کل۔۔۔چر۔۔۔
26 اپریل 2018 2018-04-26

دوستو،ویسے اگر کسی ’’کلچر‘‘ سے کوئی اتفاق کرے تو اسے انگریزی میں ’’ایگری کلچر‘‘ کہتے ہیں۔۔۔ یہ انوکھی منطق ہمارے پیارے دوست جھاڑتے ہیں، جو ہمیشہ کسی بھی قسم کے کلچر کے شدید خلاف نظر آتے ہیں، جب بھی کلچر کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کا رویہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے عمران خان سابق وزیراعظم نوازشریف کے تذکرے پر غصے میں آجاتے ہیں۔۔۔ چونکہ ہمارا کالم غیرسیاسی ہے اس لئے ہم صرف ایک ہی مثال پہ اکتفا کریں کیوں کہ ہمارے کالم کا مزاج غیرسیاسی ہوتا ہے۔۔۔
اگر اپنے آس پاس نظریں دوڑائیں تو بہت سارے ’’کلچر‘‘ منڈلاتے نظر آئیں گے۔۔۔ جیسے فلمی اداکاراؤں کی شادیوں کا کلچر۔۔۔ طلاقوں کا کلچر تو ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچکا ہے۔۔۔ پشاور میں رمضان المبار ک اور عید کا چاند سب سے پہلے دیکھنے کا کلچر۔۔۔ پنجاب میں بچیوں سے زیادتی کا کلچر۔۔۔ سندھ اور پنجاب میں انسانوں کو زنجیروں سے جکڑنے کے کلچر۔۔۔ اندرون سندھ عورتوں کا کاروکاری کرنے کا کلچر، خواتین کو ’’ونی‘‘ کرنے کا کلچر۔۔۔ وٹہ سٹہ کا کلچر۔۔۔ حیدرآباد اور کراچی میں ہسپتالوں سے نوزائیدہ بچوں کی چوری کا کلچر۔۔۔ حکومت کا امداد کے نام پہ بھیک مانگنے کا کلچر۔۔۔ ملک میں دہشت گردی، قوم پرستی، فرقہ واریت کا کلچر۔۔۔ گلگت بلتستان میں خودمختاری کا کلچر۔۔۔ سیاست دانوں میں کرپشن کا کلچر۔۔۔ عورتوں میں میک اپ کا کلچر۔۔۔ نوجوانوں میں سمارٹ فونز کا کلچر۔۔۔ یہ تو صرف چند مثالیں ایسی کئی مثالیں ’’گوڈے گٹوں ‘‘ پہ زور دیں گے تو آپ کے سامنے بھی آجائیں گی۔۔۔
کہتے ہیں کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک بکری تھی، ایک دن گھوڑا بیمار ہوگیا، کسان نے ڈنگرڈاکٹر(ویٹرنری) کو بلایا۔۔۔ جس نے بتایا کہ آپ کے گھوڑے کو ایک وائرل بیماری ہوگئی ہے اسے تین دن یہ دوائی دینا، تین دن بعد میں پھر اسے دیکھنے آؤں گا، اگر یہ پھر بھی ٹھیک نہ ہوا تو اسے گولی ماردینا تاکہ یہ وائر س گاؤں کے دیگر گھوڑوں میں نہ پھیل سکے۔۔۔ قریب کھڑی بکری نے یہ ساری گفتگو بہت دھیان سے کان لگا کر سنی، اگلے دن کسان نے گھوڑے کو دوائی دی اور چھوڑ دیا، بکری گھوڑے کے پاس گئی اور بولی۔۔۔ دوست ، ہمت کرو،اٹھو ورنہ یہ تمہیں مارڈالیں گے۔۔۔ دوسرے دن کسان نے ایک بار پھر گھوڑے کو دوائی دی اور چھوڑدیا۔۔۔ بکر ی پھر آئی اور کہا۔۔۔ دوست،چلواٹھویا پھر مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ،چلومیں تم کو کھڑا ہونے میں مدد کروں۔۔۔ چلو، ایک دو تین۔۔۔ لیکن غریب اوربیمار گھوڑا کھڑا نہ ہوسکا۔۔۔ تیسرے دن ڈاکٹر آیااور گھوڑے پر ایک نظر ڈالی اور کہا۔۔۔ بدقسمتی سے، ہم کل اسے مار دیں گے ورنہ دوسری صورت میں ،وائرس پھیلے گا تو دیگر گھوڑے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد بکری پھر سے گھوڑے کے پاس آئی اور کہا۔۔۔ یار سنو، اب یا کبھی نہیں، اٹھو،چلو ، ہمت کرو، چلواٹھواٹھو۔۔۔ یہ ٹھیک ہے، آہستہ آہستہ، گریٹ۔۔۔ قدم آگے بڑھاؤ، آہستہ آہستہ۔۔۔ ایک دوتین،شاباش ،اسی طرح چلتے رہو، آہستہ، آرام سے۔۔۔ ویری گڈ۔۔۔ بہترین۔۔۔ اب بھاگو۔۔۔ مزید تیز۔۔۔ اور تیز۔۔۔یس،یس تم کرسکتے ہو، تم ایک چیمپئن ہو۔۔۔ اچانک کسان فارم ہاؤس میں واپس آیا تو گھوڑے کو بھاگتے اور اچھلتے،کودتے دیکھا۔۔۔ وہ مکمل لاعلم تھا کہ بکری کا گھوڑے کو ٹھیک کرنے میں کیا کردار رہا۔۔۔ کسان نے چلانا شروع کردیا۔۔۔ یہ تو معجزہ ہوگیا، میرا گھوڑا ٹھیک ہوگیا۔۔۔ اب میں ایک زبردست قسم کا جشن مناؤں گا، سب کو پارٹی دوں گا۔۔۔ پھر اگلے روز زبردست قسم کی پارٹی ہوئی جس میں مہمانوں کی تواضع’’بکری‘‘ کے گوشت سے کی گئی۔۔۔ اس واقعہ کی دُم یہ ہے کہ۔۔۔ کارپوریٹ کلچر کا دور ہے، جو بھی کام کرو اپنے باس کو ’’سی ، سی‘‘(cc) میں رکھو۔۔۔
کارپوریٹ کلچر کا ایک ہی بھگوان ہے۔۔۔ جسے "پیسہ" کہتے ہیں، پیسے کے حصول کے لئے کارپوریٹ ورلڈ ہر چیز استعمال کرتا ہے۔ خدا کو، مذہب کو، ذات پات، رسوم و رواج،علاقائیت، زبان حتی کہ آسمانی صحائف تک کو اپنی ضرورت کے تحت استعمال کرتا ہے، جیسا کہ اگر اشتہار میں کوئی باشرع شخص سفید لباس پہنے ہاتھ میں تسبیح لے کر بچے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرے اور محبت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر سب کو با ادب سلام کرے تو یہ اخلاقیات سکھانے کا نہیں بلکہ عمرہ ٹکٹ مہنگے داموں بیچنے کا اشتہار ہو گا۔۔۔ اللہ کے نام کے بیس فضائل سنانا مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان فضائل کے بعد اللہ کے نام کا سونے کا بنا ہوا لاکٹ بیچنا مقصود ہوتا ہے۔۔۔ ٹوتھ پیسٹ میں کبھی بھی مسواک کے عرق کی آمیزش نہیں ہوتی ،یہ ڈرامہ صرف ان لوگوں کی قلبی تسکین کے لئے ہوتا ہے جو مسواک اور ٹوتھ پیسٹ کے درمیان کنفیوزڈ رہتے ہیں۔اسی طرح سے بچے کے کان میں اذان دینے والا سین دکھا کرموبائل نیٹ ورک کی صاف آوازکا معاملہ ہویاپشتو میں پخیرراغلے کی آواز سنوانا ہو۔۔۔ سبز چائے سے پٹھان ثقافت کا صدیوں پرانا رشتہ ثابت کرنا ہو یا بیٹی کی وداعی سے میٹریس فوم کا اشتہار چلانا ہو، کارپوریٹ کلچر کسی انسانی جذبے کو نہیں بخشتا۔۔۔ رمضان آ رہا ہے، اچھا کاروبار چلنے والا ہے. یاد رہے کہ ان کی طرف سے لال شربت کے ساتھ "مشروب مشرق" کہنا بھی فائدے سے خالی نہیں ہے۔۔۔
