کپتان انتخابی دلدل میں پھنس گیا
26 اپریل 2018

تحریک انصاف کی مقبولیت ہے یا موقع پرستی کی سیاست، وفاداریاں بدلنے والے تیزی سے کپتان کی جماعت کی طرف لپک رہے ہیں۔ وفاداریاں بدل کر اقتدار میں آنے والی جماعت میں شامل ہونے والے ہماری انتخابی اصطلاح میں لوٹوں کے نام سے شہرت پاتے ہیں۔ اس سے دھچکا تو دو سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کو لگا ہے۔ سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ہو رہاہے۔ اس تبدیلی اور سیاسی بھگڈر میں کپتان 2018ء کا معرکہ سر کر پائیں گے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے جو غلطی کپتان نے 2013ء کے الیکشن میں کی تھی اب وہی 2018ء میں کر رہے ہیں۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ کپتان نے ایک ایسا ایشو غلط وقت پر چھیڑا ہے۔ معاملہ ہے سینیٹ میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا، اپنے ہی ارکان پر ضمیر فروشی کا الزام دھر دیا۔ جماعت اسلامی کو بھی ردعمل دینا پڑا۔ بات آگے بڑھی اور ’’اوپر والوں‘‘ کا ذکر آگیا۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کپتان کے اتحادی تھے۔ پورے 5 سالوں میں انہوں نے یہ ساتھ خوب نبھایا ہے۔ معاملہ سینٹ کی خرید و فروخت سے شروع ہوا تھا وہ اب جماعت اسلامی سے تو تکار پر ختم نہیں ہوا بلکہ جماعت اسلامی نے کپتان کے اتحاد سے نکلنے کا فیصلہ اچھے طریقے سے کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود کپتان کے لیے سب اچھا نہیں ہے۔ کیونکہ اب یہ بھی تو حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی نئے سرے سے مولانا فضل الرحمن کی اتحادی بنی ہے۔ جب انتخابی مہم کا آغاز ہو گا تو مولانا کے نفرت بھرے تیر کپتان کی طرف پھینکے جائیں گے تو جماعت اسلامی کو بھی کچھ نہ کچھ اپنا حصہ کپتان کے کھاتے میں ڈالنا پڑے گا۔ بے وقت بحث چھیڑ کر کپتان نے عوامی داد سمیٹنے کی کوشش ضرور کی ہے، اچھی بات یہ ہے کسی سیاسی جماعت نے اپنے پارلیمنٹیرین کے خلاف ایکشن لیا مگر اس کارروائی پر سوالات کا اٹھنا بھی تو اہم مسئلہ ہے کہ نیا پاکستان بنانے کے لیے 2013ء میں کپتان کا انتخاب درست نہیں تھا کہ آزمائش کی گھڑی میں اُن کے وفادار لمحوں میں نوٹوں کی خوشبو کے سحر میں ڈوب گئے۔ یہ معاملہ انتخابات تک چلے گا اہم سوال تو یہ ہے کہ کپتان نے دولت مند امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہی کیوں تھے؟ وہ بھی جواب دہ ہیں۔ جماعت اسلامی کے نکلنے سے کپتان خسارے میں رہے گا۔ 2018ء میں کپتان نے لوٹوں کے ساتھ الیکشن لڑنے کا جو فیصلہ کیا ہے، اس حکمت عملی کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاداریاں تبدیل کر کے آنے والوں کے خلاف بھی تو ردعمل موجود ہے۔ اب اس کا لیول دیکھنا پڑے گا۔ ایسا نہ ہو اس بار کپتان کی سیاست ہی لوٹوں کی وجہ سے ڈوب جائے۔ لوگ نفرت کا ووٹ دوسری طرف ڈال کر چلتے بنیں۔ انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے کپتان کی اب تک تیاری نہیں ہے۔ کپتان نے 2013ء میں انتخابی میدان میں جو ٹیم اتاری تھی، وہ عوامی سطح پر اتنے مقبول نہیں تھے۔ مگر انہوں نے جو ووٹ لیے تھے وہ تحریک انصاف کی مقبولیت کا ووٹ
تھا۔ 2018ء کے انتخاب سے پہلے پشتون موومنٹ سے لے کر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور اس سے آگے اس میں بلوچستان کی تبدیلی کو بھی شامل کر لیں تو سب کچھ کپتان کو ’’تخت اسلام آباد‘‘ تک پہنچانے میں اب تک مددگار ثابت نہیں ہو سکا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ اچانک یہ پریشر گروپ کہاں سے اور کدھر سے آ گئے ہیں۔ یہ تو سارا سیاست کا کھیل ہے۔ مسلم لیگ (ن) توڑ پھوڑ کے باوجود ابھی تک کھڑی ہوئی ہے۔ سینیٹ انتخاب میں کپتان کا آصف علی زرداری سے ہاتھ ملانا بھی انہیں مہنگا پڑا ہے۔ یہ کپتان کے نئے پاکستان پر سوالیہ نشان ہے۔ کپتان جن لوگوں کو تحریک انصاف میں لا رہے ہیں، ان کے بارے میں وہ بڑا سکوپ دینے کا اعلان کر چکے مگر چودھری نثار جو کپتان کے کلاس فیلو ہی نہیں ذاتی دوست بھی رہے ہیں وہ تحریک انصاف میں نہیں جا رہے، یہ اعلان چوہدری نثار کے ترجمان نے کر دیا ہے۔ حکومت کی مدت ختم ہونے میں تقریباً 34 دن باقی رہ گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رضا ربانی کی یہ اپیل وزیراعظم خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر کو پسند ہی نہیں آئی بلکہ دونوں نے اتفاق کر لیا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ کسی صورت میں الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا۔ یہ اچھی بات ہے کپتان نے وزیراعظم کے لیے جو دو نام دیئے ہیں اور اس کی تائید سراج الحق اور فاروق ستار نے بھی کی ہے، ان میں ڈاکٹر عشرت حسین کا نام بھی ہے۔ ایک جانب سے ڈاکٹر قدیر کا نام بھی آیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کا نام 2013ء کے نگران وزیراعظم کے لیے آیا تھا وہ مسلم لیگ (ن) نے مسترد کر دیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر کو پرویز مشرف نے ڈی بریفنگ کے ذریعے متنازع بنا دیا ہے۔ کپتان کے چاروں نام تحریک انصاف سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ پنجاب کے لیے ڈاکٹر صفدر کا نام آیا ہے۔ یہ ریٹائر بیوروکریٹ ہیں۔ مشرف کے ایک زمانے میں دوست رہے، سب سے بڑا اعتراض ان پر یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی شفقت محمود کے انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں۔ پنجاب ایسا صوبہ ہے جس کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ معاملہ پنجاب الیکشن کمیشن حل کرے گا۔ اب آصف علی زرداری لاہور میں موجود ہیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا برا حال ہے۔ جب وہ لاہور آئے تو ان کے قریبی ساتھی ندیم افضل چن تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں مگر زرداری کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ان کی حکمت عملی اور ٹارگٹ 50 تک قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو حکومت سازی کا سارا کھیل اُن کے ہاتھ میں آجائے گا۔ آزاد ارکان قومی اسمبلی کی اکثریت اُن کے ساتھ جائے گی کیونکہ یہ حکمت عملی سینیٹ کے انتخاب میں کامیاب رہی ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) کا پورا فوکس اسلام آباد سے ساہیوال تک ہے۔ اس طرح پنجاب میں وہ 2013ء جیسے انتخابی نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تو سب سے بڑی پارٹی وہ ضرور رہے گی۔ جہاں تک کپتان کی انتخابی سیاست کا تعلق ہے ابھی تک اس میں زیادہ کامیابی کے امکان نہیں ہیں۔ لوٹوں کو عوامی سطح پر پارٹی بدلنے پر اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔ کپتان لاہور آئے اور مولانا معین الدین کے صاحبزادے عظیم الدین زاہد اور دو سیاست دانوں کوپارٹی میں شامل کر کے منڈی بہاؤالدین گئے جہاں ندیم افضل چن نے ایک جلسہ کیا۔ فلاپ شو تھا۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پارٹی نئے شامل ہونے والوں کی وجہ سے کس طرح تقسیم ہو گئی ہے۔ پھر کپتان نے عامر سلطان چیمہ کو پارٹی میں شامل کیا ہے۔ چودھری برادران کو اس سے شدید دھچکا لگا ہے۔ چودھری شجاعت کے برادر نسبتی میجر (ر) طاہر صادق جو ضلع اٹک کے دو مرتبہ ناظم رہے اُن کی بیٹی ایمان وسیم ممبر قومی اسمبلی رہی۔ بیٹاز ین صادق اب بھی رکن قومی اسمبلی ہے۔ اسی حلقے سے انہوں نے 2004ء میں شوکت عزیز کو ممبر قومی اسمبلی بنوایا۔ چوہدری برادران کے رشتہ دار پتوکی کی نکئی فیملی پہلے ہی تحریک انصاف میں جا چکی۔ انور چیمہ جو چودھری تجمل کے سمدھی ہیں اُن کی بہو تنزیلہ عامر چیمہ جو دو مرتبہ ممبر قومی اسمبلی اور چیئرمین ضلع کونسل رہی ہیں وہ بھی تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کے دوست سرداران چکوال پہلے ہی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چودھری برادران کی انتخابی سیاست کو دھچکا لگا ہے۔


ای پیپر