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا تسلسل؟
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منعقدہ مشترکہ مفادات کی قومی کونسل نے واٹر چارٹر کے نام سے قومی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ طویل عرصے تک زیر بحث اس چارٹر پر چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے دستخط کر دیئے ہیں۔۔ دریاء کے آخری سرے پر ہونے کی وجہ سے پانی سے متعلق چھوٹا سا فیصلہ بھی سندھ کے لئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ سندھ کی شکایات کو مختصراً یوں بیان کیا جاسکتا ہے: جو معاہدے کئے جاتے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ سمندری پانی کی مداخلت سے لاکھوں ایکڑ زمین زیر آب آجاتی ہے۔اس کے لئے ڈاؤن سٹریم کوٹری پانی نہیں دیا جاتا۔ پنجاب پانی کی کمی کی صورت میں اس خسارے میں حصہ دار نہیں بنتا۔ سندھ کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے صوبے میں ماحولیاتی اور معاشی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق میثاق میں سندھ کی بعض اہم مختلف تجاویز منظور کی گئی ہیں ۔ پالیسی میں 1991ء کے پانی کے معاہدے پر روح کے ساتھ عمل کرنا، سمندر کے پانی کے چڑھاؤ کو روکنا، اور آخری سرے پر موجود زمینوں کی ماحولیاتی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی کوئی نیا پانی کا ذخیرہ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ اس پالیسی میں اتفاق رائے سے بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے۔
زندگی خواہ انسانی ہو یا جانوروں کی یا دیگر حشرات اور پیڑ پودوں کی پانی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ پانی صرف پینے اور صحت صفائی کے لئے ہی نہیں بلکہ غلہ اور خوراک پیدا کرنے کے لئے بھی چاہئے۔ پانی کی قلت ملک میں غربت کا بھی تعین کرتی ہے۔ پاکستان میں بارشوں، دریاؤں کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے ذخائر ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد پاکستان کو صرف دو دریاؤں یعنی جہلم اور چناب کا پانی میسر ہے، جبکہ راوی، ستلج اور بیاس کا پانی انڈیا کی مرضی پر ہے۔ صورت حال کچھ ایسی ہے کہ 5 ہزار گلیشر رکھنے ولا شمالی علاقہ جات سے لے کر جنوب کے سخت صحرا تک کوئی بھی اس بحران اور پانی کی شدید قلت سے نہیں بچ سکے گا۔
پاکستان کی معیشت خاص طور پر زراعت ایسی ہے جس کو بہت سارا پانی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پانی کے بحران کی زد میں موجود ملکوں میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے۔ آج کل پاکستان میں 153 ملین فٹ دریائی پانی اور 24 ملین ایکڑ ٖفٹ زیر زمین پانی موجود ہے۔ 2025ء میں پاکستان میں 33 ملین ایکڑ فٹ پانی کی قلت کا سامنا پڑے گا۔
سندھ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ ترقی کی راہ میں خواہ مخواہ رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ عملاًیہ تاثر غلط ہے ۔سندھ نے ہمیشہ ملک کی ترقی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ روینیو سے لے کر معدنی وسائل تک سندھ ہی سب سے بڑا حصہ دیتا ہے۔ اصولی بات ہے کہ جو معاہدے کئے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ اگر وفاق 1991ء کے پانی کے معاہدے پر عمل درآمد کراتا کیا سندھ میں پانی کے حوالے سے اتنے خدشات پیدا ہوتے؟ اس معاہدے میں ڈاؤن سٹریم کوٹری مقررہ مقدار میں پانی دینے کی شق شامل تھی۔ سندھ مطالبہ کرتا رہا، لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ بلکہ
اس کے برعکس پنجاب پانی کی شدید قلت کے دوران بھی اپنی مرضی سے پانی لیتا رہا ہے۔ اور ان کینال میں بھی پانی لیتا رہا جو صرف سیلاب کے موسم میں بہائے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ نے حالیہ واٹر پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور اپنی تجاویز رکھیں۔
