شنگھائی تعاون تنظیم اور ون بیلٹ ون روڈ
26 اپریل 2018 2018-04-26

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کیلئے بنائی گئی تنظیم ہے جسے شنگھائی میں 2001ء میں قائم کیا گیا۔ایس سی اومیں چین، روس،قازقستان، کرغیزستان اورتاجکستان شامل تھے۔ ان پانچ ممالک کی وجہ سے اسے شنگھائی فائیو کا نام دیا گیا تاہم جب ازبکستان اس میں شامل ہوا تو اس کا نام بدل کر شنگھائی تعاون تنظیم رکھ دیاگیا۔پاکستان 2005ء سے اس تنظیم کا مبصر ملک تھا جو باقاعدگی سے اجلاسوں میں شریک ہوتا رہا۔ 2010ء میں پاکستان کی طرف سے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کیلئے درخواست دی گئی جس پر جولائی 2015ء میں اوفا اجلاس میں پاکستان اور بھارت کی طرف سے رکنیت کیلئے دی گئی درخواست منظور کر لی گئی اور دونوں ملکوں کی تنظیم میں باقاعدہ شمولیت کیلئے طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وطن عزیز پاکستان کی مذکورہ تنظیم میں شمولیت سے رکن ممالک کی تعداد آٹھ ہو گئی۔ جب پاکستان نے تنظیم کی رکنیت کیلئے ’’ذمہ داریوں کی یادداشت‘‘ پر دستخط کئے تویہ اس کا مستقل رکن بن گیا۔ 9 جون 2017ء میں پاکستان اور بھارت کو تنظیم کی مستقل رکنیت دی گئی۔اگرچہ بھارت بھی ’’ایس سی او‘‘ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن چکا ہے تاہم اس کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا

