جماعت اسلامی: بیانیہ اور سیاسی حکمت عملی ؟
26 اپریل 2018

سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں ارکان پارلیمنٹ کی خریدو فروخت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق صاحب کے تازہ انکشاف نے پاکستان کی سیاست اورسینیٹ کے انتخابات کی غیر شفافیت پر مہر ثبت کردی ہے۔ جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے۔ اس کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ لیکن سراج الحق صاحب سے دروغ گوئی کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ منصورہ میں پانچ روزہ تربیتی نشست اور میڈیا سے خطاب اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے انہیں فون کرکے سینیٹ انتخابات میں حمایت کا کہا ، جب کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ذاتِ خصوصی کون ہے۔ بعد ازاں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کے لیے کہا گیا ، جب استفسار کیا کہ ان ہی کو ووٹ کیوں دینا ہے تو جواب ملا اوپر سے حکم آیا ہے۔ سراج الحق صاحب نے چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کیا وہ نو منتخب سینیٹرز کو بلا کر حلف لیں کہ انہوں نے ووٹ نہیں خریدے۔انہوں نے حقیقی اور کڑے احتساب کا بھی مطالبہ کیا ۔ غور طلب یہ پہلو ہے کہ پی ٹی آئی پر اس قدر سخت تنقید کرنے کے باوجود جناب سراج الحق صاحب کے پی کے حکومت کا ہنوز حصہ ہیں۔
سیاسی جوڑ توڑ میں سیاسی افراد کی خریدوفروخت پر جماعت اسلامی کے اس بیانیے کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن نظریاتی کرپشن اور اپنی سیاسی قوت کو کبھی کس پلڑے میں اور کبھی کسی پلڑے میں ڈالنا بھی اسی طرح قابلِ مذمت ہے جس طرح اپنی سیاسی حیثیت کا مالی بھاؤ لگوانا ہے۔ ہماری سیاسی قیادتوں نے ’’ سیاست میں مستقل دوست ہوتے ہیں نہ مستقل دشمن‘‘ جیسے مقولے تراش رکھے ہیں۔ جسے ہرایسے موقع پر دہرایا جاتا ہے جب ’’وسیع ترقومی مفاد‘‘ میں سیاسی حلیف بدلنا ہو۔ اسی طرح کی نظریاتی کرپشن کی بے شمار مثالوں سے ہمارے ملک کی سیاسی و علمی تاریخ بھری پڑی ہے ۔
سراج الحق صاحب نے مالی مفادات کے عوض سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو تو معتوب ٹھہرایا ہے لیکن نظریاتی کرپشن اور جماعت اسلامی کے بدلتے مفاہمتی اور اتحادی عمل کے حوالے سے آج تک جماعت کی جانب سے واضح مؤقف نہیں دیا گیا ہے۔
جناب سراج الحق صاحب نے قوم کو ایک بار پھر بآور کرایا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل نظام مصطفیؐ میں ہے۔ نظامِ مصطفیؐ کے حوالے سے بھی جماعت اسلامی کی تاریخ نہایت دلچسپ ہے۔ جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے غلبے کے نام پر ۱۹۷۰ء کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور یحییٰ خان جیسے ’’صاحب کردار‘‘ کو امیر المومنین کے خطاب سے نوازا۔ ۱۹۷۱ء میں اسی ’’امیر المومنین‘‘ نے مشرقی پاکستان میں ظلم و ستم برپا کرکے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ جماعت اسلامی نے ان ظالمانہ کارروائیوں کی مخالفت کرنے کی بجائے بھرپور حمایت کی تھی۔ ۱۹۷۷ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کی حکومت پر انتخابی دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر ملک گیر تحریک کا جماعت اسلامی مرکزی کردار ادا رہی۔ جب دھاندلی کی تحریک زور نہ پکڑ سکی تو نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے نعرے سے اس تحریک میں روح پھونک کر نظام مصطفیؐ کے نفاذ کی علمبردار بن کر سامنے آئی۔ اس نظام مصطفی ؐکے بطن سے ضیاء الحق صاحب کی ’’شریعت‘‘ نے جنم لیا۔ جماعت نے ابتداء میں ضیاء مارشل لاء کی مخالفت کی ۔لیکن جلد ہی ضیاء کابینہ کا حصہ بن گئی۔ روس نے جب افغانستان میں فوج کشی کی تو ’’کفر واسلام‘‘ کے اس جہاد سے فوائد سمیٹنے والوں میں بھی جماعت سرفہرست رہی۔