پچھلے دنوں ہمارے ملک میں کافی شور مچا تھا،کھاناخودگرم کرو، یہ لبرل ازم ہے۔۔۔ عام کلچر یہ ہے کہ شوہر حکم دیتا ہے، کھانا گرم کرکے لا۔۔۔ لیکن ہمارا مذہب کہتاہے، آپ رہنے دو خود کھانا گرم کرلیتا ہوں۔۔۔ اسی طرح لبرل کلچر میں بیوی کا غلام بن جانے میں کوئی مضائقہ نہیں، بیوی کو غلام بناکے رکھنا عام کلچر ہے، لیکن بیوی کو بیوی سمجھ کر اسے اس کے تمام حقوق دینا یہ ہمارا مذہب سکھاتا ہے۔۔۔ میاں بیوی میں نفاق ڈالنا ان میں جھگڑا کرانا لبرل ازم کی نشانی ہے، بیوی پر تشدد ہمارے معاشرے کا عام کلچر ہے لیکن ہمارا مذہب سکھاتا ہے کہ بیوی سے حسن سلوک اور محبت سے پیش آیا جائے۔۔۔ لڑکی کو فرینڈ بنانا لبرل کلچر میں عام سی بات ہے، لڑکی کو آنکھیں پھاڑ کے دیکھناہمارے معاشرے کا عام کلچر ہے، لیکن لڑکی کو دیکھ کر نظریں نیچی کرنا صرف اور صرف ہمارا مذہب ہی سکھاتا ہے۔۔۔ لڑکی کا کم لباس لبرل کلچر میں عام سی بات ہے،اپنی لڑکی کو سات پردوں میں چھپاکردوسروں کی لڑکیاں دیکھناہمارے معاشرے کا عام کلچر ہے،لیکن لڑکی کو پردہ کا پابند کرواکر خود بھی آنکھوں کا پردہ کرناصرف ہمارامذہب ہی بتاتا ہے۔۔۔ ایسے کئی معاملات ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے اور گھنٹوں بحث بھی ہوسکتی ہے۔۔۔
اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ دنیا میں وہی لوگ انمول ہیں،جو خیر کی خبر دیتے ہیں، پریشانی میں دلاسہ دیتے ہیں، عقل کی بات کرتے ہیں، تنہائی میں اصلاح کرتے ہیں، کوئی لالچ نہیں رکھتے، ایسے لوگ قیمت سے نہیں، قسمت سے ملتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا، موسیٰ جب میں کسی شخص کو کوئی چیز دینا چاہتا ہوں اور ساری دنیا مل کر اس سے وہ چیز چھیننا چاہتی ہے اور میں جب کسی کو کسی چیز سے محروم رکھنا چاہتا ہوں اور ساری دنیا مل کر اسے وہ چیز دینا چاہتی ہے تو مجھے لوگوں کی کوشش پر بہت ہنسی آتی ہے ۔۔۔ ہم یہ نکتہ سمجھ لیں، ہم اگر موت کو اپنا دوست بنا لیں تو موت ہمیں روزانہ یہ بتائے گی، اے بے وقوف شخص تم غم نہ کرو، یہ اگر تمہارا نصیب ہے تو کوئی اسے تم سے چھین نہیں سکے گا اور یہ اگر تمہارے نصیب میں نہیں تو یہ تمہیں کبھی نہیں مل سکے گا، شکر کرو، توبہ کرو اور خوش رہو،زندگی بس یہی ہے۔


ای پیپر