افغان کیمپ سکولوں میں پاکستان مخالف نصاب کا انکشاف
26 اپریل 2018

پاکستان کے سرحدی علاقے خیبر پختونخوا میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے زیر انتظام چلنے والے افغان مہاجرین کے سکولوں میں مبینہ طور پر پاکستان مخالف نصاب پڑھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے حال ہی میں مہاجرین کیمپوں میں قائم 101 سکولوں میں افغان بچوں کو پڑھائے جانے والے نصاب میں تبدیلی کی ہے۔ نصاب میں تبدیلی کے لئے حکومت پاکستان کی منظوری نہیں لی گئی ہے۔ اب اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نئے نصاب میں بھارت کو افغانستان کے دوست ملک کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور گلگت بلتستان اور کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔حکام نے نئے نصاب میں شامل کی گئی کئی دیگر باتوں کو بھی قابل اعتراض قرار دیا ہے۔
محکمہ داخلہ وقبائلی امور خیبر پی کے نے افغان کمشنریٹ کو شکایتی مراسلہ ارسال کیا ہے جس کے مطابق خیبر پی کے میں افغان مہاجرین کیلئے قائم کمیونٹی پرائمری سکولوں کیلئے یو این ایچ سی آر کی جانب سے نصاب کی تبدیلی سے پہلے وفاقی و صوبائی حکومت سے اجازت طلب نہیں کی گئی۔ نئے نصاب میں افغان مہاجرین کے بچوں کو سکولوں میں پاکستان کے بارے میں گمراہ کیا جارہا ہے۔نئے نصاب میں انگلش کی کتابوں میں ہر ایک صفحے پر افغانستان کا جھنڈا نمایاں ہے۔ جماعت ششم کی سوشل سٹڈیز کی کتاب میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے متنازع علاقوں کو انڈیا کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے اس کے علاوہ انڈیا کو افغانستان کے دوست ملک کے طور پر نمایاں جبکہ پاکستان افغان بارڈر کو ڈیورنڈ لائن ظاہر کیا گیا ہے۔
چیف کمشنر افغان مہاجرین نے کہا کہ ہمارے پاس وزیرا عظم سیکرٹریٹ ، وزارت داخلہ اور خیبر پختو نخوا حکومت سے اس معاملے پر تین ریفرنس آئے تھے۔ہم نے اپنی ٹیمیں بنائی تھیں جنہوں نے نصاب چیک کیا لیکن اس طرح کا کوئی نصاب نہیں پڑھایا جا رہا ۔ یہ ایک غلط فہمی تھی۔ وہاں حکومت سے منظور کردہ سلیبس ہی پڑھایا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں افغان مہاجرین کے سکولوں میں پاکستان مخالف نصاب پڑھائے جانے سے متعلق معاملے پر بھی بحث کی گئی ۔ رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا کہ یہ معاملہ اخبارات میں بھی آیا تھا ۔ وزارت داخلہ اور خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس سلسلے میں ایک خط لکھا تھا ۔ اگر یہ معاملہ نہیں تھا تو یہ مسئلہ کیوں اٹھا ۔ کیا کتابوں کو چیک کیا گیا ۔ یہ ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ رہا ہے۔ بھارت کو معلوم ہے کہ ایک نہ ایک دن تو ان افغان مہاجرین نے اپنے ملک میں آنا ہے اور ملکی باگ ڈور سنبھالنی ہے لہٰذا وہ افغانوں کی اگلی نسل کو پاکستان کے خلاف کرنے اور اپنی محبت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہٰذا ملی بھگت سے افغان مہاجرین کے بچوں کو پاکستان مخالف نصاب پڑھا کر انہیں ابھی سے پاکستان کے خلاف بڑھکا رہا ہے۔ جہاں تک افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں شدید دہشت گردی، تخریب کاری اور عدم استحکام پیدا ہوا اْس کا اپنا ایک تاریخی پس منظر ہے۔بھارت 1947ء میں برصغیر کی تقسیم سے ہی پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اس کی پرتشدد کارروائیاں بلوچستان و وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری ہیں۔ یہ تمام کارروائیاں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ RAW سرانجام دیتی ہے جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر اس حد تک کمزور کرنا ہے کہ وہ خطے میں بھارتی بہیمانہ عزائم کی راہ میں رْکاوٹ نہ بن سکے۔ بھارت افغانستان میں قونصل خانوں کے نام پر تیزی سے ’’را‘‘ کے مراکز قائم کر رہا ہے ۔ انہی مراکز کے ذریعے پاکستان اور افغانستان سے باغیانہ سوچ رکھنے والے بلوچ نوجوانوں کو بھرتی کرکے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ طالبان اور القاعدہ کے خلاف آپریشن کو بھی اسی طرح منصوبہ بندی سے افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ملک میں بے یقینی کی فضا پیدا کی جا سکے۔ ان حالات میں پاک افغان سرحد کے دونوں طرف آباد قبائل کی آزادی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیاہے۔ ’’را‘‘ بلوچستان میں شدت پسندوں کو بھڑکانے اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کیلئے افغان وزارت داخلہ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی ’’خاد‘‘ KHAD جس کا نام ’’رام‘‘ RAM ہے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ 1980ء کے وسط میں ’’را‘‘ نے کاؤنٹر انٹیلی جنس ٹیم ایکس (CIT۔X) اور کاؤنٹر انٹیلی جنس ٹیم جے (CIT۔J) کے ناموں سے دو خفیہ گروپ بنائے جن کا مقصد پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملے کرناتھا۔
’’را‘‘ کیلئے کام کرنے والے افراد میں نہ صرف بھارتی سیاستدان شامل ہیں بلکہ افغانستان میں تعمیرنو کیلئے آنے والی بھارتی تعمیراتی کمپنیوں کے ملازمین میں بھی اس کے تربیت یافتہ جاسوس موجود ہیں۔ 2009ء میں 3 بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل میں بھی ’’را‘‘ ملوث تھی ۔ یہ رہنما بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے اغوا کئے گئے اقوام متحدہ کے پاکستان میں نمائندہ جان سولیکی کو رہا کروانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ جاسوسوں کا مقصد بلوچستان میں قیام امن کی کوششوں کو ناکام بنانا اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو رقوم کی ترسیل ہے۔ ’’را‘‘ اس وقت بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس کیلئے وہ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) کی مدد کر رہی ہے۔یہ کہنا غلط نہیں کہ افغان حکومت سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر
عائد کررہی ہے۔ پڑوسی ملک اس حقیقت کو عملاً نظر انداز کرنے کا مرتکب ہورہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جس قدر قربانیاں پاکستان نے دیں اس کی دوسری مثال دنیا بھر میں ملنی مشکل ہے۔ افغان حکام اپنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کرنے کی بجائے ان حلقوں کو خوش کرنے پر عمل پیرا ہیں جو خالصتاً بھارت کے زیر اثر ہیں۔ بعض باخبر حلقوں کے مطابق اشرف غنی اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بھی پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
افغان حکومت کا پاکستان بارے رویہ عملاً احسان فراموشی کا پتا دے رہا ہے۔ اشرف غنی آگاہ ہیں کہ اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں میں اس انداز میں قیام پذیر ہیں کہ اس سے عملاً عام پاکستانی مسائل سے دوچار ہے۔ کابل کو اگر پاکستان سے شکوے شکایات کسی بھی سطح پر ہیں تو اس کے اظہار کے کئی طریقے موجود ہیں۔ بھارت کی اپنی چالوں سے افغان عوام میں پاکستان دشمنی کے بیج پہلے سے موجود ہیں چنانچہ کھلے عام تنقید سے ایسے تشدد پسند عناصر مزید تقویت پکڑ سکتے ہیں جن کا مفاد ہی کشت وخون سے وابستہ ہے۔


ای پیپر