سراج الحق صاحب نے تحریک انصاف کے اس عمل کی سخت مخالفت کی کہ انہوں نے ’’اوپر‘‘ کے حکم پر صادق سنجرانی صاحب کو ووٹ دیا ہے اور آمریت مسلط کرنے والے اژدہوں کے دانت توڑ دینے کے جذبات کا اظہار کیا ۔ لیکن ستمبر 1988ء میں پیپلز پارٹی کے خلاف اسی ’’اوپر‘‘ کے اشارے پر جب اسلامی جمہوری اتحاد آئی جے آئی کا قیام عمل میں آیا تو جماعت اسلامی اس اتحاد کا مکمل طور پر حصہ تھی۔ اس اتحاد کی تشکیل میں اسٹیبلشمنٹ نے سرکاری خزانے کی رقوم کو اپنے پیادوں میں تقسیم کیا ۔ اس حوالے سے جناب اصغر خان مرحوم کی جانب سے دائر کیا گیا کیس آج بھی عدالت عظمیٰ میں زیرالتواء ہے ۔ جماعت اسلامی کی کسی بھی قیادت نے آئی جے آئی کی تشکیل میں روپوؤں کی بندر بانٹ پر لب کشائی نہیں کی ہے۔پرویز مشرف دور میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا پرویز مشرف کی آمریت میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینا، آئین کی سترہویں ترمیم کی حمایت کرنا اور پارلیمنٹ میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی اکثریت کے باوجود جنرل مشرف سے ساز باز کرکے اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمٰن کو نامزد کروانا ، یہ کارنامے بھی جماعت اسلامی کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ جماعت اسلامی نے ۲۰۰۸ء میں ہونے والے انتخابات کا پہلے بائیکاٹ کیا اور بعد میں بھرپور حصہ لیا ۔ ۲۰۱۳ء کے انتخابات میں انفرادی حیثیت سے حصہ لیا لیکن درون خانہ تحریک انصاف سے بھی اتحاد رکھا جو باضابطہ طور پر انتخابات کے نتائج کے بعد قوم کے سامنے آیا۔ اسی دوران آزادئ کشمیر کی ’’جنگ میں مؤثر کردار‘‘ ادا کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نواز کے اتحادی و حلیف بھی بن گئی۔ پانامہ سکینڈل کے سامنے آنے پر نواز شریف کے خلاف پٹیشن دائر کی لیکن سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ مسلم لیگ (ن) کو دیا۔ نظام مصطفی کی تحریک ، ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ، آئی جے آئی ، متحدہ مجلس عمل ، پھر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سے صوبائی و علاقائی بنیادوں پر اتحاد۔ ان تمام میں قومی و صوبائی اسمبلی کی چند نشستوں کے حصول کی خواہش کے سواکوئی نظریاتی مماثلت دور تک نظر نہیں آتی ہے۔ جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا یہی حال ہے ۔ پاکستان میں جمہوری حکومتوں کا کامیاب نہ ہونا بھی ان جماعتوں کے مفاداتی طرز عمل کا نتیجہ ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قومی سیاست میں شامل ہونے والی نئی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے بھی قومی و ملکی مسائل کے حل کے باقاعدہ پروگرام دینے کی بجائے اداروں کے ساتھ یکجہتی کی قسمیں اور ایفائے عہد باندھے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے۔ جو ملک کے عوامی مسائل کے حل کے لیے اقتدار کو مشروط سمجھتی ہے اور ساتھ ہی دین کو سیاست سے جدا کردینے کو بھی چنگیزی سمجھتی ہے۔غلبۂ اسلام کیلیے آئینی و جمہوری جدوجہد جماعت اسلامی کا بنیادی نکتہ رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے جماعت اقتدار کی سیاست میں ناکامی سے دوچار ہوتی گئی اس نے انتہا پسندی کے بیانیے کی بنیاد پر سیاست کو اختیار کیا ۔ یہ سلسلہ قاضی حسین احمد مرحوم اور سید منور حسن سے بتدریج شروع ہوتا ہوا جناب سراج الحق تک بھرپور توانا ہوچکا ہے۔ رہی سہی کسر جماعت کے ان اتحادوں نے پوری کردی جو تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) سے بیک وقت عمل میں آئے۔ نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والی جماعت کا قومی سیاست میں مفاداتی طرز عمل ہماری سیاسی روایات میں کوئی قابلِ قدر اضافہ نہیں کرپایا ہے۔ حالانکہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل سازی کے لیے مختلف سیاسی و دینی نظریات کی حامل جماعتوں کا وجود ضروری ہے تاکہ مثبت اختلاف رائے سے نکھرتے معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکے۔
حالیہ سینیٹ انتخابات ہماری قومی سیاست کی صرف ایک جھلک ہیں۔ جب تک ہماری سیاسی جماعتیں قومی مفاد میں مستقل پالیسی اختیار نہیں کریں گی۔ اس وقت تک ملک میں جمہوری حکومتوں کا تشخص اسی طرح پامال ہوتا رہے گا۔


ای پیپر