جارہا بلکہ وہ خود خطہ میں دہشت گردی پروان چڑھانے میں مصروف ہے۔پاکستان کا تو وجود بھی انڈیا کسی طور برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ہمیشہ دہشت گردی و تخریب کاری کے ذریعہ وطن عزیز پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے والا بھارت ایک مرتبہ پھر وہی ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کیلئے بھارتی ایجنسیوں نے بلوچستان، سندھ و دیگر علاقوں میں لسانیت و صوبائیت پرستی کی بنیاد پر تحریکیں کھڑی کیں اورتخریب کاری کیلئے اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ ملک میں دھماکے اور خود کش حملے پروان چڑھانے کیلئے کلبھوشن جیسے نیٹ ورک قائم کئے گئے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی گئیں بلکہ سرحدی علاقوں میں قونصل خانوں کے نام پر دہشت گردی کے اڈے قائم کئے گئے۔ بھارتی فوج یہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دے کر پاکستان کے مختلف علاقوں میں داخل کر رہی ہے جو یہاں تخریب کاری و دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ کوئٹہ، پشاور، کراچی، لاہور اور اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کا کوئی شہر بھارتی ایجنسیوں کی تخریب کاری سے محفوظ نہیں رہا ۔پاکستانیوں نے ہزاروں شہداء کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ سانحہ پشاور اے پی ایس جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ دہشت گردمعصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے رہے تاہم افواج پاکستان اور دفاعی اداروں نے پچھلے چند برسوں میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور بے پناہ قربانیاں پیش کر کے ملک دشمن ایجنسیوں کے نیٹ ورک بکھیر کر رکھ دیے ۔ اگرچہ اب بھی کبھی کبھار دہشت گرد کوئٹہ جیسے دھماکے کر کے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہواہے اور اس کامیابی کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر اور معاشی طور پر ملک کو مضبوط ہوتا دیکھ کر بھارت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسے اب تک یہاں تخریب کاری کیلئے خرچ کئے گئے اپنے اربوں روپے ضائع ہوتے نظر آرہے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی انڈیا کو برداشت نہیں ہو رہا۔ جنوبی ایشیا میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل یہ منصوبہ جوں جوں تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے انڈیا کے اوسان خطا ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس منصوبہ کو ’’گیم چینجر‘‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سی پیک کے ذریعہ چینی علاقے کاشغر سے شروع ہونے والا یہ تجارتی راستہ پاکستانی بندرگاہ گوادر تک پہنچے گا۔چین آبنائے ملاکہ جو انڈونیشیا اور ملائشیا کو علیحدہ کرتی ہے اور چین سے لے کر ویت نام ،ہانگ کانگ سے تائیوان اور جنوبی کوریا سے جاپان تک تمام ممالک کا تجارتی راستہ ہے اس پر انحصار کم کر کے ایک چھوٹا تجارتی راستہ بنانا چاہتا ہے تاکہ دنیا بھر میں چینی مصنوعات کم خرچ اور کم وقت میں پہنچ سکیں۔ آبنائے ملاکہ سے چینی تجارتی سامان کو یورپ اور دیگر منڈیوں تک پہنچنے میں پینتالیس دن لگتے ہیں جبکہ کاشغر تا گوادر اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد یہ سفر کم ہو کر دس دن کا رہ جائے گا۔پاکستان کو اس راہداری سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہو کر معاشی ترقی اور ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک تک کا سفر تیزی سے طے کر سکے گا۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ صرف گوادر تا کاشغر اقتصادی راہداری کی تکمیل ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ مل کرا سی طرح کے سمندری تجارتی راستے بھی کھولے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھائے جاسکیں۔ سی پیک سے پاکستان کے تمام صوبوں کو فوائد حاصل ہوں گے اور ملک میں امن وخوشحالی کا ان شاء اللہ ایک نیا دور آئے گا۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ناکامی سے دوچار کرنے کیلئے انڈیا نے باقاعدہ ایک سیل قائم کیا ہے جس کی نگرانی ہندوانتہاپسند تنظیم بی جے پی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دست راست اجیت دوول کر رہے ہیں۔ بھارت اس سے قبل بھی پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینئروں کے قتل کی سازشیں کرتا رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ دونوں ملک بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بھارت سرکار کی سازشوں کو سمجھتے ہیں اس لئے پاک چین دوستی کمزور ہونے کی بجائے دن بدن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھارت سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاہم یہ سب سازشیں دم توڑ رہی ہیں۔چینی سفیر نے چند دن قبل چینی سفارت خانے میں اپنی گفتگو کے دوران جہاں پاکستان میں اپنے ملک کے باشندوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کی ہے کہ یہاں ان کیلئے سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے وہیں انہوں نے بھارت کا نام لئے بغیر یہ بات بھی کہی ہے کہ بعض ملک سی پیک منصوبہ کو ہر صورت ناکام کرنا چاہتے ہیں۔چین کی سٹیٹ کونسل نے تین سال قبل ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا اعلان کیا جس کے تحت سنٹرل ایشیا، جنوب ایشیا اور عرب علاقوں تک تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سڑکوں، ریل، پائپ لائنز اور توانائی مراکز قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیاہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ چین کا یورپ کے ساتھ رابطہ ہو گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرہند، خلیج فارس اور بحیراوقیانوس سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے چین ون بیلٹ ون روڈ کے ساتھ میری ٹائم سلک روڈ کو بھی تعمیر کر رہا ہے تاکہ دنیا کے 60سے زائد ممالک کے درمیان سڑک، ریل کے علاوہ سمندری راستوں کے ذریعے بھی تجارتی سرگرمیاں بڑھانے میں مدد حاصل ہو۔سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے کچھ عرصہ قبل بیجنگ کانفرنس میں واضح طور پر کہا تھا کہ سی پیک منصوبہ سے خطے کے تمام ممالک استفادہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن چانکیائی سیاست پر عمل پیرا بھارت نے خود کو اس منصوبہ سے بالکل الگ تھلگ رکھا ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت سڑکیں آزاد کشمیراور گلگت سے گزریں ۔ حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے اجلاس میں وزرائے

دفاع نے امن و استحکام، ترقی و خوشحالی اور امن کیلئے مشترکہ برادری بنانے کیلئے شنگھائی سپرٹ کی حمایت کی ہے۔یہ تنظیم کا پندرھواں اجلاس تھا جس میں پاکستانی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے اپنے شہریوں اور فوجیوں کی قربانیوں کی قیمت پر اپنی سرزمین سے دہشت گردی ختم کی ہے جبکہ مالی طور پر اس جنگ میں 120ارب ڈالرز سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں شورش و بدامنی سمیت داعش کی موجودگی ہمسایوں اور خطہ کیلئے عدم تحفظ کا باعث ہے۔ اس وقت خطہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں تشدد و شدت پسندی، غربت، منشیات، پناہ گزین، انسانوں کی سمگلنگ اور بارڈرز کنٹرول شامل ہیں۔ اجلا س سے ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی خطاب کیا اور ایک مرتبہ پھر صاف طور پر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ میں شامل ہونے سے انکار کیا ۔ بھارت کا اس منصوبہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ اقتصادی راہداری کے اس منصوبہ کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ سشما سوراج کی ون بیلٹ ون روڈمنصوبہ کی مخالفت اور پاکستان کے خلاف زہرآلود باتوں سے انتہاپسند بھارتی حکومت کے ارادے کھل کر واضح ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی انڈیا کی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرے اور دنیا کو بتائے کہ جب تک بھارت کی تشدد پر مبنی پالیسیاں جاری رہیں گی خطہ میں دہشت گردی پر قابو پاناکسی طور ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر