شاہی قلعہ سے جلو پارک
26 اپریل 2018 2018-04-26

’’جیپ رک گئی اور مجھے اس سے نیچے اتارا گیا ۔میری آنکھوں پر پٹی بندھی تھی اوراندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ مجھے کہا ں لایاگیا ہے۔سپاہیوں نے مجھے دونوں بازوؤں سے پکڑ رکھا تھا،پھر ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک کمرے میں داخل ہوئے اور میری آنکھوں سے کپڑا ہٹا دیا گیا۔سامنے ایک بڑی میزکے پیچھے بیٹھا شخص مجھے مسلسل گھور رہا تھا۔وہ غرایا! مجھے انسپکٹر درانی کہتے ہیں ۔تم اس وقت شاہی قلعہ میں ہو ، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ یہاں کوئی مجرم زندہ نہیں رہ سکتا ۔یہاں تو ہاشم اور اشرف جیسے سخت جان بھارتی کمانڈو بھی سختیاں برداشت نہ کر پائے تم کیا شئے ہو۔میری بات غور سے سنو ،تم ہماری مدد کرو۔ ہم جہاں کہیں ہمارے ساتھ چلو ،جہاں بھی اسلحہ ہوگا بس تمہاری اس کے ساتھ تصویریں بنائیں گے ۔تم ہماری بات مانو اور یہ بیان دوکہ میں ایک عسکری ونگ چلاتا ہوں اور اگر تم مولانا مودودی اور میاں طفیل کانام لے لو تو تمہارا ہی فائدہ ہے ۔ میں تمہیں رہائی دلانے کی نہ صر ف اعلیٰ حکام سے سفارش کروں گا بلکہ تمہیں انعام بھی دلواؤں گا۔میں نے جواب دیا جن بزرگوں کا آپ نام لے رہے ہیں وہ پاکیزہ ترین ہستیاں ہیں۔میں ان پر جھوٹا الزام لگا کر اپنی عاقبت برباد نہیں کر سکتا ۔ میرے
اس جواب پر انسپکٹر تلملاگیا ، ایک جھٹکے سے اٹھا اور مجھے بالوں سے پکڑ کر زور زور سے تھپڑ مارنے لگا ، وہ گالیوں کی گردان بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔اسی دوران میں ایک سپاہی نے میری کمر پر زور سے لات رسید کر کے مجھے نیچے گرا دیا ، پھر دیگرپولیس اہلکار پل پڑے اور لاتوں ، گھونسوں اور گالیوں کی برسات شروع ہو گئی ۔ ان اہلکاروں نے میرے کپڑے اتار کر مجھے بے لباس کر دیا ۔ دو اہلکارموٹے بید لیے آگے بڑھے اور میرے جسم پر مشق ستم شروع کر دی ۔میری چیخوں سے شاہی قلعہ کے در و دیوار بھی لرز رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک اہلکار ہاتھوں میں موٹر نما مشین لیے میری طرف بڑھ رہا ہے، مشین سے بجلی کے ننگے تار لٹک رہے تھے۔درانی کے اشارے پر اس نے وہ مشین چلانی شروع کی اور دوسرے اہلکاروں نے ننگے تاروں کو میرے جسم سے لگا دیا ۔مجھے شدید کرنٹ کے جھٹکے لگ رہے تھے اور میری چیخیں نکل رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے اس قدر مارا کہ وہ خود بھی تھک کر چو ر ہو گئے اور ہانپنے لگے، پھر وہ مجھے گھسیٹتے ہوئے لے گئے اور قلعہ کے تہ خانے میں ایک تاریک اصطبل نما کوٹھری میں بند کر دیا ، میں بے سدھ ہو کر گر پڑا ۔جب آنکھ کھلی تو سب لوگ جا چکے تھے اور شاہی قلعہ میں رات کے اندھیرے پھیل رہے تھے....‘‘
صاحبو! یہ آپ بیتی کسی دہشت گرد، اجرتی قاتل یا ڈاکو کی نہیں ایک محب وطن فرزندجاویداحمد بٹ کی ہے جنہوں نے اس ملک کی خاطر شاہی قلعہ کی اذیت ناک قید کاٹی۔ یہ دل فگاررُوداد عشق ووفا ’’ شاہی قلعہ سے جلو پارک ‘‘کے عنوان سے شائع ہوئی
۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اس قوم اور ملک کی خاطر کیسے کیسے لوگ قربانیاں دے گئے‘ کتنے ہی لوگوں کی جوانیاں شاہی قلعہ جیسے دہشت ناک عقوبت خانے میں بسر ہو گئیں۔ان مشاہیر نے اپنی ساری زندگی محض اس جدوجہد میں صرف کر دی تھی کہ کبھی تو سحر طلوع ہوگی ، صبح کے اجالے پھیلیں گے ، وطن عزیز سے ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہوگا اور اس دھرتی کے چہرے پر حقیقی نکھار آئے گا لیکن افسوس کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ان لوگوں میں جو زندہ ہیں اب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوں گے تو ضرور کف افسوس ملتے ہوں گے کہ حالات پہلے سے بھی ابتر ہیں ،کچھ بھی تو نہیں بدلا،وہی چہار سو ظلمت شب کا راج ہے۔
سچ پوچھیے تو آج بھی جب شورش کاشمیری کی پس دیوارزنداں، تمغہ محبت ،موت سے واپسی، مزدور لیڈرقمر یورش کی رودادِ قفس’’ شاہی قلعہ سے جیل تک‘‘اور راجہ انور کی ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘یاجاوید ہاشمی اور رانا نذر الرحمن کی روداد قفس یا اسی نوعیت کی دوسری آپ بیتیاں کسی بھی باشعور قاری کے سامنے آتی ہیں تو وہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کم از کم یہ لوگ دورِ حاضر کے مفاد پرست اور اغراض دوست ماحول سے تو بدرجہا بہتر تھے ۔ یہ دائیں بازو کے لوگ تھے یا بائیں بازو کے ،تحریک نظام مصطفی کے علمبردار تھے یا سوشلز م اور بھٹوازم کی خاطر جیلوں میں گلنے سڑنے والے، یہ نظریاتی لوگ بہرحال قابل قدر تھے کہ انہوں نے کم از کم ذاتی مفاد،طمع یا لالچ کے لئے نہیں کسی مقصد اور وژن کی خاطر توزندگی گزاری تھی۔ اس دور میں سیاست ایک مشن تھا اوریہ بااصول لوگ تھے جو ایک واضح نظریہ رکھتے تھے ۔’’ شاہی قلعہ سے جلو پارک ‘‘ ایک ایسی ہی رُودادہے جو ایک محب وطن سیاسی کارکن کے جذبوں کو زبان عطا کرتی ہے ۔ جاوید احمد بٹ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ شاہی قلعہ میں ایک جید عالم دین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے برہنہ کر دیا گیا ، پھر اس برہنگی کی حالت میں ایک طوائف ان کے کمرے میں بھیج دی گئی تاکہ اس عورت کے ساتھ ان کی تصا ویر بنائی جائیں لیکن وہ عورت جو گناہ کی زندگی میں مبتلارہنے والی تھی اس نیک ہستی کو دیکھ کر اپنا پیشہ اور بداطواری بھول گئی تھی اوراس نے اپنا دوپٹہ اس عالم ربانی کے اوپر ڈال کرریاستی اداروں کو واشگاف الفاظ میں کہہ دیاتھا وہ کبھی بھی اس گھناؤنے فعل کا حصہ نہیں بن سکتی۔
جاوید احمد بٹ جلو پارک لاہور کے رہائشی ہیں‘شہر بھر میں ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایک سرگرم سیاسی کارکن کے طور پر ڈیموکریٹک یوتھ فورس میں فعال کردارا دا کیا ۔1974اور77ء میں شاہی قلعہ میں قید رہے ۔چونا منڈی اور قربان لائن کے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کیں۔77ء میں رہائی کے بعد خودساختہ جلاوطنی کے دوران لیبیا کی قاریونس یونیورسٹی میں سیکرٹری ڈیپارٹمنٹ تعینات ہوئے۔صحافت سے بھی خاص شغف رہا اورایک جریدے’ ضرب‘ کی ادارت کرتے رہے۔ جس وقت روزنامہ جسارت سنسر شپ اور بندش کی زد میں آیا تو اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی ۔ مزدور لیڈر مختار رانا کو قید میں ڈالا گیا تو ان کی رہائی کی خاطرسڑکوں پر نکلنے والوں میں جاوید احمد بٹ بھی سرفہرست تھے ،انہوں نے اس موقع پر لاٹھیاں کھائیں اورپولیس اہلکاروں کی جانب سے اپنی توہین برداشت کی۔ ’’ شاہی قلعہ سے جلوپارک‘‘ان کی خود نوشت ہے جس میں انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد بیان کی ہے اورنجی زندگی میں پیش آنے والے دیگر حالات و واقعات بھی ۔سیاست کے طالب علموں اور محب وطن حلقوں کو اس منفرد اور فکر افروز کتاب کا مطالعہ ضرورکرنا چاہیے۔


ای پیپر