یہ درست ہے کہ پانی کی وجہ سے پاکستان کے افغانستان اور انڈیا کے ساتھ تنازعات ہیں جن پر بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تنازعات اندرونی طور پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ امن کے مطابق پانی کی قلت، قحط، سیلاب اور مقامی سطح پر پانی کی بد انتظامی کی وجہ سے ملک خواہ مختلف علاقوں کے درمیان کشیدگی بعض صورتوں میں تنازعات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان تنازعات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا ان معاملات کو سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی نقطہ نظر سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں 3.2 کی شرح سے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج ہم 200 ملین افراد کی پانی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ اگر آبادی میں اضافے کی یہی شرح رہی، 2025ء میں ملک کی آبادی دگنی ہو جائے گی۔عالمی حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زیر زمین پانی کا استعمال مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ ملک 1990ء کے عشرے میں پانی کی کمی کی لائن میں تھا، جو 2005ء میں پانی کی شدید قلت کے نقطہ پر پہنچ گیا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سندھ کے علاقے تھر میں کول کے استعمال کے چکر میں کول کمپنی لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی رن آف کچھ میں بہا رہی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جگہ پر ہو رہا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے، اور یہ علاقہ ہر دوسرے تیسرے سال قحط سالی کا شکار ہوتا ہے۔
چاروں صوبوں کی رضامندی سے اب پانی کا نیا میثاق بن گیا ہے ۔لیکن شکوک و شبہات تاحال موجود ہیں۔ اس موقع پر یہ یاد دلانا لازم ہے جن کے بغیر پانی کا تنازع ختم نہیں ہو سکتا۔ سب سے اہم امر کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد ہے۔ اس کا احترام ہے۔ جو بھی تحریری معاہدہ ہو اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔
اگرچہ میثاق کی مکمل تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں ، تاہم حالیہ میثاق میں سندھ کی مقبول رائے عامہ کے برعکس بڑے ڈیموں کا نکتہ بھی شامل ہے۔ سندھ 1991ء کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کے وعدے کی وجہ سے راضی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر کے پانی کو روکنے کے لئے بھی پانی دیا جائے گا۔ اور ماحولیات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اگر یہ تمام وعدے پورے ہوتے ہیں، 1991ء کے معاہدے کے مطابق ڈاؤن سٹریم کوٹری پانی چھوڑا جاتا ہے، پانی کا کوئی بھی ذخیرہ تمام صوبوں کی رضامندی کے بعد تعمیر کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ یہاں دو سوالات موجود ہیں پہلا یہ کہ کیا یہ میثاق 1991 ء کے معاہدے کی تنسیخ ہے یا اس کا تسلسل؟ دوئم یہ میثاق کا بھی 1991ء کے معاہدے جیسا ہی حشر ہوتا ہے یا واقعی دل و جان سے اس پر عمل ہوگا؟ یاد رہے کہ سندھ کا پانی کی تقسیم کے بارے میں پہلے ہی اعتماد ٹوٹا ہوا ہے۔
پا کستان کے آبی وسائل پرتحقیق کے ادارے کاکہنا ہے کہ زیر زمین پانی کے ذخائر کا ختم ہونا ملک کے بڑے شہروں میں پانی کے بحران میں شدت پیدا کرے گا۔ اور قحط جیسی صورت حال بن سکتی ہے۔ صورت حال کو جنگی بنیادوں پر نہ نمٹا گیا تو پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پانی کی شدیدقلت کا شکار ہو جائے گا۔ پانی کی تقسیم کے مکینزم میں کرپشن اور بدانتظامی ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پانی کی باری پر جھگڑے، ان کے نتیجے میں قتل اور مقدمہ بازی ، سیاسی اثر کا استعمال عام سی بات ہیں۔یہاں تک کہ بعض صورتوں میں کینالوں اور شاخوں پر رینجرز کو بھی تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ معاشی اثرات کی وجہ سے آبادی میں جھگڑے بڑھ رہے ہیں۔ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے سیاسی اثرات بھی ہیں۔ اس ضمن میں کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ اور خیبر پختونخوا میں تحریکیں حال ہی کی بات ہیں۔اس علاقہ میں صوبائی سطح پر پانی کی فراہمی حکمران سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
پانی کی قلت نے ملک میں سلامتی کے معاملات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کا معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ لوگ پانی کے حصول کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ملک کے تین صوبے بڑے صوبے پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اکثریتی اور سیاسی طور پر طاقتور صوبے پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ان کے حصے کا پانی لے جاتا ہے۔ بلوچستان کوسندھ سے شکایت ہے کہ وہ اس کے حصے کا پانی نہیں دیتا۔ بعض لوگ دہشتگردی کو ملک کا سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں لیکن پانی کی قلت اس سے بھی بڑا مسئلہ بننے جارہی ہے۔


ای پیپر