فنون لطیفہ اور رحمت عالمؐ کا اسوہ مزاح
26 اپریل 2018 2018-04-26

فنون لطیفہ (fine arts) جمالیاتی حس کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔یہ اصطلاح اٹھارہویں صدی میں ایجاد ہوئی،جس کی پانچ قسمیں متعارف کروائی گئیں،موسیقی، مصوری، شاعری، سنگتراشی اور رقص۔آج کلآرکٹیکس، شوبز، فلم انڈسٹری، اور بہت سی دوسری لہووسرود کی چیزوں کو بھی فنون لطیفہ کا نام دے دیاگیاہے۔مختلف ملکوں میں ان چیزوں کے علاوہ مختلف چیزوں کو فنون لطیفہ میں شامل کیا جاتاہے۔جیسے فرانس میں کھانا پکانا بھی فنون لطیفہ میں شامل ہے۔
حقیقت حال کا مطالعہ کیا جائے تو فنون لطیفہ کوئی بری چیز نہیں،کیوں کہ جمالیاتی حس فطرتا انسان میں ودیعت ہے۔تواللہ کی بنائے ہوئی حسین اور تفریح دینے والی چیزوں سے لطف اندوز ہونا فطرت کے عین مطابق ہے۔اسلام بھی جمالیاتی حس کے اظہار کا حامی ہے۔لیکن عصر حاضر میں فنون لطیفہ کو بلاحدود سمجھ کر واہیات اور خرافات کو جمالیاتی حس کے لطف اندوز ہونے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔انٹرٹیمنٹ کے نام پرہمارے ہاں مختلف ٹی وی چینلز پرکامیڈی شوز کے ذریعے روزانہ لوگوں کا مذاق اور تمسخر اڑایا جاتا ہے۔حالاں کہ تمسخر سے اللہ نے بذات خود روکا ہے۔سورہ حجرات میں ارشاد خداوندی ہے جس کا ترجمہ ہے "اے ایمان والو کوئی قوم کسی دوسری قوم کا تمسخرنہ اڑائے شاید (جس کا مذاق اڑایا جارہاہے وہ تمسخر کرنے والے سے )بہترہو"۔پھر فنون لطیفہ میں ناچ ڈانس اور نہ جانے کیا کچھ شامل کردیا گیا ہے،جس سے شریعت کے کئی احکامات سے انحراف ہوتاہے۔ اس لیے اگر فنون لطیفہ کی حدود اور قیود بنالی جائیں تو شاید تفریح طبع کا بہتر رواج پڑھ جائے۔بلاشبہ ہمیں فنون لطیفہ کو رواج دینا چاہیے مگر فنون لطیفہ کی آڑ میں لوگوں کی تذلیل،ان کے کارٹونز، اور ناچ ڈانس کے نام پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول نہیں لینی چاہیے۔افسوس کہ عمومی طور پر ہم غلط کو غلط کہنے سے بھی رک گئے اور مزاح کے نام پر اللہ کے حکموں کی پامالی کرنے لگے۔
ذرا پڑھ کر دیکھئے کہ محبوب عالم صلی اللہ علیہ وسلم کیسا اور کس قسم کا مزاح کیا کرتے تھے۔ فنون لطیفہ کا یہ اسوہ ہی ہمارے لیے بہترین اسوہ ہے۔ایک مرتبہ بوڑھی عورت
جنت کے بارے پوچھنے آئی کہ کیا وہ جنت میں جائے گی،ارشادفرمایا بوڑھی جنت میں نہ جائی گی۔بوڑھی اماں رونے لگی۔فرمایا:وہاں تو سب جوان ہوں گے بوڑھا تو کوئی نہ ہوگا تو وہ بوڑھی ہنس پڑی۔ارشاد باری شاہد ہے"فجعلنھن ابکارا"کہ ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ہے‘‘(ترمذی)۔ایک صحابی آتے ہیں کہ یارسول اللہ مجھے اونٹنی دیجئے اس پر سوار کیجئے۔آپ کہتے ہیں ہم تو آپ کو اونٹنی کے بچے پر سوار کریں گے۔پوچھا یارسول اللہ بھلا اونٹنی کے بچے پر بھی کوئی سواری کرسکتا ہے۔ارشاد فرمایا جو سواری کے قابل اونٹ ہوتا وہ اونٹنی کا بچہ نہیں ہوتاکیا؟؟(ابوداؤد واحمد)۔خادم رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے پیار سے رسول اللہ دو کانوں والا کہہ کر پکارتے تھے(ابوداؤد وترمذی)۔ایک مرتبہ صحابہؓ کے ہاں مزاح کی مجلس چل رہی تھی آپؐ بھی تشریف فرما تھے۔اْسیدنامی شخص کی کسی بات پر آپؐ نے عود کی چھڑی اس کی کمر پر ہلکی سی ماری۔اسید نے کہا رکیے رکیے مجھے بدلہ دیجئے۔آپ نے فرمایا آئیے بدلہ لیجئے۔اسید نے کہا قمیص اوپر کریں آپ نے مجھے بنا قمیص کے مارا تھا۔ رحمت عالم قمیص اٹھاتے ہیں ادھر اسید جھپٹ کر کمر مبارک کو چومنے لگتا ہے کہ یارسول اللہ میرا مقصود تو بس یہی تھا کہ سرکار کے جسم کو چوم لوں۔ (ابوداؤد)۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم لخت جگر سیدہ فاطمہ کے گھر جاتے ہیں۔سیدناعلی المرتضیٰ کا پوچھتے ہیں۔کہا مجھ سے ناراض ہو کر مسجد جاکر سوگئے۔آپ مسجد جاتے ہیں حضرت علی مٹی پر سوئے ہیں۔کہا مٹی کے ابا اٹھیے گھر چلیے۔ (مسلم و بخاری)۔ رحمت عالم بازار میں جاتے ہیں محبت کرنے والے صحابیؓ جو سرکار کو ھدیہ دیا کرتے تھے ان کی آنکھوں پر پیچھے سے جاکر ہاتھ رکھتے ہیں۔ اور پوچھتے ہیں کہ بتائیے کون ہے یہ؟صحابیؓ پوری توجہ آپؐ کی طرف کرتے ہیں اور پہچان لیتے ہیں۔ادھر آپؐ آواز لگاتے ہیں کہ کوئی ہے جو اس غلام کو خریدے۔صحابی رسول کہتے ہیں مجھے بیچ کر خسارہ ہی خسارہ ہو گا آپؐ کو۔
آپؐ نے فرمایا کیسی بات کرتے ہو اللہ کے ہاں آپ کی بہت قیمت ہے۔(مسند احمد)۔حضرت صہیب آشوب چشم میں مبتلا ہیں سرکارؐ عیادت کے لیے آتے ہیں۔ادھر حضرت صہیب کھجوریں کھارہے ہیں۔آپ نے پوچھا کہ آشوب چشم میں کھجوریں کھارہے ہو؟حضرت صہیب نے کہا یارسول اللہ میں تو دوسری طرف(صحیح آنکھ جو آشوب چشم میں مبتلا نہیں ہے)سے کھارہا ہوں۔آپ ہنس پڑے۔عوف الأشجعی نامی شخص تبوک میں آپ کے پاس دوران جنگ آتے ہیں آپ کسی چھوٹے سے گنبد نما جگہ میں کھڑے ہیں۔عوف اجازت چاہتے ہیں یارسول اللہ میں بھی داخل ہوجاؤں۔آپ نے کہا داخل ہوجاؤ۔عوف نے کہا یارسول اللہ پورا یا آدھا؟آپ نے کہا ارے پورے ہی داخل ہوجاؤ۔
درج بالا سیرت کے چند واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس امت بالخصوص مسلمانوں کے مقتدا ورہبر ہیں کیسے اپنی جمالیاتی حس کا اظہار فرمایاکرتے تھے۔ایک مسلمان معاشرے کے لیے آپ ہی کا اسوہ لائق تقلید ہے۔اس لیے جمالیات پر خوش ہونا مزاح کرنا طبیعت کو ہشاش بشاش کرنا پسندیدہ امر ہے بھلے وہ فنون لطیفہ کے ذریعے ہو یا شعر وشاعری وغیرہ کی محفلوں کے ذریعے۔اللہ قرآن میں جابجا ہرے بھرے کھیتوں باغوں سرسبز وشاداب وادیوں نہروں،پھلوں سے لدے باغیچوں،رنگ برنگے جانوروں جیسی جمالیاتی چیزوں کو نعمت قرار دے کر شکریہ کا حکم دیتاہے۔یہی نہیں اللہ کے محبوب نے یہاں تک فرمایا کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔اس لیے ہمیں ضرور اپنی جمالیاتی حس کا اظہار کرنا چاہیے کیوں کہ درشتی عموماً انسان کو سخت بنادیتی ہے۔لیکن اس خوبصورتی، تفریح طبع اور فنون لطیفہ کے نام پر جھوٹ بولنا، دوسروں کا مذاق اڑانا،دوسروں کی غیبت کرنا،ان کی تذلیل کرنا،ان کے عیب ٹٹولنا، نیم عریاں ہوکر رقص کرنا،اسلام کے احکامات کو پاؤں تلے روندنا ایسی واہیات اور خرافات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔میڈیا پر سیاسی شخصیات ہوں یا مذہبی شخصیات غیر اخلاقی کارٹونز یا خاکہ جات وغیرہ کے ذریعے ان کی تذلیل کرے اور اسے فنون لطیفہ کا نام دے ہرآدمی کو اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔بلکہ حکومت کو سائبر کرائم بل میں ہتک عزت اور فنون لطیفہ کے نام پر خرافات اور واہیات کوپرموٹ کرنے والے لوگوں کے خلاف ایکشن کی دفعہ بھی شامل کرنی چاہیے۔بحیثیت مسلمان ہونے کے ہر کسی کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اس عمل کے خلاف اپنے طور پر کوشش کرے۔بلکہ پوری قوم کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مزاح کے نام پر دوسروں کی تذلیل کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرے۔


ای پیپر